خود پسندی یہ ہے کہ جس شخص کو اللہ تبارک و تعالی نے
اپنے فضل و کرم سے دینی یا دنیاوی کوئی نعمت عطا کی ہو وہ یہ تصور کرے کہ اس نعمت
کا ملنا میری ذاتی کاوش کا نتیجہ ہے اور اس پر ناز کرنے لگے۔ خود پسندی ایک مذموم
باطنی مرض ہے فی زمانہ مسلمانوں کی اکثریت اس میں مبتلا نظر آتی ہے اپنے علم و عمل
پر ناز کرنا کثرت عبادت پر اترانا عزت منصب اور دولت پر نازاں ہونا فنی مہارت پر
کسی کی انگشت نمائی برداشت نہ کر سکنا کسی اور کو خاطر میں ہی نہ لانا بہت عام ہے
ایسے حضرات کو چاہیے کہ ان روایات کا بغور مطالعہ کریں۔
(1)خود
پسندی ہلاکت کا سبب ہے:عن عبدالله ابن عمر
فقال: ثلاث مهلكات: شح مطاع وهوى متبع وإعجاب المرء بنفسهترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے سرکار صلی اللہ تعالی علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں :(1) لالچ جس کی اطاعت
کی جائے (2 )خواہش جس کی پیروی کی جائے(3)بندے کا اپنے عمل کو پسند کرنا یعنی خود
پسندی۔(معجم الاوسط جلد نمبر 6 حدیث نمبر 5754 صفحہ نمبر 47 دارالحرمین)
ہمیں چاہیے کہ
ہم اپنے آپ کو ہلاکت اور لالچ سے بچائیں اور ایسی خواہشات سے اپنے آپ کو بچائیں
کہ جس کی پیروی کی جائے اور خود پسندی سے دور رہیں۔
(2)خود پسندی کی بدولت اعمال کا ضائع ہونا:عن
عبد العزيز عن ابيه قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم من حمد نفسه على عمل
صالح فقد ضل شكره وحبط عمله
حضرت عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد سے روایت
کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے
کسی نیکی پر اپنی تعریف کی تو اس کا شکر ضائع ہوا اور اس کا عمل برباد ہو گیا۔(کنزالعمال
کتاب الاخلاق قسم الاقوال حدیث نمبر 7677 صفحہ نمبر 515 )
اللہ تبارک و تعالی کی دی ہوئی نعمتوں پر اللہ تبارک و
تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی نسبت اپنی طرف نہ کرے
بلکہ اللہ تبارک و تعالی کی طرف کرنی چاہیے تاکہ ہمارے اعمال محفوظ رہیں ۔
(3)خود پسندی کی وجہ سے اپنے دین کا نقصان :عَنْ
كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ والشرف لدينِهِ
حضرت کعب بن
مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: دو بھوکے بھیڑیے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیے جائیں تو وہ اتنا
نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور مرتبے کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لیے نقصان دہ ہے۔(ترمذی
کتاب الزھد حدیث نمبر 2376 صفحہ نمبر 565 دارالکتب العلمیہ بیروت)
Dawateislami