سراج احمد عطاری (فاضل جامعہ امجدیہ) کو المدینۃ العلمیہ
میں خدمت سر انجام دیتے ہوئے تقریبا 12سال سے زائد ہوگئے ہیں پچھلے دنوں انکے صاحبزادےحافظ فہد حسین عطاری مسجد میں قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے سو گئےجس کے بعد رات ڈیڑھ بجے کے قریب پیٹ پر سانپ نے ڈس لیا اور
ایک دن بعد21شوال المکرم1441سن ہجری کو 13سال کی عمر میں لاڑجنوبی جلالپور
پیر والا میں رضائے الٰہی سے انتقال ہوگیا۔
انتقال
کی خبر ملنے پر امیر اہل سنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نےسراج احمد عطاری اور ان کے گھر والوں سے تعزیت
کی اور انہیں صبر و ہمت سے کام لینے کی تلقین فرمائی۔ نیز امیر اہل سنت دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نےمرحوم حافظ فہد حسین عطاری کے لئے ایصال ثواب
کیا اور مدنی منے کو آخرت میں اپنے والدین کی نجات کا ذریعہ بننے کے لئے بارگاہ رب
العزت عَزَّوَجَلَّ میں دعا کی۔
دارالعلوم غوثیہ کراچی کے شیخ الحدیث والتفسیر پیر طریقت حضرت علامہ مولانامفتی عبد الحلیم ہزاروی صدیقی صاحب24 شوال المکرم
1441ھ کو دار فانی سے کوچ فرماگئے۔
انتقال کی خبر ملنے پر امیر اہل سنت علامہ محمد
الیاس عطار قادری دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نےمفتی
عبد الحلیم ہزاروی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کے تمام مریدین، محبین اور معتقدین سے تعزیت کی اور صبر کرنے کی تلقین
فرمائی۔ امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مرحوم
کے لئے ایصالِ ثواب کیا اور ان کی دینی خدمات بارگاہِ رب العزت میں قبول ہونے اور
درجات کی بلندی کے لئے دعائیں کیں۔
حصول ِعلم کے بنیادی ارکان میں اہم رُکن استاد
ہے، تحصیلِ علم میں جس طرح درسگاہ و کتاب
کی اہمیت ہے اسی طرح حصول ِعلم میں استاد کا ادب و احترام مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔
استاد کی تعظیم و احترام شاگرد پر
لازم ہے کہ استاد کی تعظیم کرنا بھی علم ہی کی تعظیم ہے اورادب کے بغیر علم تو شاید
حاصل ہوجائےمگر فیضانِ علم سے یقیناً محرومی ہوتی ہے اسے یوں سمجھئے : ”باادب بانصیب ،بے
ادب بے نصیب“
استاد کے ادب کے مختلف دینی اور دُنیوی فوائد طالبِ علم کو حاصل ہوتے ہیں جن میں بعض یہ ہیں:
(1) امام بُرھان
الدّین زرنوجی رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایک طالبِ
علم اس وقت تک علم حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس سے نفع اٹھاسکتا ہے جب تک کہ وہ
علم ،اہلِ علم اور اپنے استاد کی تعظیم و توقیر نہ کرتا ہو ۔
(2) امام فخرالدین ارسا بندی رحمۃ اللہ
علیہ مَرْو
شہر میں رئیسُ الائمہ کے مقام پر فائز تھے اورسلطانِ وقت آپ کا بے حد ادب واحترام
