اسرار احمد (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ
عثمان غنی، کراچی ،پاکستان)
اسلام ایک ایسا پیارا دین ہے جو انسان کے ظاہر کے ساتھ
ساتھ اس کے باطن کی بھی اصلاح فرماتا ہے۔ باطنی بیماریوں میں ایک نہایت خطرناک مرض
خود پسندی (عُجب) ہے۔ یہ وہ بیماری ہے جس میں انسان اپنی عبادت، علم، حسنِ اخلاق
یا کسی بھی خوبی کو دیکھ کر اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ہے اور دوسروں کو حقیر
جانتا ہے۔ یہ صفت اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے اور بندے کے اعمال کو برباد کر
دیتی ہے۔ قرآنِ کریم فرقان حمید میں رب تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :فَلَا
تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠(۳۲)
ترجمہ کنزالایمان: تو آپ اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ وہ
خوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں۔ (پارہ 27، سورۃ النجم، آیت 32)
اس آیتِ مبارکہ میں خود پسندی سے صاف منع فرما دیا گیا
کہ اپنے آپ کو پاک اور کامل سمجھنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔
حضور امام الانبیاء خاتم النبیین سرور عالم سید عالم جان
عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باطنی بیماری کی سخت مذمت فرمائی ہے۔ چنانچہ حضرت
محمد ﷺ کا فرمانِ عبرت نشان ہے:
ثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ: شُحٌّ مُطَاعٌ، وَهَوًى مُتَّبَعٌ، وَإِعْجَابُ
الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ
ترجمہ: تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں:(1) ایسا بخل جس کی
پیروی کی جائے(2) خواہشِ نفس کی اتباع
(3) آدمی کا اپنے آپ کو پسند کرنا۔(المعجم الاوسط،
للطبرانی، باب: ما جاء فی المهلکات،جلد 6، صفحہ 47، حدیث: 6167)
مزید ایک مقام پر ارشاد فرمایا:لَوْ لَمْ
تُذْنِبُوا لَخِفْتُ عَلَيْكُمْ مَا هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذٰلِكَ: الْعُجْبُ
ترجمہ: اگر تم گناہ نہ کرو تو مجھے تم پر اس سے بھی
زیادہ خطرناک چیز کا خوف ہے، اور وہ خود پسندی ہے۔
(شعب الایمان، للبیہقی، باب: فی ذم العجب،جلد 5، صفحہ
430، حدیث: 7255)
خود پسندی کے نقصانات:
خود پسندی کے کئی روحانی نقصانات ہیں:یہ انسان کو تکبر
میں مبتلا کر دیتی ہے،دوسروں کو حقیر سمجھنے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے،اعمال ضائع
ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،اصلاحِ نفس کا دروازہ بند ہو جاتا ہے،اس مہلک بیماری سے
بچنے کے لیے درج ذیل امور اختیار کیے جائیں:
اپنی ہر نیکی کو اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھا جائے،اپنے
گناہوں کو یاد رکھ کر توبہ و استغفار کیا جائے،عاجزی اور انکساری کو اپنایا جائے،نیک
لوگوں اور اولیائے کرام کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں خود پسندی جیسے خطرناک مرض سے محفوظ
فرمائے، ہمیں عاجزی و انکساری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری نیکیوں
کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔
Dawateislami