محمد
احمد رضا عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ شاہ عالم مارکیٹ ،لاہور،پاکستان)
جب کسی شخص کے دل میں یہ آرزو پیدا ہونے لگے کہ لوگ اس
کے شیدائی ہوں ، ہر زبان اس کی تعریف میں تر ہو ، سب میرے کمال کے مُعترف ہوں ،
مجھے ہر جگہ عزت سے نوازا جائے ، عالِم نہیں ہوں پھر بھی علامہ صاحب کہا جائے ،
ملک و قوم کی کوئی خدمت نہیں کی پھر بھی مِعمارِ قوم کہا جائے، نجات دہندہ سمجھا
جائے، محسنِ قوم قرار دیا جائے ، میرا تعارف بہترین القابات کے ساتھ ہو،ملاقات
پُرتپاک انداز میں کی جائے ، سلام جُھک کر کیا جائے تو اسے چاہئے کہ اپنے دل پر
غور کر لے کہ کہیں وہ حبِّ جاہ کا شکار تو نہیں ہو چکا ، اگر ایسا ہو تو اس آیت
سے سبق حاصل کرتے ہوئے فوراً سے پیشتر اُس سے چھٹکارے کی کوشش کرے ۔ یاد رکھئے خود
پسندی اور حب جاہ کے مرض میں مبتلا شخص اخروی انعامات سے محرومی کا شکار ہوتا ہے
اور دل میں مُنافقت کی زیادتی ، قلبی نورانیت سے محرومی ، دین کی خرابی میں مبتلا
ہوجاتا ہے نیز برائی سے منع کرنے اور نیکی کی دعوت دینے سے محرومی، ذلت و رسوائی
کا سامنا، اخروی لذت سے محرومی، قلبی سکون کی بربادی اور دولتِ اخلاص سے محرومی
جیسے نقصانات کا سامنا کر سکتا ہے، لہٰذا اسے چاہئے کہ دنیا کی بے ثباتی، تعریف
پسندی کی مذمت، منصب و مرتبہ کے تعلق سے اخروی معاملات اور بزرگان دین کے حالات و
اقوال کا بکثرت مطالعہ کرے تا کہ ان مذموم امراض سے نجات کی کوئی صورت ہو ۔ ترغیب
کے لئے ہم یہاں خودپسندی اور حب جاہ کی تعریف اور اس سے متعلق چند احادیثِ کریمہ
ذکر کرتے ہیں۔
خود پسندی کی
تعریف:شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ
مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ
الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’شیطان کے بعض ہتھیار‘‘ صفحہ17 پر’’عُجُبْ یعنی خود پسندی
‘‘کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’اپنے کمال (مثلاً عِلم یا عمل یا مال) کو اپنی
طرف نسبت کرنا اور اس بات کا خوف نہ ہونا کہ یہ چِھن جائے گا۔
گویا خود پسند شخص نعمت کو مُنْعِمِ حقیقی (یعنی اللہ
عَزَّوَجَلَّ ) کی طرف منسوب کرنا ہی بھول جاتا ہے۔
(1) امُ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے ، الله پاک کے سب سے آخری نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی
تو وہ سب سے بد صورت انسان ہوتی ۔(الفردوس بماثور الخطاب ، باب اللام ، جلد 2 صفحہ
نمبر 193 حدیث نمبر 5064)
(2) الله عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب صَلَّی
الله تَعَالٰی علیہ وَالہ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: گناہوں پر نادِم ہونے
والا الله عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کا مُنْتَظِر ہوتا ہے جبکہ خود پسند ی کرنے والا
الله عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی کا مُنْتَظِر ہوتا ہے ۔(باطنی بیماریوں کی معلومات ،
صفحہ نمبر 38 ، المدینہ العلمیہ )
(3) حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے
روایت ہے ، حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے
ارشاد فرمایا :دو بھوکے بھیڑئیے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دئیے جائیں تو وہ اتنا
نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور مرتبے کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دِہ
ہے ۔ (ترمذی، کتاب الزہد، صفحہ166 ، حدیث نمبر 2383)
حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خود
پسندی سے بہت زیادہ ڈرتے تھے اور جب لوگ آپ کی تعریف کرتے تو آپ دعا مانگتے
:یااللہ! عَزَّوَجَلَّ، مجھے اس سے بہتر بنا دے جو کچھ یہ کہتے ہیں اور جو کچھ یہ
نہیں جانتے میرا وہ عمل بخش دے ۔
اسی طرح جب لوگ
حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تعریف کرتے تو وہ دعا مانگتے
:یااللہ! عَزَّوَجَلَّ میں اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو کچھ یہ کہتے
ہیں اور تجھ سے اس عمل کی بخشش چاہتا ہوں جس کا انہیں علم نہیں۔(تفسیر صراط الجنان
، سورۃ آل عمران تحت الایہ ، 188)
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن
محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :’’صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اپنے زُہْد وتقوٰی کے باوجود یہ تمنا کیا کرتے کہ کاش وہ
مٹی،بھوسہ یا پرند ہوتے۔ تو صاحبِ بصیرت شخص کیسے اپنے عمل پرخود پسندی کرسکتا ہے
یااِترا سکتا ہے اور کیونکر اپنے نفس سے بے خوف ہوسکتاہے؟ یہ خود پسندی کا علاج ہے
جس سے خود پسندی کا مادہ بالکل جڑ سے کٹ جاتا ہے۔جب خود پسندی میں مبتلا شخص اس
طریقہ علاج کے مطابق خود پسندی کا علاج کرتا ہے تو جس وقت اس کے دل پرخود پسندی
غالب آتی ہے تو سَلْبِ نعمت کا خوف اسے اترانے سے بچاتا ہے بلکہ جب وہ کافروں اور
فاسقوں کو دیکھتا ہے کہ کسی گناہ کے بغیر ان کو ایمان اور اِطاعَتِ الٰہی کی دولت
سے محرومی ملی ہے تووہ ڈرتے ہوئے یہ سوچتا ہے کہ جس ذات کو اس بات کی پروا نہیں کہ
وہ بغیر کسی جرم کےکسی کومحروم کردے یا بغیر کسی وسیلے کےکسی کو عطا کرے تووہ دی
ہوئی نعمت کو واپس بھی لے سکتا ہے۔ کتنے ہی ایمان والے مرتد ہوکر اور اطاعت گزار
فاسق ہوکر برے خاتمے کا شکار ہوئے۔ جب آدمی اس طرح سوچے گا تو خود پسندی اس میں
باقی نہیں رہے گی۔(باطنی بیماریوں کی معلومات صفحہ 40 ، 41)
اللہ پاک ہمیں خود پسندی جیسی بری عادت سے بچائے آمین
بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ۔
حب جاہ و خود پسندی کی مٹا دے عادتیں یا الہی! باغِ جنت کی عطا کر
راحتیں
Dawateislami