محمد
صائم قریشی (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ ابوعطار، ملیر کراچی ، پاکستان)
اسلام
ایک کامل، اکمل اور ایک ایسا دین ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی کرتا ہے۔
معاشرتی زندگی میں جہاں افراد کے حقوق بیان کیے گئے، وہیں اجتماعی زندگی، خاص طور
پر مجالس و محافل کے بھی کچھ آداب اور حقوق مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ آداب محض ظاہری
نہیں بلکہ انسان کے اخلاق، فہم و شعور، اور تعلقات کو نکھارنے کا ذریعہ ہیں۔ مجلس
کے حقوق میں سے چند پیشِ خدمت ہیں:
1.
سلام سے مجلس کی ابتدا اور اختتام کرنا: اسلامی معاشرے میں سلام
کو رواج دینا محبت، امن اور اخلاص پھیلانے کا ذریعہ ہے۔ مجلس میں آنے اور جانے
دونوں وقت سلام کرنا سنت ہے چنانچہ خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا: " إذا انتهى أحدكم إلى مجلس فليسلم، فإذا أراد أن يقوم
فليسلم، فليست الأولى بأحق من الآخرة" ترجمہ:جب تم میں سے کوئی
مجلس میں آئے تو سلام کرے، اور جب اٹھنے لگے تو بھی سلام کرے، کیونکہ پہلا سلام
دوسرے سلام سے زیادہ حق دار نہیں۔(سنن ابی داؤد:ج 5،رقم: 5208)
2. مجلس میں وسعت پیدا کرنا: اسلام
نے ہمیں یہ بھی سکھایا کہ جب کوئی دوسرا شخص مجلس میں آئے تو اُسے بیٹھنے
کے
لیے جگہ دینا نہ صرف اخلاقی رویہ ہے بلکہ باعثِ برکت بھی ہے ۔اللہ پاک نے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ
اللّٰهُ لَكُمْۚ ترجمہ
کنز العرفان: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو
جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا۔(پ28، المجادلہ: 11)
سلام
کرنا اور مجلس میں جگہ کشادہ کرنا محبت بڑھانے کا بھی ذریعہ ہے چنانچہ مفتی احمد یار
خان نعیمی نے مرقات کے حوالے سے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا
:"کہ تین چیزیں محبت پیدا کردیتی ہیں: ان میں سے سلام کرنا ، اپنے مسلمان
بھائی کو مجلس میں جگہ دے دینا۔(ملخصاً مرآۃ المناجیح،ج 6، تحت الحدیث:4646)
3.
مجلس میں بیٹھنے کا ادب:مجلس کے حقوق میں سے یہ ہے کہ جو جہاں بیٹھا ہے، اُسے
وہاں سے نہ ہٹایا جائے۔ دوسروں کے وقار اور احساسات کا خیال رکھنا ایمان کا تقاضا
ہے۔
حضرت
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور ﷺ نے فرمایا :لا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ
يَجْلِسُ فِيهِ۔ ترجمہ:کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود
نہ بیٹھے۔(صحیح بخاری:ج8، رقم 6269)
4.
اچھی بات کہنے یا خاموش رہے:مجالس میں شرکت کرنے والا شخص یا
تو علم، خیر یا نصیحت کی بات کرے، ورنہ خاموشی اختیار کرے، تاکہ مجلس کا ماحول
خراب نہ ہو۔چنانچہ خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا: "من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرًا أو ليصمت"
ترجمہ: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اُسے چاہیے کہ اچھی بات کرے یا
خاموش رہے۔(صحیح بخاری: ج8، رقم 6475)
5.
مجلس کی بات کو امانت سمجھنا:ایک حق یہ بھی ہے کہ بندہ جس
مجلس میں شریک ہوئے، وہاں ہونے والی گفتگو کو بغیر اجازت آگے پہنچانا خیانت ہے،
خاص طور پر اگر وہ بات ذاتی نوعیت کی ہو.چنانچہ فرمانِ خاتم النبیین ﷺ ہے : "
المجلس بالأمانة "ترجمہ:مجلس (کی
بات) ایک امانت ہے۔(سنن ابی داؤد:ج5، رقم: 4869)
اور
اس میں مسلمان کی دل آزاری بھی ہو سکتی جوکہ گناہ ہے لہذا ہر بندے کو احتیاط کرنا
چاہیے ۔
اس
کے علاؤہ جھوٹ ، چغلی اور غیبت سے بچا جائے ، لغو و بیہودہ باتوں سے پرہیز ہو، دو آدمیوں کے
درمیان بغیر اجازت نہ بیٹھا جائے اور مجلس
میں کسی کو تکلیف نہ دی جائے . وغیرهم
دینِ
اسلام نے انسان کو باوقار اور بامقصد زندگی گزارنے کی تعلیم دی ہے۔ مجالس کے آداب
اور ان کے حقوق بیان کرکے ہمیں سکھایا ہے کہ معاشرتی زندگی محبت، ادب، وقار اور خیر
خواہی کے ساتھ گزاری جائے، اگر ہر مسلمان ان آداب و حقوق کا لحاظ رکھے تو ہماری
مجلسیں علمی، روحانی اور اخلاقی ترقی کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہیں۔
اللہ پاک ہمیں مجالس کے حقوق اور شریعت کی پاسداری
کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami