خودپسندی ایک نہایت ہی خطرناک باطنی بیماری ہے جو انسان کو ہلاکت کے گڑھے کی طرف لے جاتی ہے۔ جب بندہ اپنی ملی ہوئی نعمتوں، جیسے صحت، حسن و جمال، دولت، ذہانت یا کسی منصب کو اپنا کمال سمجھنے لگتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب ربُّ العزّت کی عطا ہے، تو وہ عُجب یعنی خودپسندی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ باطنی مرض انسان کو شکر گزاری سے دور اور غرور و تکبر کے قریب کر دیتا ہے۔

عجب یعنی خود پسندی کی تعریف: شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’شیطان کے بعض ہتھیار‘‘ صفحہ17 پر’’عُجُبْ یعنی خود پسندی ‘‘کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’اپنے کمال (مثلاً عِلم یا عمل یا مال) کو اپنی طرف نسبت کرنااور اس بات کا خوف نہ ہونا کہ یہ چِھن جائے گا۔گویا خود پسند شخص نعمت کو مُنْعِمِ حقیقی (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ) کی طرف منسوب کرنا ہی بھول جاتا ہے۔ (احیاء العلوم، کتاب ذم الکبر والعجب، بیان حقیقۃ العجب، ج 3، ص، 454) (یعنی ملی ہوئی نعمت مثلاً صِحّت یاحسن و جمال یا دولت یا ذِہانت یا خوش الحانی یا منصب وغیرہ کو اپنا کارنامہ سمجھ بیٹھنا اوریہ بھول جانا کہ سب ربُّ العزّت ہی کی عنایت ہے)۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ36،37)

آئیے! ہم خودپسندی کی مذمت کے بارے میں چند احادیثِ مبارکہ پڑھتے ہیں۔

(1) 70 سال کے اعمال برباد : حضرت حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :خودپسندی 70سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف العین،2 / 205، الجزء الثالث، الحدیث: 7666)

( 2)شکل انسانی میں سب سے بدصورت : ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی تو وہ سب سے بد صورت انسان ہوتی ۔(الفردوس بماثور الخطاب، باب اللام، 2 / 193، الحدیث: 5064)

(3) دین کیلئے نقصان دہ باطنی بیماری : حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور پرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :دو بھوکے بھیڑئیے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دئیے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور مرتبے کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دِہ ہے ۔(ترمذی، کتاب الزہد، 43-باب، 4 / 166، الحدیث: 2383)

(4)اللہ عزوجل کی ناراضگی کا مستحق : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: گناہوں پر نادِم ہونے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کا مُنْتَظِرہوتا ہے جبکہ خود پسند ی کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی کامُنْتَظِرہوتا ہے ۔(شعب الایمان، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ، ج5، ص436، حدیث: 7178)

( 5)بروز قیامت ذلیل و خار ہوگا :حضرت جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :جو شہرت طلب کرے گا( قیامت کے دن) اس کے عیبوں کی تشہیر ہو گی اورجو شخص لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس کا بدلہ دے گا ۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعۃ، 4 / 247، الحدیث: 6499)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! دیکھاآپ نے کہ خودپسندی کو مذکورہ احادیث مبارکہ میں ایک مذموم صفت قرار دیا گیا ہے آئیے ہم اس کے حکم کے متعلق جانتے ہیں۔

عجب یعنی خود پسندی کا حکم: عُجُب یعنی خود پسندی ناجائز وممنوع و گناہ ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اگرچہ تم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو لیکن مجھے تم پر گناہ سے بھی بڑے جرم کا خوف ہے اور وہ ہے عُجُبْ ، عُجُبْ یعنی خود پسندی۔"اس فرمان مبارک میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عُجُبْ کو بہت بڑا گناہ قرار دیا۔ (احیاء العلوم، کتاب ذم الکبر والعجب، باب ذم العجب۔۔۔الخ، ج3، ص453) اور کسی بھی ظاہری وباطنی گناہ سے بچنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔

خود پسندی کا ایک مجرب علاج: حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :’’صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اپنے زُہْد وتقوٰی کے باوجودیہ تمنا کیا کرتے کہ کاش وہ مٹی،بھوسہ یا پرند ہوتے۔ تو صاحب ِ بصیرت شخص کیسے اپنے عمل پرخود پسندی کرسکتاہے یااِترا سکتا ہے اور کیونکر اپنے نفس سے بے خوف ہوسکتاہے؟یہ خود پسندی کا علاج ہے جس سے خود پسندی کا مادہ بالکل جڑ سے کٹ جاتا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ40)

اللہ پاک ہمیں عجب(خودپسندی ) جیسی باطنی بیماریوں سے بچنے اور عاجزی و انکساری کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین۔