گناہوں میں سےجس طرح بعض گناہ ظاہری ہوتے ہیں جیسے قتل ،چوری وغیرہ بالکل اسی طرح بعض گناہ باطنی بھی ہوتے ہیں۔اس پر فتن دور میں اول تو گناہوں سے بچنے کا ذہن بہت ہی کم ہے اور جو خوش نصیب اسلامی بھائی گناہوں کے علاج کی کوششیں کرتے بھی ہیں تو ان کی زیادہ تر توجہ ظاہری گناہوں سے بچنے پر ہوتی ہے۔ ایسے میں باطنی گناہوں کا علاج نہیں ہو پاتا حالانکہ یہ ظاہری گناہوں کی نسبت زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ ایک باطنی گناہ بے شمار ظاہری گناہوں کا سبب بن سکتا ہے۔ مثلا قتل، ظلم ، غیبت، چغلی ، عیب دری جیسے گناہوں کے پیچھے کینے اور کینے کے پیچھے غصے کا ہاتھ ہونا ممکن ہے۔ انہی باطنی گناہوں میں سے ایک گناہ خود پسندی بھی ہے۔

خود پسندی کی تعریف :اپنے کمال ( مثلاً علم یا عمل یا مال ) کو اپنی طرف نسبت کرنا اور اس بات کا خوف نہ ہونا کہ یہ چھن جائے گا۔ گو یا خود پسند شخص نعمت کو منعم حقیقی ( یعنی اللہ عزوجل ) کی طرف منسوب کرنا ہی بھول جاتا ہے۔ (یعنی ملی ہوئی نعمت مثال صحت یا حسن و جمال یا دولت یا ذہانت یا خوش الحانی یا منصب وغیرہ کو اپنا کارنامہ سمجھ بیٹھنا اور یہ بھول جانا کہ سب رب العزت ہی کی عنایت ہے۔ (احیاء العلوم، ج 3، ص 252، شیطان کے بعض ہتھیار 17)

آئیے احادیث مبارکہ کی روشنی میں خود پسندی کی مذمت کے بارے میں پڑھتے ہیں۔

(1)تین ہلاک کرنے والی چیزیں:دوجہاں کے سرور، مدینے کے تاجور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:تین چیزیں ہلاک کرنےوالی ہیں:بخل جس کی اطاعت کی جائے، خواہِشِ نفس جس کی پیروی کی جائے اور انسان کا خود کو اچھا جاننا۔(شعب الایمان،باب فی الخوف من اللہ 1/475،حدیث:745۔معجم اوسط،4/ 129،حدیث:5442)

(2)بد صورت شکل :ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: خود پسندی اگر کسی مرد کی صورت میں ہوتی تو وہ انتہائی بدصورت مرد ہوتا۔(الفردوس بماثور الخطاب، باب اللام، 2/ 193، الحدیث: 5064)

(4)خود پسندی کا نقصان:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: گناہوں پر نادِم ہونے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کا مُنْتَظِرہوتا ہے جبکہ خود پسند ی کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی کامُنْتَظِرہوتا ہے ۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ38)

(5)دین کو نقصان پہنچانے والے:حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :دو بھوکے بھیڑئیے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دئیے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور مرتبے کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دِہ ہے ۔(ترمذی، کتاب الزہد، 43-باب، 4 / 166، الحدیث: 2383)

(6)اعمال کو برباد کر دینا:حضرت حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہےنبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :خود پسند ی 70سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف العین، 2 / 205، الجزء الثالث، الحدیث: 7666)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہر اسلامی بھائی پر ظاہری گناہوں کے ساتھ ساتھ باطنی گناہوں کے علاج پر بھی بھر پور توجہ دینا لازم ہے تا کہ ہم اپنے دار آخرت کو ان کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھ سکیں ۔ باطنی گناہوں کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت مولانا امام احمد رضا خان علیہ رَحمَۃ الرَّحمن فتاویٰ رضویہ جلد 23، صفحہ 624 پر ارشاد فرماتے ہیں: مُحَرَّمَاتِ بَاطِنِيَّه (یعنی باطنی ممنوعات مثلاً ) تکبر ور یا وعجب ( یعنی غرور ) وحسد وغیر ہا اور ان کے مُعالجات (یعنی علاج ) کہ ان کا علم بھی ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے۔