کیا کرتاتھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے یہ منصب اپنے استاد کی خدمت و ادب کرنے کی وجہ سے ملا ہے۔
(3) کیو نکہ
استاد ہو یا طبیب دونوں ہی اس وقت نصیحت نہیں کرتے جب تک ان کی تعظیم وتکریم نہ کی
جائے ۔([i])
(4)صلاحیت ِفکر وسمجھ میں اضافہ ہونا
(5)ادب کے ذریعے استادکے
دل کو خوش کرکے ثواب حاصل کرنا، حدیث ِپاک میں ہے: اللہپاک کے فرائض کے بعد سب
اعمال سے زیادہ پیارا عمل مسلمان کادل خوش کرناہے۔([ii])
(6)ادب کرنے والوں کو اساتذۂ کرام دل سے دُعائیں دیتے ہیں اور بزرگوں کی دعا سے انسان کو بڑی اعلیٰ نعمتیں حاصل ہوتی ہیں۔([iii])
(7)ادب کرنے والے کو نعمتیں حاصل ہوتیں ہیں اور وہ زوالِ نعمت سے بچتا ہےکیونکہ
جس نے جو کچھ پایا ادب واحترام کرنے کے سبب ہی سے پایا اورجس نے جوکچھ کھویا وہ
ادب و احترام نہ کرنے کے سبب ہی کھویا ۔([iv])
(8)استاد کےادب سے علم کی راہیں
آسان ہوجاتی ہیں۔([v])
والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کو علم و اہلِ علم کا ادب سکھائیں۔حضرت
ابنِ عمر رضی
اللہ عنہ نے ایک شخص سے فرمایا: اپنے بیٹے کو ادب سکھاؤ
بے شک تم سے تمھارے بیٹے کے بارے میں پوچھا جائے گا اور جو تم نے اسے سکھایا اور تمھاری
فرمانبرداری کے بارے میں اس لڑکے سےسوال کیا جائے گا۔([vi])
اللہ پاک ہمیں اپنے والدین، اساتذہ اور پیر ومرشد کا
فرمانبردار اور باادب بنائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
محمد عمیرعطّاری مدنی
(مدرس جامعۃ
المدینہ فیضانِ غوثِ اعظم،ولیکا سائٹ،
کراچی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پچھلے دنوں خلیفہ فیض ملت صوفی مقصود حسین قادری نوشاہی اویسی ،خالد محمود عابد حسین اور آصف شریف کی والدہ
محترمہ اور جنید قادری رضوی کی دادی جان جمیلہ بیگم گردوں کی تکلیف کے سبب
2 جماد الاخریٰ 1441سن ہجری کو تقریبا 85 سال کی عمر میں کراچی میں انتقال کرگئیں۔
انتقال کی خبر ملنے
پر امیر اہل سنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے تمام سوگواروں سے تعزیت کی اور صبروہمت سے
کام لینے کی تلقین فرمائی۔ امیر اہل سنت دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مرحومہ جمیلہ بیگم کے لئے ایصال ثواب کرتے ہوئے
دعائے مغفرت کی اور لواحقین کو مدنی کام
کرنے کی ترغیب دلائی۔
مولانا عبد
التواب صدیقی اچھروی صاحب طویل علالت کے
بعد 26 شوال المکرم 1441ھ کو72 سال کی عمر میں لاہور میں رضائے الٰہی سے انتقال
فرماگئے۔
انتقال کی خبر ملنے پر امیر اہل سنت علامہ محمد الیاس
عطار قادری دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مولانا عبد التواب صدیقی اچھروی رحمۃ اللہ علیہ کے
صاحبزادگان مولانا ظِلِّ عمر صدیقی صاحب،محمد ابو بکر صدیقی، عثمان صدیقی، مولانا
