واٹس ایپ نمبر :03169392798

وعدہ وفائی (وعدےکی پابندی) اسلام کی بنیادی اخلاقی اصولوں میں سے ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ پاک نے متعدد جگہوں پر وعدہ پورا کرنے کا حکم دیا ۔ اور ایفائے عہد کوایمان کی علامت قرار دیا۔ جو شخص اپنے قول و قرار کا پاس رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب اور لوگوں کے درمیان معزز ہوتا ہے، اور جو وعدہ خلافی کرتا ہے وہ اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔

(1) وعدہ پورا کرنے کا قرآنی حکم:قرآنِ کریم میں اللہ پاک کا واضح ارشاد ہے:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (بنی اسرائیل:34)

آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیاہے خواہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں کا۔اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت کرنے کا ہےاور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔افسوس کہ وعدہ پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں ۔( صراط الجنان،ج،5،ص:460)

اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو!تمام عہد پورے کیا کرو۔(المائدۃ:1)

یہ آیت بتاتی ہے کہ معاملات، معاہدات، نکاح، تجارت اور دیگر تمام معاہدوں کی پابندی شرعی فریضہ ہے۔

(2) ایفائے عہد ایمان کی علامت:قرآن مجید میں مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)

ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔ (مؤمنون:8)

اس آیت میں کامیابی حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے مزید دو وصف بیان کئے گئے (1) اگر ان کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائی جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کرتے (2)اور جس سے وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں ۔اہم بات: امانتیں خواہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ہوں یا مخلوق کی اور اسی طرح عہد خدا عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ ہوں یا مخلوق کے ساتھ، سب کی وفا لازم ہے۔( تفسیر تعلیم القرآن ،ج دوم،ص:119/120)

(3)اللہ کا عہد پورا کرو:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّم

ترجمۂ کنز العرفان:اور اللہ کا عہد پورا کرو جب تم کوئی عہد کرو ۔(النحل:91)

اس آیت کے تحت مفتی صاحب لکھتے ہیں:یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے(بیعتِ رضوان کے موقع پر) رسول کریم ﷺ سے اسلام پر بیعت کی تھی، انہیں اپنے عہد پورے کرنے کا حکم دیا گیا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے وہ عہد ہے جسے انسان اپنے اختیار سے اپنے اوپر لازم کر لے اور اس میں وعدہ بھی داخل ہے کیونکہ وعدہ عہد کی قسم ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’وعدہ عہد ہی کی ایک قسم ہے۔ حضرت میمون بن مہران رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’تم جس شخص سے بھی عہد کرو تواسے پورا کرو ، خواہ وہ شخص مسلمان ہو یا کافر ، کیونکہ تم نے اس عہد پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نام لیا(اور اسے ضامن بنایا)ہے۔ حضرت علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’عہد سے مراد ہر وہ چیز ہے جسے پورا کرنا انسان پر لازم ہے خواہ اسے پورا کرنا اللہ تعالیٰ نے بندے پر لازم کیا ہو یا بندے نے خود اسے پورا کرنا اپنے اوپر لازم کر لیا ہو جیسے پیرانِ عظام کے اپنے مریدین سے لئے ہوئے عہد کیونکہ ان میں مریدین اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور کسی کام میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت نہ کرنے کو اپنے اوپر لازم کر لیتے ہیں لہٰذا مریدین پر اسے پورا کرنا لازم ہے۔( صراط الجنان ،ج،5،ص:373 /374)

(4)عہد کی پاسداری متقین کی صفت:بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ(۷۶)

ترجمہ کنز الایمان: جس نے اپنا عہد پورا کیا اور پرہیزگاری کی اور بے شک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں۔ (اٰل عمران:76)

یہاں وعدہ وفائی کو تقویٰ کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

(5)انبیاء علیہم السلام کی سنت:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ٘-اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ(۵۴) ترجمہ کنز العرفان: اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا اور غیب کی خبریں دینے والارسول تھا۔ (مریم:54)

اس آیت کریمہ کے تحت صراط الجنان میں ہے:آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وعدے کے سچے تھے ۔ یاد رہے کہ تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وعدے کے سچے ہی ہوتے ہیں مگرآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا خصوصی طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس وصف میں بہت زیادہ ممتاز تھے، چنانچہ ایک مرتبہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوکوئی شخص کہہ گیا جب تک میں نہیں آتا آپ یہیں ٹھہریں توآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس کے انتظار میں 3دن تک وہیں ٹھہرے رہے۔ اسی طرح (جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ذبح کرنے لگے تو) ذبح کے وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے صبر کرنے کا وعدہ فرمایا تھا، اس وعدے کو جس شان سے پورا فرمایا اُس کی مثال نہیں ملتی۔

رسولِ اکرم ﷺ کی وعدہ وفائی:اوپر بیان ہو اکہ حضرت اسماعیل کسی جگہ پر 3دن تک ایک شخص کے انتظار میں ٹھہرے رہے،اسی طرح کا ایک واقعہ سیّد المرسَلین ﷺ کے بارے میں بھی اَحادیث کی کتابوں میں موجود ہے، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن ابو الحمساء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : بِعْثَت سے پہلے میں نے نبی کریم ﷺ سے کوئی چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت میری طرف باقی رہ گئی تھی۔ میں نے وعدہ کیا کہ اسی جگہ لاکر دیتا ہوں ، میں بھول گیا اور تین دن کے بعد یاد آیا، میں گیا تو آپ ﷺ اسی جگہ موجود تھے۔ ارشاد فرمایا ’’اے نوجوان! تو نے مجھے تکلیف دی ہے، میں تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔( صراط الجنان ،ج،6 ، ص : 121/122)

وعدہ پورا کرنے سے اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے،معاشی نظام مضبوط ہوتا ہے۔ خاندانی زندگی میں سکون پیدا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔اگر معاشرہ وعدہ وفائی کو اپنالے تو جھوٹ، دھوکہ اور بے اعتمادی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہمیں وعدہ پورا کرنے اور وعدہ خلافی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ۔