خود پسندی ایک ایسی باطنی آفت ہے جو انسان کو اپنی حقیقت سے غافل کر دیتی ہے اور اسے اپنی ہی نظر میں بڑا بنا دیتی ہے۔ یہ وہ بیماری ہے جس میں انسان اپنے علم، عبادت، مال یا خوبیوں پر فخر کرتے ہوئے دوسروں کو کمتر سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر نعمت اللہ کی عطا ہے اور بندہ اس کا محتاج ہے۔ خود پسندی نہ صرف اعمال کے حسن کو ضائع کر دیتی ہے بلکہ دل میں تکبر، حسد اور بے رحمی کو بھی جنم دیتی ہے۔ اسی لیے رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی امت کو اس مہلک مرض سے بچانے کے لیے بار بار تنبیہ فرمائی اور عاجزی و انکساری کی تعلیم دی۔

اپنے اعمال پر غرور ہلاکت کا سبب:رسول الله ﷺ نے فرمایا: لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَخِفْتُ عَلَيْكُمْ مَا هُوَ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ: الْعُجْبُ یعنی اگر تم گناہ نہ کرتے تو مجھے تم پر اس سے بھی زیادہ خطرناک چیز کا خوف ہوتا، اور وہ ہے خود پسندی۔ (شعب الايمان للبیہقی، حدیث نمبر 6895)

اس حدیث میں خود پسندی کو گناہ سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا گیا کیونکہ گناہ پر ندامت آسکتی ہے مگر خود پسندی انسان کو اپنی اصلاح سے روک دیتی ہے۔

اعمال کی قبولیت میں اخلاص کی شرط:رسول الله ﷺ نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ یعنی اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث نمبر 2564)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اصل معیار دل کی کیفیت ہے، اور خود پسندی دل کو کھوکھلا کر دیتی ہے جس سے اعمال کی روح ختم ہو جاتی ہے۔

عاجزی بلندی کا ذریعہ ہے:رسول الله ﷺ نے فرمایا: وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ یعنی جو شخص اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اسے بلند فرما دیتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث نمبر 2588) یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ حقیقی بلندی خود پسندی میں نہیں بلکہ انکساری میں ہے، اور جو خود کو بڑا سمجھتا ہے وہ دراصل اللہ کی نظر میں چھوٹا ہو جاتا ہے۔

خود پسندی انسان کے باطن کو اندھا اور دل کو سخت بنا دیتی ہے، جبکہ عاجزی اسے نور، سکون اور قبولیت کی طرف لے جاتی ہے۔ جو شخص اپنے نفس کو قابو میں رکھتا، اپنی کمزوریوں کو پہچانتا اور ہر نعمت کو اللہ کا فضل سمجھتا ہے وہی حقیقی کامیاب ہے۔ ایسی زندگی نہ صرف اللہ کے قریب لے جاتی ہے بلکہ لوگوں کے دلوں میں بھی محبت اور عزت پیدا کرتی ہے، اور یہی وہ وصف ہے جسے دیکھ کر اہلِ دل رشک کرتے ہیں کہ یہ بندہ اپنے رب کے حضور جھکا ہوا اور مخلوق کے لیے سراپا رحمت بن گیا ہے۔