علی صدیقی صاحب اور بھائی جان محمد ظفر صدیقی سمیت تمام سوگواروں سے تعزیت کی اور
صبر کی تلقین فرمائی۔امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مرحوم کے لئے
ایصالِ ثواب کیا اور ان کی دینی خدمات بارگاہِ رب العزت میں قبول ہونے اور درجات کی
بلندی کے لئے دعائیں کیں۔
مدنی چینل کا مقبول عام سلسلہ ”دلوں کی رات“ آج
رات براہ راست نشر کیا جائیگا۔ اس پروگرام میں امیر اہل سنت علامہ محمد الیاس عطار
قادری دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ناظرین کو اپنے قیمتی مدنی پھول ارشاد فرمائیں
گےاور عاشقان رسول کی جانب سے ہونے والے سوالات کے جوابات دینگے۔عاشقان رسول اپنے
اپنے گھروں پر مدنی چینل کےذریعے ضرور بالضرور شرکت کریں۔
جسےکروناہوجائے اگروہ اس میں فوت ہوجاتاہے تو شہادت
کا درجہ پاتاہے ۔اگروہ صحت یاب ہوجائے تو اسے پلازمہ حاصل ہوجاتاہے ،ایسے کو چاہئے کہ اللہ پاک کی رضا ،ثواب کمانے ،اللہ پاک کی رحمت لُوٹنے کے لیے اورمسلمانوں کی خیرخواہی کرتے
ہوئے اپنا پلازمہ کرونا کےمریض کوعطیہ(Donate) کردے،ہوسکتاہے کہ اُس کاپلازمہ مریض کی جان بچانےکاسبب بن جائے ۔ یہ کہنا تھا عالمی مذہبی اسکالر علامہ محمد الیاس عطار قادری
دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا جو
گزشتہ رات مدنی مذاکرے گفتگو فرمارہے تھے۔
آپ کا مزید کہنا تھا کہ غورکیجئے کہ پلازمہ دینے والے سے مریض اوراس کے قریبی رشتہ
دارکتنے خوش ہوں گے اوردعائیں دیں گے ۔پلازمہ
دینے میں دنیاوآخرت کے کئی فوائدہیں،دعوتِ
اسلامی کے ذریعےبھی پلازمہ دیا جاسکتاہے ۔
ایک سوال کے جواب میں آپ کا کہنا تھا کہ سورج گِہن کی نماز سُنّتِ
مؤکدہ ہے۔21جون 2020ء کوپاکستان میں سورج گِہن کےاوقات مختلف ہیں، البتہ صبح 10:00بجے سے11:00 بجے تک پاکستان بھرمیں سورج گِہن کی نمازپڑھی جاسکتی ہے۔یہ نمازبھی
نوافل کی طرح 2 رکعت پڑھیں۔
مدنی مذاکرے کے چند
منتخب مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:
سوال:امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ
الْعَالِیَہ سے
عرض ہے کہ جو اپنا پلازمہ دعوتِ اسلامی کو عطیہ دے، اُن کے لیے دُعافرمادیں ؟
جواب:یاربَّ
المصطفےٰ! جو عاشقِ رسول دعوتِ اسلامی کواپنا پلازمہ عطیہ(Donate) کرے تاکہ تیرے محبوبصلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے کسی
دُکھیارے اُمتی کو پیش کیا جاسکے،اس کی پیشکش کوقبول فرما،اِلٰہَ الْعَالَمِیْن!اس کو آئندہ کے لئے آفات و بلیّات سے محفوظ فرما، اس کی آل
اولاد کو بھی محفوظ فرما، اِلٰہَ الْعَالَمِیْن! اس
کو سلامتیِ ایمان نصیب فرما، نزعِ روح میں آسانی دے، کلمہ
پڑھتے ہوئے اس کی روح قبض ہو، محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے جلوؤں میں اس کی روح قبض ہو،اےکاش!
