علم اورمال کا حریص کبھی سیر نہیں ہوتا، امیر
اہلِ سنت مولانا محمد الیاس قادری
قربانی کا جانورخریدنے کے لیے جائیں تو اپنے
ساتھ ایسے آدمی کو لے کرجائیں جو جانوروں کی عمروغیرہ کی پہچان رکھتاہوں، دیکھ
بھال کر لیں،چلاکربھی دیکھ لیں ،جانورکی عمرقربانی کے لیے پوری ہووغیرہ چیزوں کو دیکھنا
ضروری ہے۔ یہ
کہنا تھا عالمی مذہبی اسکالر علامہ محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا جو
گزشتہ رات مدنی مذاکرے میں گفتگو فرمارہے تھے۔
ایک سوال کے جواب میں آپ کا کہنا تھا کہ اچھا وہ ہے جس سے رب راضی
ہو،جس کا خاتمہ ایمان پر ہواوربغیرحساب وکتاب جنت میں داخلہ نصیب ہو۔
مدنی
مذاکرے کے چند منتخب مدنی پھول ملاحظہ کیجئے
سوال:ماں باپ بچوں
کو سب سے پہلے کس چیز کی تعلیم دیں ؟
جواب: ماں باپ کو
چاہئے کہ سب سے پہلے بچوں کو قرآن ِ کریم اوردِین کی تعلیم دلوائیں ۔
سوال:غُصّہ آجائے
تو کیا کرنا چاہئے؟
جواب:غُصّہ آجائے اگرچہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو،خاموش
ہوجائیے ،اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ
الرَّجِیْم پڑھ لیجئے ،کھڑےہوں تو بیٹھ جائیے
،بیٹھے ہیں تو لیٹ جائیے ،وضو کرلیجئے ،جس پر غصہ آیا ہے وہ سامنے ہوتو وہاں سے ہٹ
جائیے،مزیدمعلومات جاننے کے لیے مکتبۃُ المدینہ کےرسالے ’’غصے کا علاج‘‘کا مطالَعہ
کیجئے ۔
سوال:اسلامی بہنیں
اپنے واٹس ایپ(Whatsapp) کے پروفائل(Profile) اوراسٹیٹس(Status) میں کیا لگائیں؟
جواب:اسلامی بہنیں اپنےپروفائل پرکوئی اچھا ساجملہ مثلاً’’کیا بات ہے مدینے کی
‘‘لکھاہوالگادیں،اسٹیٹس کی جگہ پر مدنی مرکز کی جانب سےجاری کردہ نیکی کی دعوت پر مشتمل تیس سیکنڈ(30 Seconds)کی ویڈیولگادیں ۔
سوال:نمازخشوع و خضوع سے کس طرح اداکرنی چاہئے ؟
جواب:بدن اوردل میں رِقّت ہو،توجہ بھی نہ بٹے ،دل
بھی لگا رہے ،تمام سُنّتیں،مستحبات اورواجبات کا خیال رکھے،یہ ذہن بنائے کہ
اللہمجھے دیکھ رہا ہے ۔
سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ” اللہمیاں کہنا کیسا!‘‘پڑھنے یاسُننے والوں کو امیرِاہلِ ِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب:یا ربَّ
المصطفَےٰ ! جو کوئی رسالہ” اللہمیاں کہنا کیسا!“ کے 24 صفحات پڑھ یا سُن لے، اُس کے ایمان
پر سلامَتی کی مُہر لگادے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
آج رات 9:30 بجے مدنی چینل پر مدنی مذاکرے کا سلسلہ ہوگا
، امیر اہل سنت مدنی پھول ارشاد فرمائیں گے
آج 4جولائی2020ء کی شب تقریباً 9:30 بجے مدنی چینل
پرہفتہ وار مدنی مذاکرے کا سلسلہ ہوگا جس میں عالمی مذہبی اسکالر علامہ محمد الیاس
عطار قادری دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ شریعت اور طریقت کی رہنمائی، طبی اور روحانی
علاج کے ساتھ ساتھ بہت سی مفید باتیں بتاتے ہیں۔ اس مدنی مذاکرے میں امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ
الْعَالِیَہ عاشقان رسول کی جانب سے ہونے والے سوالات کے حکمت
بھرے جوابات بھی ارشاد فرماتے ہیں۔
واضح رہے کہ ملکی صورتحال کے پیش نظر مدنی
مذاکرے اجتماعی طور پر منعقد نہیں ہوگا۔ تمام عاشقان رسول اپنےاپنے گھروں میں بذریعہ
مدنی چینل اس مدنی مذاکرے میں شرکت فرمائیں۔
امیرِ
اہلِ سنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہر ہفتے کسی ایک رسالے کے مطالعے کی ترغیب ارشاد
فرماتے ہیں اور مطالعہ کرنے والوں کو اپنی دعا وں سے بھی نوازتے ہیں۔
اس
ہفتے کا رسالہ ”اللہ میاں کہنا
کیسا!“ہے۔
رسالے کا مطالعہ کرنے یا سننے والوں کو امیر اہلِ سنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنی دعاوں سے بھی نوازا ہے۔ دعائے عطار کے
حقدار بننے کے لئے اس رسالے کا ضرور مطالعہ کیجئے۔
دعائے عطار
یا ربَّ المصطفَےٰ ! جو کوئی رسالہ ”اللہ میاں کہنا
کیسا!“کے 24
صفحات پڑھ یا سُن لے اُس کے ایمان پر سلامَتی کی مُہر لگادے۔ اٰمین
یہ رسالہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ سے بالکل مفت ڈاون
لوڈ کیجئے
صاحبزادہ عطارحاجی عبید رضا اور رکن شوریٰ سید ابراہیم
عطاری نے بھی اینٹی باڈی ٹیسٹ کروالیا
صاحبزادہ
عطار مولاناحاجی عبیدرضاعطاری
مدنی مَدَّظِلُّہُ
الْعَالِی نے عالمی وبا کورونا میں مبتلا مریضوں کی مدد کرنے کے لئے پلازمہ دینے کے سلسلے میں کراچی کے نجی اسپتال میں اینٹی باڈی ٹیسٹ کرایا۔
صاحبزادہ عطار کے ہمراہ رکن شوریٰ حاجی سید ابراہیم عطاری نے بھی اپنا اینٹی باڈی ٹیسٹ کرایا۔اس موقع پر دیگر
ذمہ داران بھی موجود تھے۔ صاحبزادہ عطارنے
اسپتال میں موجود عملے اوردیگر اسلامی بھائیوں کو سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ
میں بیعت بھی کروائی اور مدنی چینل کے
ناظرین کو بھی اپنا اینٹی باڈی ٹیسٹ کروانے کی ترغیب دلائی۔
مولانا عبد الرحمٰن ملکانی اور پیر سید طیب سلطان شاہ قادری کے لواحقین سے تعزیت
مقبول احمداور جمیل احمد (سب انسپکٹر) کے والد محترم پیر طریقت حضرت علامہ مولانا عبد الرحمٰن ملکانی صاحب بخار
اور گردوں کی بیماری کے سبب 21 شوال المکرم 1441ھ کو 80
سال کی عمر میں دادو سندھ میں انتقال فرماگئے۔
پیر سید اشفاق احمد شاہ بخاری قادری صاحب
اور پیر سید طیب سلطان شاہ بخاری قادری
صاحب کے والد گرامی الحاج پیر طریقت سید عبد الحمید شاہ بخاری قادری صاحب علالت کے
سبب 28 شوال المکرم 1441ھ کو 100 سال کی عمر میں ملتان میں رحلت فرماگئے۔
انتقال کی خبر ملنے پر امیر اہل سنت علامہ محمد
الیاس عطار قادری دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مرحومین کے تمام لواحقین سے تعزیت کی اور انہیں
صبر و ہمت سے کام لینے کی ترغیب دلائی۔ امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے
مرحومین کے لئے ایصال ثواب کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی اور لواحقین کومدنی پھول پیش
کئے۔
اجتماعی قربانی وہی کریں جو علمائےاہلِ سُنّت کے زیرِسایہ یہ کام سرانجام دیں، مولانا الیاس قادری
انفرادی طورپر جوقربانی کی جاتی ہے، اِس سے زیادہ
مسائل اوراحتیاطیں ’’اجتماعی قربانی‘‘میں
ہیں ،میری تاکیدہے کہ اجتماعی قربانی وہی کریں جو علمائےاہلِ سُنّت کے زیرِسایہ یہ
کام سرانجام دیں ،جو لوگ عُلماسے بے نیازہیں اوراجتماعی قربانی کررہے ہوں تو ان کے
ساتھ قربانی کا حصہ نہ ڈالاجائے ۔مکتبۃ المدینہ کا رسالہ ’’اجتماعی قربانی کے مدنی
پھول‘‘کا بھی مُطالَعہ کریں لیکن اس کا مُطالَعہ کافی نہیں ،عُلماسے سمجھنا بہت ضروری ہے ۔دعوتِ
اسلامی کے تحت جو اجتماعی قربانی کی جاتی ہے، اس کا م کوسرانجام دینے والوں کی دارالافتااہلسنّت کےمفتیان ِکرام وغیرہ تربیت کرتے ہیں ۔ یہ کہنا تھا عالمی مذہبی
اسکالر علامہ محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا جو
گزشتہ رات مدنی مذاکرے میں گفتگو فرمارہے
تھے۔
ایک سوال کے جواب میں آپ کا کہنا تھا کہ دنیاوی امراض سے جسم
متاثرہوتاہے مگرگناہوں کے امراض سے ایمان ضائع ہونےکا اندیشہ ہے۔جس طرح ہم دُنیاوی امراض سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اس سے
زیادہ گُناہوں کے امراض سے بچنا چاہئے۔
مدنی
مذاکرے کے چند منتخب مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:
سوال:بخارکادرجہ
حرارت کتنا ہوتو اُسے تیز بخارکہتےہیں اورسب سے
پہلے کس کو بخارہوا؟
جواب: بخارکادرجہ
حرارت102°F ہوتواُسےتیزبخارکہتےہیں اورسب سے پہلےشیر(Lion)کوبخارہواتھا۔
سوال:کس مرض کو مرضُ الانبیا کہا جاتاہے؟
جواب:بخارکومرضُ الانبیا کہا جاتاہے،ہمارےپیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے بخارمیں ہی
وصالِ ظاہری فرمایا۔
سوال:بارش کے
وقت کون سی دُعاپڑھی جائے اوراس وقت دُعاکرنےکی کیا فضیلت
ہے؟
جواب: یہ دُعاپڑھی جائے :اَللّٰھُمَّ
صَیِّبًا نَّافِعًا ۔(ترجمہ: اے
اللہ! خوشحال کرنے والی بارش برسا)
بارش کے وقت دُعا قبولیت کے زیادہ
قریب ہے۔
سوال:کیا ہردُنیاوی
نعمت میں زحمت بھی ہے؟
جواب:عموماًہردنیاوی
نعمت کے ساتھ زَحمت(تکلیف)بھی لگی ہوتی ہے ،پھول کے ساتھ کانٹابھی
ہوتاہے۔بعض اوقات نعمت والاتکبُرکاشِکاربھی ہوسکتاہے،اسی طرح ہردُنیاوی کمال
کوزوال ہے۔اللہ پاک ہرحال میں ہمیں عاجزی کرنےاوراپنی بارگاہ
میں جھکنے والا بنائے۔
سوال: بچے بازارکی چیزیں کھائیں تو اس کےکیا نقصانات ہیں ؟
جواب:بازاری
چیزیں بچوں کی صحت کو نقصان پہنچاتی ہیں ،بھوک کم لگتی ہے، جس کی وجہ سے وہ کھانے والی
چیزیں مثلاً پھل فروٹ اورکھانا وغیرہ نہیں کھاتےاورکمزورہوجاتے ہیں ۔
سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ” کعبے کے بارے میں دِلچسپ مُعلومات “پڑھنے یاسُننے والوں کو امیرِاہلِ ِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے کیا دُعا دی؟
جواب:یا الٰہی! جو
کوئی رِسالہ ” کعبے کے بارے میں دِلچسپ مُعلومات “کے 25 صفحات پڑھ یا سُن لے، اُس کو برسات میں طوافِ
کعبہ کی سعادت عنایت فرما۔ اٰمِیْن
بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
آج 27 جون 2020ء کی
شب تقریباً 9:30 بجے مدنی چینل پرہفتہ وار مدنی مذاکرے کا سلسلہ ہوگا جس میں عالمی
مذہبی اسکالر علامہ محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ عاشقان رسول کی
جانب سے ہونے والے سوالات کے جوابات دینگے۔
واضح رہے کہ ملکی
صورتحال کے پیش نظر مدنی مذاکرے اجتماعی طور پر منعقد نہیں ہوگا۔ تمام عاشقان رسول
اپنےاپنے گھروں میں بذریعہ مدنی چینل اس مدنی مذاکرے میں شرکت فرمائیں۔
امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہر ہفتے کسی ایک
رسالے کے مطالعے کی ترغیب ارشاد فرماتے ہیں اور مطالعہ کرنے والوں کو اپنی دعا وں
سے بھی نوازتے ہیں۔
اس ہفتے کا رسالہ ”کعبے
کے بارے میں دلچسپ معلومات“ہے۔ رسالے کا مطالعہ کرنے یا سننے والوں کو
امیر اہلِ سنت دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنی دعاوں سے بھی نوازا ہے۔ دعائے عطار کے
حقدار بننے کے لئے اس رسالے کا ضرور مطالعہ کیجئے۔
دعائے عطار
یا الٰہی! جو کوئی
رسالہ ” کعبے کے بارے میں دلچسپ معلومات “کے
25 صفحات پڑھ یا سن لے اُس کو برسات میں طواف کعبہ سعادت عنایت فرما۔ اٰمین
یہ رسالہ دعوتِ
اسلامی کی ویب سائٹ سے بالکل مفت ڈاون لوڈ کیجئے
رسالہ آڈیو میں
سننے کے لئے کلک کریں
مفتی عمران حنفی کی والدہ، حاجہ مسعودہ اور نور محمد
بھوروی کے لواحقین سے تعزیت
مفتی عمران حنفی قادری صاحب اور مشتاق
قادری،اشفاق قادری، طاہر قادری، اظہر عطاری (سینئر مفتی دارالافتاء جامعہ نعیمیہ لاہور ) کی والدہ محترمہ 26 شوال المکرم 1441ھ کو ہارٹ
اٹیک کے سبب اکبر یہ گاؤں نزد نارین منڈی میں رحلت فرماگئیں۔
خلیفہ حضور مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مولاناغلام
حسین قادری شافعی صاحب کی زوجہ اور محمد
مصطفیٰ قادری شافعی کی والدہ محترمہ حاجہ مسعودہ صاحبہ 21 شوال المکرم 1441ھ کو
بخار کے سبب62 سال کی عمر میں ہند کے شہر ممبئی میں انتقال فرماگئیں۔
حضرت مولانا پیر محمد ارشد سبحانی صاحب اور محمد
افضل کے والد محترم حضرت مولانا نور محمد بھوروی صدیقی صاحب 14 شوال المکرم 1441 ھ کو 72 سال کی عمر
میں خانقاہ سراجیہ میانوالی میں انتقال کرگئی۔
انتقال کی خبر ملنے پر امیر اہل سنت علامہ محمد
الیاس عطار قادری دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے مرحومین
کے تمام لواحقین اور اہل خانہ سے تعزیت کی اور انہیں صبر و ہمت سے کام لینے کی
ترغیب دلائی۔ امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مرحومین کے لئے ایصال ثواب کرتے ہوئے دعائے
مغفرت کی اور لواحقین کو مدنی پھول پیش کئے۔
سراج احمد عطاری (فاضل جامعہ امجدیہ) کو المدینۃ العلمیہ
میں خدمت سر انجام دیتے ہوئے تقریبا 12سال سے زائد ہوگئے ہیں پچھلے دنوں انکے صاحبزادےحافظ فہد حسین عطاری مسجد میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے سو گئےجس کے بعد رات ڈیڑھ بجے کے قریب پیٹ پر سانپ نے ڈس لیا اور
ایک دن بعد21شوال المکرم1441سن ہجری کو 13سال کی عمر میں لاڑجنوبی جلالپور
پیر والا میں رضائے الٰہی سے انتقال ہوگیا۔
انتقال
کی خبر ملنے پر امیر اہل سنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نےسراج احمد عطاری اور ان کے گھر والوں سے تعزیت
کی اور انہیں صبر و ہمت سے کام لینے کی تلقین فرمائی۔ نیز امیر اہل سنت دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نےمرحوم حافظ فہد حسین عطاری کے لئے ایصال ثواب
کیا اور مدنی منے کو آخرت میں اپنے والدین کی نجات کا ذریعہ بننے کے لئے بارگاہ رب
العزت عَزَّوَجَلَّ میں دعا کی۔
دارالعلوم غوثیہ کراچی کے شیخ الحدیث والتفسیر پیر طریقت حضرت علامہ مولانامفتی عبد الحلیم ہزاروی صدیقی صاحب24 شوال المکرم
1441ھ کو دار فانی سے کوچ فرماگئے۔
انتقال کی خبر ملنے پر امیر اہل سنت علامہ محمد
