خوف اور غم دو ایسی کیفیات ہیں جو انسان کی ذہنی، روحانی اور جسمانی حالت پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ خوف مستقبل کے اندیشوں کا نام ہے جبکہ غم، ماضی کے نقصانات کا۔ ان دونوں سے نجات کے لیے انسان مختلف راستے تلاش کرتا ہے، مگر قرآن مجید انسان کو وہ راستہ دکھاتا ہے جو اسے اندرونی سکون، اطمینان اور حقیقی امن عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں خوف اور غم سے نجات کے ذرائع بیان فرمائے ہیں جن پر عمل انسان کو دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔

(1) اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ(۳۰) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں نے کہا:ہمارا رب اللہ ہے پھر (اس پر) ثابت قدم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم نہ ڈرواور نہ غم کرو اور اس جنت پر خوش ہوجاؤجس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔(پ 24، حٰمٓ السجدۃ:30)

جو لوگ اللہ کو اپنا رب مان کر اس پر استقامت دکھاتے ہیں، اللہ ان پر فرشتے بھیجتا ہے جو ان کے دلوں کو خوف و غم سے پاک کرتے ہیں۔

(2) اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚ(۱۳) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے تو نہ ان پر خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔ (پ26، الاحقاف:13)

اللہ پر کامل ایمان اور استقامت انسان کو ہر قسم کے باطنی اور خارجی خوف و غم سے بچاتی ہے۔

(3)اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۷۷) ترجمہ کنز العرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔( پ3، البقرۃ: 277)

‎‎ قرآن کریم ایک مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ کس طرح مسلمان قیامت کے خوف و غم جیسے تباہ کن جذبات سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔ اللہ پر یقین، اس کی یاد، استقامت اور نیک اعمال ہی وہ عناصر ہیں جو انسان کو حقیقی امن و سکون عطا کرتے ہیں۔ جو لوگ اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں، ان کی زندگی میں نہ صرف باطنی سکون ہوتا ہے بلکہ وہ آخرت کے خوف سے بھی محفوظ ہوتے ہیں۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین