پیارے اسلامی بھائیو ! ہمارے ہاں لوگوں نے اپنے اپنے لحاظ سے کامیابی کے مختلف معیار مقرر کر رکھے ہیں ، کسی کے نزدیک مالدار ہو جانا کامیابی ہے ، کسی کے نزدیک شہرت مل جانا کامیابی ہے ،الغرض ہر ایک نے کامیابی کے الگ الگ معیار مُقرَّر کر رکھے ہیں،مگر رَبِّ کائنات کے ہاں کامیاب وہ شخص ہے جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا ، اپنے نفس کو بُرے عقائد ، بُرے اَخْلاق ، بُری عادات اور ظاہری و باطنی گناہوں سے پاک کر لیا ، باطنی امراض میں سے ایک خود پسندی بھی ہے۔

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ظاہری اعمال کا باطنی اوصاف کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے۔ اگر باطن خراب ہو تو ظاہری اعمال بھی خراب ہوں گے اور اگر باطن حسد ، ریا اور تکبر ، (خود پسندی)وغیرہ عیوب سے پاک ہو تو ظاہری اعمال بھی درست ہوتے ہیں۔ ( منہاج العابدین، ص 13 ملخصا)

خود پسندی کی تعریف: اپنے کمال ( مثلاً علم یا عمل یا مال ) کو اپنی طرف منسوب کرنا اور اس بات کا خوف نہ ہونا کہ یہ چھن جائے گا۔ گو یا خود پسند شخص نعمت کو مُنْعِمِ حقیقی (یعنی اللہ عزوجل) کی طرف منسوب کرنا ہی بھول جاتا ہے۔ ( یعنی ملی ہوئی نعمت مثلاً صحت یا حسن و جمال یا دولت یا خوش الحانی یا منصب و غیر کو اپنا کارنامہ سمجھ بیٹھنا اور یہ بھول جانا کہ سب ربُّ العزت ہی کی عنایت ہے)۔ (شیطان کے بعض ہتھیار ص 17 مکتبہ المدینہ کراچی)

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :

فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠(۳۲) ترجمہ کنز العرفان:تو تم خود اپنی جانوں کی پاکیزگی بیان نہ کرو، وہ خوب جانتا ہے اسے جو پرہیزگار ہوا۔(پ 27 النجم 32)

صدر الافاضل حضرت علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رَحمۃ اللهِ الهادی اس آیت مبارکہ کے تحت خزائن العرفان میں فرماتے ہیں: یعنی تفاخرا ًاپنی نیکیوں کی تعریف نہ کرو کیونکہ اللہ تعالٰی اپنے بندوں کے حالات کا خود جاننے والا ہے۔

وہ ان کی ابتداء ہستی سے آخر ایام کے جملہ احوال جانتا ہےحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرامین میں بھی خود پسندی کی مذمت کو بیان فرمایا آپ بھی 5 فرامین مصطفیٰ پڑھیے :

(1) ناراضگی کا منتظر :حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گناہوں پر نادم ہونے والا الله پاک کی رحمت کا منتظر ہوتا ہے جبکہ خود پسندی کرنے والا اللہ عزوجل کی ناراضگی کا منتظر ہوتا ہے ۔( شعب الایمان ،باب فی معالجۃ كل ذنب بالتوبۃ ، ج 5، ص 436، حدیث: 7178)

(2) بڑا جرم :اللہ عزوجل کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وَالہ وَسلم نے ارشاد فرمایا: اگر چہ تم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو لیکن مجھے تم پر گناہ سے بھی بڑے جرم کا خوف ہے اور وہ ہے عجب یعنی خود پسندی ہے ۔(احياء العلوم، كتاب ذم الكبر والعجب باب ذم العجب الخ، ج 3، ص 253)

(3) ہلاکت کا شکار:خود پسندی کی وجہ سے بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مدد و توفیق سے محروم ہو جاتا ہے کیونکہ خود پسندی میں مبتلا ہونے والا ذلت ورسوائی اٹھاتا ہے اور جب بندے سے مدد اور توفیق الہی کا تعلق ٹوٹ جائے تو بندہ بہت تیزی سے ہلاکت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی لیے حضور سرورِ عالم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّى اللهُ تَعَالَى علیہ وَالہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں : (1) بخل جس کی اطاعت کی جائے ، (2) خواہش نفس جس کی پیروی کی جائے اور(3) خود پسندی ۔(شعب الایمان ،باب فی الخوف من اللہ ،ج 1 ص 471)

(4) ثواب سے محروم :حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کوئی بندہ آسمان و زمین والوں کے عمل کے برابر نیکی اور تقویٰ لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو اور اس میں یہ تین برائیاں ہوں (1)خود پسندی۔ (2)مومنوں کو ایذا دینا۔ (3) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا۔ تو ا س کے اعمال کا وزن ایک ذرے کے برابر بھی نہ ہو گا۔(مسند الفردوس، باب العین، 3 / 364، الحدیث: 5102)

(5) جہنمی شخص :نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اے سراقہ! کیا میں تمہیں جنتی اور جہنمی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟عرض کی: یا رسولَ اللہ ! ضرور بتائیے۔ ارشاد فرمایا :ہر سختی کرنے والا، اِترا کر چلنے والا، اپنی بڑائی چاہنے والا جہنمی ہے جبکہ کمزور اور مغلوب لوگ جنتی ہیں۔(معجم الکبیر، علی بن رباح عن سراقۃ بن مالک، 7 / 129، الحدیث: 6589)

خود پسندی ایک مذموم باطنی مرض ہے اور فی زمانہ مسلمانوں کی ایک تعداد اس میں مبتلا نظر آتی ہے۔ اپنے علم وعمل پر ناز کرنا، کثرت عبادت پر اترانا، عزت، منصب اور دولت پر نازاں ہونا، فنی مہارت پر کسی کی انگشت نمائی برداشت نہ کرسکنا، کسی اور کو خاطر میں ہی نہ لانا بہت عام ہے۔ جو کہ سنگین گناہ اور جہنم میں داخلے کا سبب ہے ۔

پیارے اسلامی بھائیو ! ذرا سوچئے کہ اس خود پسندی کا کیا حاصل ! محض لذت نفس ، وہ بھی چند لمحوں کے لئے ! جبکہ اس کے نتیجے میں اللہ ورسول کی ناراضگی، مخلوق کی بیزاری، دل میں مُنافقت کی زیادتی ، قلبی نورانیت سے محرومی ، دین کی خرابی، ذلت و رسوائی کا سامنا، اخروی لذت سے محرومی، قلبی سکون کی بربادی، میدان محشر میں ذلت ورسوائی ، رب کی رحمت اور انعامات جنت سے محرومی اور جہنم کا رہائشی بننے کا سبب بن سکتی ہے کامیابی اور اخروی نجات خود پسندی سے چھٹکارہ حاصل کرنے میں ہے ۔

خود پسندی کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے کہ اگر خود پسندی علم وعمل ، عبادت و ریاضت ، مال و دولت، حسب و نسب، عہدہ و منصب، کامیابی و کامرانی، حسن و جمال کی وجہ سے ہے تو یہ سب نعمتیں تو الله پاک نے دی ہیں، ان پر اترانا کیسا ؟ اگر خدانخواستہ اس بلا وجہ اترانے پر کل بروز قیامت رب کریم ناراض ہو گیا اور جہنم میں شدید آگ کا عذاب دیا گیا، تو اسے کیسے برداشت کریں گے ؟

اللہ پاک دیگر باطنی امراض کے ساتھ ساتھ خود پسندی جیسے موذی مرض سے بھی بچائے۔ امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