الیاس عطار قادری دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نےمفتی
عبد الحلیم ہزاروی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کے تمام مریدین، محبین اور معتقدین سے تعزیت کی اور صبر کرنے کی تلقین
فرمائی۔ امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مرحوم
کے لئے ایصالِ ثواب کیا اور ان کی دینی خدمات بارگاہِ رب العزت میں قبول ہونے اور
درجات کی بلندی کے لئے دعائیں کیں۔
حصول ِعلم کے بنیادی ارکان میں اہم رُکن استاد
ہے، تحصیلِ علم میں جس طرح درسگاہ و کتاب
کی اہمیت ہے اسی طرح حصول ِعلم میں استاد کا ادب و احترام مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔
استاد کی تعظیم و احترام شاگرد پر
لازم ہے کہ استاد کی تعظیم کرنا بھی علم ہی کی تعظیم ہے اورادب کے بغیر علم تو شاید
حاصل ہوجائےمگر فیضانِ علم سے یقیناً محرومی ہوتی ہے اسے یوں سمجھئے : ”باادب بانصیب ،بے
ادب بے نصیب“
استاد کے ادب کے مختلف دینی اور دُنیوی فوائد طالبِ علم کو حاصل ہوتے ہیں جن میں بعض یہ ہیں:
(1) امام بُرھان
الدّین زرنوجی رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایک طالبِ
علم اس وقت تک علم حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس سے نفع اٹھاسکتا ہے جب تک کہ وہ
علم ،اہلِ علم اور اپنے استاد کی تعظیم و توقیر نہ کرتا ہو ۔
(2) امام فخرالدین ارسا بندی رحمۃ اللہ
علیہ مَرْو
شہر میں رئیسُ الائمہ کے مقام پر فائز تھے اورسلطانِ وقت آپ کا بے حد ادب واحترام
کیا کرتاتھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے یہ منصب اپنے استاد کی خدمت و ادب کرنے کی وجہ سے ملا ہے۔
(3) کیو نکہ
استاد ہو یا طبیب دونوں ہی اس وقت نصیحت نہیں کرتے جب تک ان کی تعظیم وتکریم نہ کی
جائے ۔([i])
(4)صلاحیت ِفکر وسمجھ میں اضافہ ہونا
(5)ادب کے ذریعے استادکے
دل کو خوش کرکے ثواب حاصل کرنا، حدیث ِپاک میں ہے: اللہپاک کے فرائض کے بعد سب
اعمال سے زیادہ پیارا عمل مسلمان کادل خوش کرناہے۔([ii])
(6)ادب کرنے والوں کو اساتذۂ کرام دل سے دُعائیں دیتے ہیں اور بزرگوں کی دعا سے انسان کو بڑی اعلیٰ نعمتیں حاصل ہوتی ہیں۔([iii])
(7)ادب کرنے والے کو نعمتیں حاصل ہوتیں ہیں اور وہ زوالِ نعمت سے بچتا ہےکیونکہ
جس نے جو کچھ پایا ادب واحترام کرنے کے سبب ہی سے پایا اورجس نے جوکچھ کھویا وہ
ادب و احترام نہ کرنے کے سبب ہی کھویا ۔([iv])
(8)استاد کےادب سے علم کی راہیں
آسان ہوجاتی ہیں۔([v])
والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کو علم و اہلِ علم کا ادب سکھائیں۔حضرت
ابنِ عمر رضی
اللہ عنہ نے ایک شخص سے فرمایا: اپنے بیٹے کو ادب سکھاؤ
بے شک تم سے تمھارے بیٹے کے بارے میں پوچھا جائے گا اور جو تم نے اسے سکھایا اور تمھاری
فرمانبرداری کے بارے میں اس لڑکے سےسوال کیا جائے گا۔([vi])
اللہ پاک ہمیں اپنے والدین، اساتذہ اور پیر ومرشد کا
فرمانبردار اور باادب بنائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
محمد عمیرعطّاری مدنی
(مدرس جامعۃ
المدینہ فیضانِ غوثِ اعظم،ولیکا سائٹ،
کراچی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Dawateislami