توصیف
الرحمن عطّاری ( درجہ رابعہ جامعۃُ
المدینہ ٹاؤن شپ لاہور ، پاکستان)
ہماری
زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ اجتماعیت میں گزرتاہے جس میں ہم مختلف لوگوں کے ساتھ بیٹھتے
ہیں ، اکٹھے وقت گزارتے ہیں اسے عربی میں مجلس اور اردو میں بیٹھک کہا جاتا ہے۔ یہ
اسلامی اور اخلاقی تعلیمات پر مبنی ہیں تاکہ مجلس خیر و برکت اور سکون کا ذریعہ
بنے ۔ ہماری ہرمجلس ہمارے لئے یا تو سعادت کا ذریعہ بن سکتی ہے یا پھر بدنصیبی اور
محرومی بڑھاسکتی ہے۔ آئیے اب
ہم مجلس کے متعلق چند حقوق ملاحظہ کرتے ہیں :
(1) جگہ کشادہ کرنا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ
تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ
انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ
الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)
ترجمہ کنز العرفان : اے ایمان
والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ
تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے: کھڑے ہو جاؤتو کھڑے ہوجایا کرو،
اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جنہیں علم دیا گیا
اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔ ( پ 28 ، المجادلہ 58 ، آیت 11 )
(2) اللہ عزوجل کا ذکر کرنا:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى
اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ قَوْمٍ يَقُومُونَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا يَذْكُرُونَ
اللَّهَ فِيهِ، إِلَّا قَامُوا عَنْ مِثْلِ جِيفَةِ حِمَارٍ وَكَانَ لَهُمْ
حَسْرَةً حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکرکئے بغیرمجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مُردار
گدھے کی لاش پر سے اٹھتے ہیں اوریہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔“ ( فیضان ریاض
الصالحین ، باب مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب ، جلد: 6 ، حدیث: 835)
( 3) سلام کرنا:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ، فَلْيُسَلِّمْ فَإِذَا أَرَادَ
أَنْ يَقُومَ، فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ُسےمروی ہےکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جب تم میں سے کوئی
کسی مجلس میں پہنچے توسلام کرے پھر جب وہاں سے اٹھے تب بھی سلام کرے، کیونکہ پہلی
مرتبہ کا سلام دوسری مرتبہ کے سلام سے زیادہ بہتر نہیں۔“ ( فیضان ریاض الصالحین ،
باب رخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان ، جلد: 6 ، حدیث: 869)
(
4) علم سیکھنا اور سکھانا: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ
رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِمَجْلِسَيْنِ فِي
مَسْجِدِهِ فَقَالَ: «كِلَاهُمَا عَلَى خَيْرٍ، وَأَحَدُهُمَا
أَفْضَلُ مِنْ صَاحِبِهِ. أَمَّا هَؤُلَاءِ فَيَدْعُونَ اللَّهَ وَيَرْغَبُونَ
إِلَيْهِ، فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ، وَأَمَّا هَؤُلَاءِ
فَيَتَعَلَّمُونَ الْفِقْهَ والعلمَ وَيُعَلِّمُونَ الْجَاهِلَ، فَهُمْ أَفْضَلُ، وَإِنَّمَا
بُعِثْتُ مُعَلِّمًا» قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ فِيهِمْ.
روایت
ہے عبداللہ ابن عمرو سے کہ رسولاللہ ﷺ اپنی مسجد میں دو مجلسوں پر گزرے
تو فرمایا کہ یہ دونوں بھلائی پر ہیں مگر ایک مجلس دوسری سے بہتر ہے لیکن یہ لوگ
اللہ سے دعا کررہے ہیں اس کی طرف راغب ہیں اگر چاہے انہیں دے چاہے نہ دے لیکن وہ لوگ
فقہ و علم خود سیکھ رہے ہیں ناواقفوں کو سکھا رہے ہیں وہ ہی افضل ہیں میں معلم ہی
بنا کر بھیجا گیا ہوں پھر آپ انہیں میں تشریف فرماہوئے ۔ ( مراة
المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف ، باب علم کا بیان ، جلد: 1، حدیث: 257)
(5) بے فائدہ باتیں نہ کرنا :
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ جَلَسَ فِي مَجْلِسٍ كَثُرَ فِيهِ
لَغَطُهُ، ثُمَّ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ،
لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، إلا غُفِرَ لَهُ
مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ.
حضرت
سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جو شخص کسی ایسی
مجلس میں بیٹھا جس میں بے فائدہ باتیں زیادہ ہوں پھر اس شخص نے مجلس سے اٹھنے سے
پہلےیہ کہا:” سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ
وَبِحَمْدِكَ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ
اِلَيْكَیعنی اے اللہ !
تو پاک ہے،تیرے لئے حمد ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں
تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔“تو اس شخص سے مجلس میں سرزد
ہونے والے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔ ( فیضان ریاض الصالحین ، باب مجلس اور ساتھ بیٹھنے
والوں کے آداب ، جلد: 6 ، حدیث: 832)
ہمیں
بھی چاہیے کہ مجلسِ میں کسی کی بات نہ کاٹیں ، دوسروں کے لیے جگہ چھوڑیں ، تکلیف
دہ کام نہ کریں، سب ایک ساتھ مل کر بیٹھے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami