فراز عزیز پنہور (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ
فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان)
خود پسندی (عُجب) ایک باطنی اخلاقی بیماری ہے جو انسان
کے دل میں خاموشی سے جنم لے کر اس کی روحانی زندگی کو تباہ کر دیتی ہے۔ یہ وہ
کیفیت ہے جس میں انسان اپنی خوبیوں، عبادتوں، علم یا کسی بھی کمال کو اپنی ذات کا
کمال سمجھ کر دوسروں پر برتری محسوس کرنے لگتا ہے۔ بظاہر یہ ایک معمولی سی نفسیاتی
کیفیت معلوم ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی رضا سے دور اور
ہلاکت کے قریب کر دیتی ہے۔ اسی لیے شریعتِ مطہرہ نے نہ صرف تکبر بلکہ اس کی جڑ
یعنی خود پسندی کی بھی سخت مذمت فرمائی ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر نعمت اور ہر کمال اللہ
تعالیٰ کی عطا ہے، اور بندے کا اصل مقام عاجزی، انکساری اور شکرگزاری ہے۔ جب انسان
اپنی صلاحیتوں کو اپنی محنت کا نتیجہ سمجھ کر ان پر فخر کرنے لگتا ہے تو وہ
درحقیقت اللہ کی عطا کو بھول جاتا ہے۔ یہی غفلت آہستہ آہستہ اسے تکبر، ریاکاری اور
دوسروں کی تحقیر جیسے مہلک امراض میں مبتلا کر دیتی ہے۔
عجب یعنی خود پسندی کی تعریف:شیخ طریقت، امیر اہلسنت،
بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی
دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’شیطان کے بعض ہتھیار‘‘ صفحہ۱۷ پر’’عُجُبْ یعنی خود پسندی
‘‘کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’اپنے کمال (مثلاً عِلم یا عمل یا مال) کو
اپنی طرف نسبت کرنااور اس بات کا خوف نہ ہونا کہ یہ چِھن جائے گا۔گویا خود پسند
شخص نعمت کو مُنْعِمِ حقیقی (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ) کی طرف منسوب کرنا ہی بھول
جاتا ہے۔
یعنی ملی ہوئی نعمت مثلاً صِحّت یاحسن و جمال یا دولت یا
ذِہانت یا خوش الحانی یا منصب وغیرہ کو اپنا کارنامہ سمجھ بیٹھنا اوریہ بھول جانا
کہ سب ربُّ العزّت ہی کی عنایت ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۳۶،۳۷)
عجب یعنی خود پسندی کا حکم:عُجُب یعنی خود پسندی ناجائز
وممنوع و گناہ ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اگرچہ تم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو لیکن مجھے
تم پر گناہ سے بھی بڑے جرم کا خوف ہے اور وہ ہے عُجُبْ ، عُجُبْ یعنی خود
پسندی۔‘‘اس فرمان مبارک میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم نے عُجُبْ کو بہت بڑا گناہ قرار دیا۔
احادیث مبارکہ میں خود پسندی کی وعیدات موجود ہیں چنانچہ
خود پسندی کا نقصان کے متعلق۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب صَلَّی
اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: ’’گناہوں پر
نادِم ہونے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کا مُنْتَظِرہوتا ہے جبکہ خود پسند ی
کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی کامُنْتَظِرہوتا ہے ۔(باطنی بیماریوں کی
معلومات،صفحہ۳۸)
خود پسندی کو ہلاک کرنے والی چیزوں میں شمار کیا گیا ہے
چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں:(1) بخل جس کی پیروی
کی جائے،(2) خواہش نفس جس کی اتباع کی جائے،(3) اور انسان کا اپنے آپ کو بڑا
سمجھنا (خود پسندی)(شعب الایمان للبیہقی، حدیث: 7316)
بلاشبہ خود پسندی ایک بہت بڑا گناہ اور باطنی مرض ہے اس
کے برعکس عاجزی بڑی نعمت اور فضیلت والی چیز ہے چنانچہ عاجزی اختیار کرنے کی فضیلت
کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"جو اللہ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ
اسے بلند فرما دیتا ہے۔"(صحیح مسلم، حدیث: 2588)
خود پسندی کا ایک مجرب علاج بیان کرتے حُجَّۃُ الْاِسلام
حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ
الْوَالِی فرماتے ہیں :’’صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اپنے زُہْد وتقوٰی کے
باوجودیہ تمنا کیا کرتے کہ کاش وہ مٹی،بھوسہ یا پرند ہوتے۔ تو صاحب ِ بصیرت شخص
کیسے اپنے عمل پرخود پسندی کرسکتاہے یااِترا سکتا ہے اور کیونکر اپنے نفس سے بے
خوف ہوسکتاہے؟یہ خود پسندی کا علاج ہے جس سے خود پسندی کا مادہ بالکل جڑ سے کٹ
جاتا ہے۔جب خود پسندی میں مبتلا شخص اس طریقہ ٔ علاج کے مطابق خود پسندی کا علاج
کرتاہے تو جس وقت اس کے دل پرخود پسندی غالب آتی ہے تو سَلْب ِ نعمت کا خوف اسے
اترانے سے بچاتا ہے بلکہ جب وہ کافروں اور فاسقوں کو دیکھتا ہے کہ کسی گناہ کے
بغیران کو ایمان اور اِطاعَت ِالٰہی کی دولت سے محرومی ملی ہے تووہ ڈرتے ہوئے یہ
سوچتا ہے کہ جس ذات کو اس بات کی پروا نہیں کہ وہ بغیر کسی جرم کےکسی کومحروم کردے
یا بغیر کسی وسیلے کےکسی کو عطا کرے تووہ دی ہوئی نعمت کو واپس بھی لے سکتا ہے۔
کتنے ہی ایمان والے مرتدہوکراور اطاعت گزار فاسق ہوکربرے خاتمے کا شکارہوئے۔ جب
آدمی اس طرح سوچے گا تو خود پسندی اس میں باقی نہیں رہے گی۔(باطنی بیماریوں کی
معلومات،صفحہ۴۰،۴۱)
Dawateislami