واٹس ایپ نمبر :03178360149

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو اعلیٰ اخلاقی اقدار کی تعلیم دیتا ہے۔ انہی اعلیٰ صفات میں سے ایک اہم صفت وعدہ وفائی بھی ہے۔ قرآنِ کریم میں وعدہ پورا کرنے کو ایمان کی نشانی اور وعدہ خلافی کو گناہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہ صفت ہے جس پر انسانی معاشرے کا اعتماد قائم ہوتا ہے۔انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی زندگیوں سے اس صفت کا عملی نمونہ پیش کیاہے۔ آئیے قرآن پاک کی روشنی میں وعدہ وفائی کے متعلق کچھ جانتے ہیں :

وعدہ پورا کرنے کا حکم :(1) وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (پ15، الاسراء:34)

اس آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیاہے خواہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں کا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت کرنے کا ہے۔(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: 34، 5 / 155، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: 34، 3 / 174، ملتقطاً)اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔

( 2) اسی طرح اللہ تعالیٰ سورۃ المائدۃ میں فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد) پورے کرو۔ (پ 6، المائدة: 1)

عُقود کا معنیٰ عہد ہیں ، انہیں پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے مراد کون سے عہد ہیں اس بارے میں مفسرین کے چند اقوال ہیں :

(1) امام ابن جریج رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ یہاں اہلِ کتاب کو خطاب فرمایا گیا ہے اور معنیٰ یہ ہیں کہ اے اہلِ کتاب کے مومنو! میں نے گزشتہ کتابوں میں سیدُ المرسلین ﷺ پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی اطاعت کرنے کے متعلق جو تم سے عہد لئے ہیں وہ پورے کرو۔(2) بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس آیت میں خطاب مؤمنین کو ہے، انہیں اپنے عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔(3) حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ ان عقود یعنی عہدوں سے مراد ایمان اور وہ عہد ہیں جو حرام و حلال کے متعلق قرآنِ پاک میں لئے گئے۔(4) بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس میں مؤمنین کے باہمی معاہدے مراد ہیں۔ (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: 1، ۱/ 458)

( 3) وعدہ خلافی گناہ ہے :فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَة

ترجمہ کنزالایمان: تو اُن کی کیسی بدعہدیوں پر ہم نے انہیں لعنت کی اور اُن کے دل سخت کردئیے ۔(پ 6 ، المائدة، 13)

بنی اسرائیل نے عہد ِالٰہی کو توڑا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد آنے والے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قتل کیا اور تورات کے احکام کی مخالفت کی نیز ان آیات کو بدل دیا جن میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی نعت و صفت کا بیان تھا جو توریت میں بیان کی گئیں ہیں نیز انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بہت سی ہدایات کو فراموش کردیا جو توریت میں دی گئی تھیں کہ وہ تاجدارِ رسالت ﷺ کی پیروی کریں اور ان پر ایمان لائیں تو ان حرکتوں کے نتیجے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کے دل سخت کردئیے۔ (تفسیر صراط الجنان جلد 02،صفحہ نمبر 445،446)

گناہوں کی وجہ سے دل سخت ہو جاتے ہیں : اس سے معلوم ہوا کہ بداعمالیوں کی وجہ سے بھی دل سخت ہوجاتے ہیں۔ حضرت یحیٰ بن مُعاذ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:آنسو دلوں کی سختی کی وجہ سے خشک ہوتے ہیں اور دلوں کی سختی گناہوں کی کثرت کی وجہ سے ہوتی ہے اور عیب زیادہ ہونے کی وجہ سے گناہ کثیر ہوتے ہیں۔(شعب الایمان، السابع والاربعون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی الطبع علی القلب او الرین، 5 / 446، الحدیث: 7221)

( 4) انبیاء کرام علیہم السلام کی وعدہ وفائی کی مثالیں:وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ٘-اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ

ترجمہ کنز الایمان: اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بےشک وہ وعدے کا سچا تھا۔ (پ 16 ، مریم : 54)

حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فرزند ہیں اور سیّد المرسَلین ﷺ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد سے ہیں ۔ اس آیت میں حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا وصف بیان کیا گیا ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وعدے کے سچے تھے ۔ یاد رہے کہ تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وعدے کے سچے ہی ہوتے ہیں مگرآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا خصوصی طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس وصف میں بہت زیادہ ممتاز تھے، چنانچہ ایک مرتبہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوکوئی شخص کہہ گیا جب تک میں نہیں آتا آپ یہیں ٹھہریں توآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس کے انتظار میں 3دن تک وہیں ٹھہرے رہے۔ اسی طرح (جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ذبح کرنے لگے تو) ذبح کے وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے صبر کرنے کا وعدہ فرمایا تھا، اس وعدے کو جس شان سے پورا فرمایا اُس کی مثال نہیں ملتی۔( خازن، مریم، تحت الآیۃ: 54، 3/ 238)

قرآنِ کریم کی تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ وعدہ وفائی مومن کی شان اور ایمان کی علامت ہے، جبکہ وعدہ خلافی اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور دل کی سختی کا سبب بنتی ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی مبارک زندگیوں سے ہمیں سکھایا کہ ہر حال میں عہد کو نبھانا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔افسوس کہ وعدہ پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن پاک میں مذکور وعیدوں سے عبرت حاصل کریں۔ اور اللہ تعالیٰ سے کیے گئے عہد کی پاسداری کریں۔ ہم سب پر لازم ہے کہ ہم اپنے ہر وعدے میں سچائی اور امانت داری اختیار کریں، جھوٹ، بدعہدی اور وعدہ خلافی سے بچیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو دلوں کو نرم، معاشرہ کو مضبوط، اور زندگی کو کامیاب بناتا ہے۔ اگر ہم اس اصول کو اپنائیں تو نہ صرف اللہ کی رضا حاصل ہوگی بلکہ ہماری زندگی میں بھی اعتماد، عزت اور امن قائم ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں وعدہ وفائی کرنے والا اور بدعہدی سے محفوظ رکھنے والا بنائے۔ آمین۔