جنت الفردوس میں اسے تیرے پیارے حبیب صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا
پڑوس نصیب ہوجائے، دنیاو آخرت کی بھلائیاں اس کا مقدر ہوجائیں۔ اے اللہ! جو جو پلازمہ کے لئے کوششیں کریں ، بھاگ دوڑ
کریں، کسی کو راضی کریں، اس میں تعاون کریں، ان سب کے حق میں بھی یہ دعائیں قبول
فرما۔
سوال:ٹینشن(Tension) کا کیا نقصان ہے؟
جواب:ٹینشن کئی
بیماریاں لاتاہے۔
سوال:قبروالوں
کوسلام کس طرح کرناچاہئے ؟
جواب:قبروالوں کےچہرے کی جانب رخ کرےاوراس طرح سلام
کرے :ﺍَﻟسَّلَاﻡُ
ﻋَﻠَیْکُمْ ﻳَﺂﺍَﻫْﻞَ ﺍﻟْﻘُﺒُﻮْﺭِ ﻳَﻐْﻔِﺮُاﷲُ ﻟَﻨَﺎﻭَلَکُمْ ﻭَﺍَﻧْﺘُﻢْ
ﺳَﻠَﻔُﻨَﺎﻭَﻧَﺤْﻦُ ﺑِﺎلْاَثَرْ
(ترجمہ:اے قبروالو! تم
پر سلام ہو،اللہ ہمیں اورتمہیں بخشے ،تم آگےجاچکےہواورہم تمہارے پیچھے آنے والے
ہیں ۔)
سوال:اپنی قومی
زبان سیکھنےکی کیا اہمیت ہے؟ نیز اردوزبان کےبارے میں آپ کیا فرماتےہیں ؟
جواب:بےشک اپنی
قومی زبان بھی آنی چاہئے،میں اردوزبان
سے بہت محبت کرتاہوں کیونکہ میرےاعلیٰ
حضرت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں :’’اسلام نے اُردوزبان کواپنے دامن میں لے لیا ہے۔‘‘پاکستان والوں کی
قومی زبان بھی اُردوہے۔ اس لیےاردو آنی چاہئے،مزیدیہ کہ انگلش انٹرنیشنل زبان ہے،
اس کی بھی ضرورت پیش آتی ہے ،انگلش بھی سیکھنی چاہئے۔دنیا بھرمیں رہنے والے ایشین
عاشقانِ رسول کواُردوسیکھنی چاہئے اس کے ذریعے دِین سیکھناآسان ہوگا۔
سوال:آپ کیساپانی
پیتے ہیں ؟
جواب: میں سردیوں گرمیوں میں نیم گرم پانی پیتاہوں ،اسی
کا معمول ہے۔
سوال:آپ دردِ
مدینہ حاصل ہونے کی دعاکرتےہیں ،دردِ مدینہ سےکیا مُرادہے؟
جواب:یہ ایک کیفیت
ہے، محبت،اُلفت،عشق،غم وغیرہ اس سے ملتی جلتی کیفیات ہیں، کیونکہ ہم مدینہ
شریف سے دُورہیں، اس لیے یہ دردِ مدینہ کی دُعاکی جاتی ہے۔دردِ مدینہ کا حاصل
ہوجاناسعادت ہے۔
سوال:کیادُعااوربددُعاکااثرہماری
زندگی میں ہوتاہے ؟
جواب:جی ہاں
ہوتاہے۔
سوال:جماہی
یعنی اُباسی کس کی جانب سےہے؟
جواب:شیطان کی
طرف سے ۔
سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ”کونسی دعا نہیں کرنی چاہیئے“پڑھنے یاسُننے والوں کو امیرِاہلِ
ِسُنّت دَامَتْ
بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب:یا الٰہی! جو
کوئی رسالہ ”کونسی دعا نہیں کرنی چاہیئے“کے 22 صفحات پڑھ یا سُن لے، اُس کو دُعا مانگنے کا سلیقہ عطا فرما اور بے
حساب بخش دے۔
اٰمِیْن
بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم
جانشین عطار حاجی مولانا عبید رضاعطاری مدنی مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی کی
اسلام آباد ریجن کے شہر راولپنڈی میں تشریف آوری ہوئی۔ اس موقع پر تھیسلیمیا اور
دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کو خون فراہم کرنے والے فلاحی ادارے کے آفتاب حسین (چیف ایڈمنسٹریٹر ایئرمارشل جنرل ریٹائرڈ) نے صاحبزادہ عطار مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی سے
ملاقات کی۔ آفتاب حسین نے موجودہ صورت حال میں تھیلیسیمیا اور دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کیلئےفلاحی ادارے کو دیئے
جانے والے خون کے عطیات پر اظہار تشکر کیا اور دعوت اسلامی کے فلاحی کاموں کو خوب
سراہا۔صاحبزادہ عطار مَدَّظِلُّہُ الْعَالِینے
آفتاب حسین کو عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی نے کی دعوت دی اور کتاب ”سیرت
مصطفیٰ“ تحفے میں پیش کی۔اس موقع پر رکن شوریٰ حاجی وقار المدینہ عطاری بھی موجود
تھے۔
امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہر ہفتے کسی ایک
رسالے کے مطالعے کی ترغیب ارشاد فرماتے ہیں اور مطالعہ کرنے والوں کو اپنی دعا وں
سے بھی نوازتے ہیں۔
اس ہفتے کا رسالہ ”کونسی
دعا نہیں کرنی چاہیئے“ہے۔ رسالے کا مطالعہ کرنے یا سننے والوں کو امیر
اہلِ سنت دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنی دعا وں سے بھی نوازا ہے۔ دعائے عطار کے
حقدار بننے کے لئے اس رسالے کا ضرور مطالعہ کیجئے۔
دعائے عطار
یا الٰہی! جو کوئی رسالہ ”کونسی دعا نہیں کرنی چاہیئے“کے 22 صفحات پڑھ یا
سن لے اُس کو دعا مانگنے کا سلیقہ عطا فرما اور بے حساب بخش دے۔ اٰمین
یہ رسالہ دعوتِ
اسلامی کی ویب سائٹ سے بالکل مفت ڈاون لوڈ کیجئے
حاجی الیاس کے صاحبزادوں محمد حنیف میمن اور
عاطف کی والدہ محترمہ، دعوت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن حاجی مولانا عبد
الحبیب عطاری کے بچوں کی نانی جان بلقیس بانو20 شوال المکرم 1441ھ کو جوہانسبرگ
ساوتھ افریقہ میں انتقال فرماگئیں۔
امیر اہل سنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ
الْعَالِیَہ نےبلقیس بانو مرحومہ
کے تمام سوگواروں سے تعزیت کی اور صبر و ہمت سے کام لینے کی تلقین کی۔ امیر اہل
سنت دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نےمرحومہ
کے لئے ایصال ثواب کیا اور دعائے مغفرت
کی۔ امیر اہل سنت دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نےمرحومہ کے ایصال ثواب کے لئے تمام لواحقین کومدنی کاموں میں حصہ ملانے کی ترغیب دلائی۔
سید محبوب عطاری کے صاحبزادے ، سید اعظم عطاری، سید وقاص عطاری اور سید فیصل
عطاری کے بھائی جان مولانا محمد اویس مدنی عطاری 15شوال المکرم 1441ھ کو کراچی میں رحلت فرماگئے۔
انتقال
کی خبر ملنے پر امیر اہل سنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے تمام سوگواروں سے تعزیت کی اور صبروہمت سے
کام لینے کی تلقین فرمائی۔ امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نےمحمد اویس مدنی عطاری مرحوم کے لئے ایصال ثواب کرتے
ہوئے دعائے مغفرت کی اور لواحقین کو مدنی کام کرنے کی ترغیب دلائی۔
آج 20 جون 2020ء کی شب تقریباً 9:30 بجے مدنی چینل
پرہفتہ وار مدنی مذاکرے کا سلسلہ ہوگا جس میں عالمی مذہبی اسکالر علامہ محمد الیاس
عطار قادری دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ عاشقان رسول کی جانب سے ہونے والے سوالات کے
جوابات دینگے۔
واضح رہے کہ ملکی صورتحال کے پیش نظر مدنی
مذاکرے اجتماعی طور پر منعقد نہیں ہوگا۔ تمام عاشقان رسول اپنےاپنے گھروں میں بذریعہ
مدنی چینل اس مدنی مذاکرے میں شرکت فرمائیں۔
Dawateislami