لہذا جب خود پسندی کی علامات ظاہر ہونے لگیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے احسانات کو یاد کرنا فرض ہے جبکہ تمام عام اوقات میں ایسا کرنا مستحب ہے۔عمل میں خود پسندی کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اگر خود پسندی میں مبتلا شخص موت سے قبل توبہ کر لے تو اس کا عمل بچ جاتا ہے اور توبہ نہ کرے تو عمل ضائع ہو جاتا ہے۔اللہ عزوجل علم وعمل کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبینﷺ۔ 


اعمال برباد: حضرت حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’خود پسندی 70سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف العین، 2 / 205، الجزء الثالث، الحدیث: 7666)

رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے کسی نیک عمل پر اپنی تعریف کی تو اس کا شکر ضائع ہوا اور عمل برباد ہو گیا۔(کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، العجب، 2 / 206، الجزء الثالث، الحدیث: 7674)

ہلاکت میں ڈالنے والے اعمال:حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں : (1) لالچ جس کی اطاعت کی جائے (2) خواہش جس کی پیروی کی جائے (3) بندے کا اپنے عمل کو پسند کرنا یعنی خود پسندی۔(معجم الاوسط، من اسمہ محمد، 4 / 212، الحدیث: 5754)

نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے سراقہ! کیا میں تمہیں جنتی اور جہنمی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟عرض کی: یا رسولَ اللہ ! ضرور بتائیے۔ ارشاد فرمایا :’’ہر سختی کرنے والا، اِترا کر چلنے والا، اپنی بڑائی چاہنے والا جہنمی ہے جبکہ کمزور اور مغلوب لوگ جنتی ہیں۔(معجم الکبیر، علی بن رباح عن سراقۃ بن مالک، 7 / 129، الحدیث: 6589)

خودپسندی کی شکل : ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی تو وہ سب سے بد صورت انسان ہوتی ۔(الفردوس بماثور الخطاب، باب اللام، 2/ 193، الحدیث: 5064)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے افعال :حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خود پسندی سے بہت زیادہ ڈرتے تھے اور جب لوگ آپ کی تعریف کرتے تو آپ دعا مانگتے :یااللہ! عَزَّوَجَلَّ، مجھے اس سے بہتر بنا دے جو کچھ یہ کہتے ہیں اور جو کچھ یہ نہیں جانتے میرا وہ عمل بخش دے ۔

اسی طرح جب لوگ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تعریف کرتے تو وہ دعا مانگتے :یااللہ! عَزَّوَجَلَّ، میں اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو کچھ یہ کہتے ہیں اور تجھ سے اس عمل کی بخشش چاہتا ہوں جس کا انہیں علم نہیں۔(تنبیہ المغترین، الباب الرابع فی جملۃ اخری من الاخلاق، ومن اخلاقہم عدم العجب ۔۔۔ الخ، ص241-242)

حضرت عمر بن عبد العزیزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب منبر پر خطبہ دیتے تو خود پسندی سے ڈرتے ہوئے گفتگو چھوڑ کر اس عمل کی طرف منتقل ہو جاتے جس میں خود پسندی نہ ہو اور بعض اوقات ایسا ہوتا کہ خط لکھتے وقت خود پسندی کے خوف سے پھاڑ دیتے اور کہتے :یااللہ! عَزَّوَجَلَّ، میں نفس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (تنبیہ المغترین، الباب الرابع فی جملۃ اخری من الاخلاق، ومن اخلاقہم عدم العجب الخ، ص239-240)


خود پسندی ایک باطنی بیماری ہے۔ انسان جب اپنے علم، عبادت، مال یا حسب نسب پر فخر کرنے لگے اور دوسروں کو حقیر سمجھے تو یہ خود پسندی ہے۔ یہ صفت دل کو سخت کرتی ‏ہے اور بندے کو اللہ تعالیٰ عزوجل سے دور کر دیتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی تعلیمات میں اس برائی سے سختی کے ساتھ روکا ہے۔ ذیل میں چند احادیث مبارکہ مع ترجمہ اور ‏مختصر وضاحت پیش کی جاتی ہیں۔

ہلاک کرنے والی چیزیں: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثٌ مُنْجِيَاتٌ وَثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ فَأَمَّا الْمُنْجِيَاتُ فَتَقْوَى اللَّهِ فِي السِّرِّ والعلانيةِ والقولُ بالحقِّ فِي الرضى وَالسُّخْطِ وَالْقَصْدُ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ وَأَمَّا الْمُهْلِكَاتُ: فَهَوًى مُتَّبَعٌ وَشُحٌّ مُطَاعٌ وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ وَهِيَ أَشَدُّهُنَّ۔

ترجمہ: تین چیزیں نجات دینے والی ہیں اور تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں نجات دینے والی یہ ہیں: پوشیدہ اور ظاہر ہر حال میں اللہ عزوجل سے ڈرنا، خوشی اور غصہ دونوں حالتوں میں سچی بات کہنا، اور مال داری اور تنگ دستی دونوں میں ‏میانہ روی اختیار کرنا۔اور ہلاک کرنے والی یہ ہیں: ایسی خواہش جس کی پیروی کی جائے، ایسا بخل جس کی اطاعت کی جائے، اور آدمی کا اپنے آپ کو پسند کرنا، اور ان میں سب سے زیادہ سخت ‏خود پسندی ہے۔(مشكوة المصابيح،كتاب الآداب،حدیث: 5122)‏

یہ حدیث صاف بتاتی ہے کہ خود پسندی ہلاکت کا سبب ہے۔ جب انسان اپنے عمل پر اتنا خوش ہو جائے کہ اسے اپنی اصلاح کی ضرورت محسوس نہ ہو تو وہ آگے بڑھنا ‏چھوڑ دیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ کافی ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ کمزور ہوتا ہے۔

ہر شخص کا اپنی رائے کو اچھا سمجھنا: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ثَعْلَبَةَ، كَيْفَ تَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ} [المائدة: 105]قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا، سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ، حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا، وَهَوًى مُتَّبَعًا، وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً، وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ، فَعَلَيْكَ - يَعْنِي بِنَفْسِكَ، وَدَعْ عَنْكَ الْعَوَامَّ، فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ، الصَّبْرُ فِيهِ مِثْلُ قَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ، لِلْعَامِلِ فِيهِمْ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلًا يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِهِ، وَزَادَنِي غَيْرُهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ قَالَ: أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ۔

ترجمہ:‏ حضرت ابو اُمیہ الشعبانی کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: سورۃ المائدہ کی آیت عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟انہوں نے فرمایا: تم نے ایک جاننے والے سے سوال کیا ہے۔ میں نے یہی سوال رسول اللہ ﷺ سے کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:‎‎"نہیں، تم نیکی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو، یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ بخل کی پیروی کی جا رہی ہے، خواہش نفس کو اختیار کیا جا رہا ہے، دنیا کو ترجیح دی جا ‏رہی ہے اور ہر صاحبِ رائے اپنی رائے کو اچھا سمجھ رہا ہے، تو اس وقت تم اپنی فکر کرو اور عام لوگوں کو چھوڑ دو۔ اس لیے کہ تمہارے بعد صبر کے دن آئیں گے۔ ان ‏دنوں میں صبر کرنا ایسے ہوگا جیسے انگارے کو ہاتھ میں پکڑنا۔ اس زمانے میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے برابر اجر ملے گا۔"عرض کیا گیا: یا رسول اللہ ﷺ کیا ان میں سے پچاس کا؟فرمایا: "بلکہ تم میں سے پچاس کا"۔(سنن ابی داود،كتاب الملاحم ،حدیث: 4341)‏

اس حدیث میں خود پسندی کی ایک واضح شکل بیان ہوئی ہے، اعجاب کل ذی رأی برأیہ یعنی ہر شخص کا اپنی رائے کو سب سے بہتر سمجھنا۔‏یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنی عقل اور سوچ کو حرف آخر سمجھ لے۔ وہ نہ نصیحت قبول کرتا ہے اور نہ اصلاح۔ یہی خود پسندی معاشرے میں ‏اختلاف، ضد اور گمراہی کو بڑھاتی ہے۔

یہ حدیث ہمیں دو باتیں سکھاتی ہے:

(1) جب تک حالات سازگار ہوں، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جاری رکھو۔

(2)جب لوگ اپنی رائے کے اس قدر اسیر ہو جائیں کہ حق سننے کو تیار نہ ہوں، تو اپنے ایمان اور اصلاح کی فکر کرو۔

خود پسندی ایک خطرناک اور ہلاک کرنے والی بیماری ہے۔ یہ انسان کو محاسبہ سے دور کرتی ہے، نصیحت سے محروم کرتی ہے اور آہستہ آہستہ دل کو ‏سخت بنا دیتی ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہر نیکی کے بعد اللہ تعالیٰ عزوجل کا شکر ادا کریں اور قبولیت کی دعا کریں۔ اپنی کمزوریوں کو یاد رکھیں۔ دوسروں کی رائے سنیں۔ اگر ‏دل میں یہ خیال آئے کہ میں بہتر ہوں تو فوراً استغفار کریں۔

اصل کامیابی عاجزی میں ہے۔ جو شخص اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے اور آخرت کو سامنے رکھتا ہے وہی حقیقی عقلمند ہے۔ اللہ عزوجل ہمیں خود ‏پسندی سے بچائے اور اخلاص و عاجزی عطا فرمائے۔ آمین۔

باطن کی بیماریوں میں سب سے خطرناک مرض وہ ہے جو نیکی کے لباس میں چھپ کر انسان کو تباہی کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔ ‏یہی مرض خود پسندی (عُجب) ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں آدمی اپنی عبادت، علم، نسب، دولت یا کسی بھی صلاحیت کو دیکھ کر اپنے ‏آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتا ہے۔ بظاہر یہ کیفیت اطمینان یا اعتماد معلوم ہوتی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک زہر ہے جو اعمال کو ‏کھوکھلا کر دیتاہے۔

حدیثِ نبوی ﷺ میں اس بیماری کی نہایت سخت الفاظ میں مذمت آئی ہے۔ اس تحقیقی مقالے میں ہم خود پسندی کے لغوی، اصطلاحی ‏اور اخلاقی پہلوؤں کو حدیث کی روشنی میں منظم انداز سے پیش کریں گے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اسلام نے اسے کیوں تباہ کن صفت ‏قرار دیا ہے۔

لغوی بحث:عربی زبان میں خود پسندی کے لیے لفظ "العُجب" استعمال ہوتا ہے۔

لسان العرب میں ابن منظور لکھتے ہیں کہ "العُجب" سے مراد ہے: کسی چیز کو دیکھ کر اس سے متاثر ہونا اور اسے عظیم سمجھنا۔ ‏‏(لسان العرب، مادہ: عجب)‏

مفردات القرآن میں راغب اصفہانی کے مطابق: عُجب وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنے نفس اور اپنے عمل کو بڑا سمجھتا ہے اور اسے ‏اپنی ذات کا کمال سمجھتا ہے۔ ‏‏(مفردات، مادہ: عجب)

لغوی اعتبار سے یہ لفظ حیرت کے معنی میں بھی آتا ہے، لیکن اخلاقی اصطلاح میں یہ اپنے نفس کی بڑائی کے فریب میں مبتلا ہونے کو ‏کہتے ہیں۔

اصطلاحی تعریف اور مفہوم:علمائے اخلاق کے نزدیک:‏امام ابو حامد الغزالی نے إحياء علوم الدين میں لکھا کہ عُجب یہ ہے کہ انسان اپنی نعمت یا عمل کو اپنی ذات کی طرف منسوب کرے اور ‏منعمِ حقیقی (اللہ) کو بھول جائے۔

امام ابن حجر عسقلانی نے فتح الباري میں فرمایا کہ عُجب تکبر سے پہلے کا درجہ ہے؛ کیونکہ متکبر دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، جبکہ خود پسند ‏پہلے اپنے نفس کو عظیم سمجھتا ہے۔

تین ہلاک کرنے والی چیزیں:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ: شُحٌّ مُطَاعٌ، وَهَوًى مُتَّبَعٌ، وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین چیزیں ہلاک کر دینے والی ہیں: ایسا بخل جس کی پیروی کی جائے، ایسی خواہشِ نفس جس کی ‏اتباع کی جائے، اور آدمی کا اپنے نفس پر فخر کرنا۔

‏ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث: 5930؛ شعب الإيمان للبیہقی)‏

یہ حدیث خود پسندی کو صریح طور پر ہلاکت کا سبب قرار دیتی ہے، یعنی یہ کوئی معمولی اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ روحانی تباہی کا دروازہ ‏ہے۔

گناہ سے بڑا خطرہ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَخَشِيتُ عَلَيْكُمْ مَا هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ: الْعُجْبَ‏ ترجمہ: اگر تم گناہ نہ کرتے تو مجھے تم پر اس سے بھی بڑی چیز کا خوف ہوتا، یعنی خود پسندی کا۔ ‏

‏(شعب الايمان للبیہقی، رقم: 7315)‏

یہاں نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا کہ گناہ کے بعد ندامت انسان کو جھکا دیتی ہے، لیکن خود پسندی انسان کو اندھا کر دیتی ہے، یہاں ‏تک کہ اسے اپنی اصلاح کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔

احادیثِ مبارکہ سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ خود پسندی دل کی ایسی بیماری ہے جو بظاہر نیکی کے پردے میں چھپ ‏کر انسان کو ہلاکت تک لے جاتی ہے۔ یہ اخلاص کو ختم کرتی ہے، توبہ کے دروازے بند کرتی ہے اور انسان کو اللہ کی رحمت سے محروم ‏کر سکتی ہے۔ نجات کا راستہ یہی ہے کہ بندہ ہر نعمت کو اللہ کی عطا سمجھے، اپنے نفس کو خطاکار جانے، اور ہمیشہ خوف و رجاء کے درمیان ‏زندگی گزارے۔

خود پسندی نیک اعمال کو برباد کرنے والی اور عبادت کو خراب کرنے والی ایک باطنی بیماری ہے۔قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں خود پسندی ‏اور خود پسندی کرنے والوں کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے۔پہلے خود پسندی کی تعریف ملاحظہ ہو پھر اس کے متعلق احادیث مبارکہ ملاحظہ ہو۔

خود پسندی کی تعریف: اپنے نیک عمل کو بڑا سمجھنا خود پسندی ہے۔اِسے یوں بھی تعبیر کیا جاتا ہے کہ بندے کا نیک عمل کے حصول کو اللہ عَزَّ ‏وَجَلَّ کے بجائے کسی اور شے کی طرف منسوب کرنا۔ ( مختصر منہاج العابدین:صفحہ :۲۰۷ )‏

(‏1) تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اگر تم کوئی گناہ نہ کرو تو پھر بھی مجھے ڈر ہے کہ تم اس سے بڑی چیز ’’ خود ‏پسندی ‘‘ میں مبتلا نہ ہو جاؤ ۔ ‘‘ (الترغیب والترہیب،کتاب الادب،باب الترغیب فی التواضع،الحدیث: ۴۴۹۰،ج۳،ص۴۴۲)‏

(‏2) حضورِ اقدس ﷺنے ارشاد فرمایا :اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی تو وہ سب سے بد صورت انسان ہوتی ۔(الفردوس بماثور الخطاب، باب ‏اللام، ۲ / ۱۹۳، الحدیث: ۵۰۶۴)‏

(‏3) حضرت حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا :خود پسندی 70سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔ ‏‏(کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف العین، ۲ / ۲۰۵، الجزء الثالث، الحدیث: ۷۶۶۶)‏

(‏4) تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں : (1) بخل جس کی پیروی کی جائے (۲) نفسانی خواہش جس کی اطاعت کی جائے اور (۳) انسان کا خود کو ‏اچھا جاننا۔( شعب الايمان، باب فی الخوف من الله، ۱ / ۴۷۱، الحدیث: ۷۴۵)‏‎ ‎

(‏5) نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : جو اپنے آپ کو بڑا سمجھے اور اِترا کر چلے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ عَزَّ ‏وَجَلَّ اس پر ناراض ہوگا۔ (المسندللامام احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عمر، الحدیث: ۶۰۰۲،ج۲،ص۴۶۲)‏‎ ‎

(‏6) حضور سید عالم ﷺ نے اس امت کے آخر کا ذکر کرتے ہوئے حضرت سید نا ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: جب تم دیکھو کہ بخل کی ‏اطاعت کی جائے، خواہش نفس کی پیروی کی جائے اور ہر رائے دینے والا اپنی رائے کو پسند کرے تو اس وقت تم اپنی فکر کرو۔( سنن ابی داود، اول ‏کتاب الملاحم، باب الامر والنہی، ۴/ ۱۶۴، الحدیث: ۴۳۴۱)‏

