مخاطب
کو نظر انداز مت کیجیے از بنت زاہد اقبال،فیضان فاطمۃ الزہرا نارووال
انسانی زندگی
میں رابطے کی بنیاد موثر گفتگو اور صحیح فہم و تفہیم پر قائم ہے۔ ہر معاشرتی،
تعلیمی، یا پیشہ ورانہ بات چیت کا بنیادی مقصد صرف بولنا ہی نہیں بلکہ مخاطب کو
سمجھنا اور اس کی بات کو اہمیت دینا بھی ہے۔ سورۂ لقمن آیت نمبر18 میں ہے: وَ
لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاؕ-اِنَّ
اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ(۱۸) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات
کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر اور زمین میں اکڑتے ہوئے نہ چل، بیشک الله کو ہر
اکڑنے والا، تکبر کرنے والا ناپسند ہے۔
یاد رکھیں!
انسان کی فطری خواہش میں سے ہے کہ اس کی بات کو اہمیت دی جائے توجہ سے سنا جائے،
گفتگو میں مخاطب كو اہمیت نہ دینا اسلامی تہذیب اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے۔
نظر
انداز کرنے کی مثالیں: کسی کی بات توجہ سے نہ سننا، اچھے کام پر سراہنے کی
بجائے حوصلہ شکنی کرنا وغیرہ۔
اگر ہم کسی
گفتگو میں صرف اپنی بات کہنے پر اصرار کریں اور مخاطب کے احساسات،نظریات اور
خیالات کو نظر انداز کریں تو ایسی گفتگو بے اثر ہو جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ
مخاطب کو نظر انداز نہ کریں۔ بلکہ اس سے گفتگو کا مرکزی نقطہ بنائیں۔
مخاطب سے مراد
وہ شخص ہے جو ہماری گفتگو یا پیغام کا سامع ہو۔ گفتگو ہمیشہ دو طرفہ عمل ہے۔ ایک
بولنے والا،دوسرا سننے والا۔ اگر سننے والا بولنے والے کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش
نہ کرے یا بولنے والا مخاطب کی حالت ذہنی اور جذباتی کیفیت کو نظر انداز کرے تو اس
بات کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مفکرین اور خطبا ہمیشہ اپنے بیان میں
مخاطب کے لحاظ سے الفاظ، لہجہ اور طرز بیان کا انتخاب کرتے ہیں۔
مخاطب کو
اہمیت دینا دراصل احترام انسانیت کی علامت ہے۔ جب آپ کسی کی بات غور سے سنتے ہیں
تو آپ اسے یہ احساس دلاتے ہیں کہ اس کی بات قیمتی ہے اور آپ اس کے جذبات کا احترام
کرتے ہیں۔ اس لیے دانشور کہتے ہیں سننا بولنے سے زیادہ اہم فن ہے گفتگو کے مؤثر
ہونے کے لیے ضروری ہے کہ بولنے والا اپنے مخاطب کے علم، عمر، ماحول اور مزاج کے
مطابق گفتگو کرے۔ قرآن مجید میں بھی یہی اصول بیان ہوا ہے کہ لوگوں سے ان کی سمجھ
کے مطابق بات کرو۔
Dawateislami