(‏7) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب ﷺ کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: گناہوں پر نادِم ہونے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کا مُنْتَظِرہوتا ہے ‏جبکہ خود پسند ی کرنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی کامُنْتَظِرہوتا ہے ۔ (شعب الایمان، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ، ج۵، ص۴۳۶، حدیث: ۷۱۷۸۔)‏

قارئین کرام! دیکھا آپ نے کہ خود پسندی ہلاکت میں ڈالنے ، 70 سال کے اعمال کو برباد کرنے اور اللہ عزوجل کو ناراض کرنے کا سبب ‏ہے ۔اور یہ کئی دوسری آفتوں کا سبب ہے۔ اللہ پاک ہمیں ایسی مہلک بیماری سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس سے ہماری حفاظت فرمائے۔ ‏آمین 

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا: ہر گزگمان نہ کرو ان لوگوں کو جو اپنے اعمال پر خوش ہوتے ہیں۔ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو لوگوں کو دھوکا دینے اور گمراہ کرنے پر خوش ہوتے اور نادان اورجاہل ہونے کے باوجود یہ پسند کرتے کہ انہیں عالم کہا جائے ۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۸۸، ۱ / ۳۳۴)

خود پسندی اور حب جاہ کی مذمت : اس آیت میں خود پسندی کرنے والوں کے لئے وعید ہے اوران کے لئے جوحب ِجاہ یعنی عزت ، تعریف ، شہرت کے حصول کی تمنا میں مبتلا ہیں۔ جب کسی شخص کے دل میں یہ آرزو پیدا ہونے لگے کہ لوگ اس کے شیدائی ہوں ، ہر زبان اس کی تعریف میں تر ہو ، سب میرے کمال کے مُعترف ہوں ، مجھے ہر جگہ عزت سے نوازا جائے ، عالم نہیں ہوں پھر بھی علامہ صاحب کہا جائے ، ملک و قوم کی کوئی خدمت نہیں کی پھر بھی مِعمارِ قوم کہا جائے، نجات دہندہ سمجھا جائے، محسنِ قوم قرار دیا جائے ، میرا تعارف بہترین القابات کے ساتھ ہو،ملاقات پرتپاک انداز میں کی جائے ، سلام جھک کر کیا جائے تو اسے چاہئے کہ اپنے دل پرغور کر لے کہ کہیں وہ حبِّ جاہ کا شکار تو نہیں ہو چکا،اگر ایسا ہو تو اس آیت سے سبق حاصل کرتے ہوئے فوراً سے پیشتر اُس سے چھٹکارے کی کوشش کرے ۔ یاد رکھئے خود پسندی اور حب جاہ کے مرض میں مبتلا شخص اخروی انعامات سے محرومی کا شکار ہوتا ہے اور دل میں مُنافقت کی زیادتی ، قلبی نورانیت سے محرومی ، دین کی خرابی میں مبتلا ہوجاتا ہے نیز برائی سے منع کرنے اور نیکی کی دعوت دینے سے محرومی، ذلت و رسوائی کا سامنا، اخروی لذت سے محرومی، قلبی سکون کی بربادی اور دولتِ اخلاص سے محرومی جیسے نقصانات کا سامنا کر سکتا ہے، لہٰذا اسے چاہئے کہ دنیا کی بے ثباتی، تعریف پسندی کی مذمت، منصب و مرتبہ کے تعلق سے اخروی معاملات اور بزرگان دین کے حالات و اقوال کا بکثرت مطالعہ کرے تا کہ ان مذموم امراض سے نجات کی کوئی صورت ہو ۔ ترغیب کے لئے ہم یہاں خودپسندی اور حب جاہ سے متعلق چند احادیث اور بزرگان دین کے احوال و اقوال ذکر کرتے ہیں ، چنانچہ

حضرت جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جو شہرت طلب کرے گا( قیامت کے دن) اس کے عیبوں کی تشہیر ہو گی اورجو شخص لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس کا بدلہ دے گا ۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعۃ، ۴ / ۲۴۷، الحدیث: ۶۴۹۹)

حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور پرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :دو بھوکے بھیڑئیے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دئیے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور مرتبے کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دِہ ہے ۔(ترمذی، کتاب الزہد، ۴۳-باب، ۴ / ۱۶۶، الحدیث: ۲۳۸۳)

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی تو وہ سب سے بد صورت انسان ہوتی ۔ (الفردوس بماثور الخطاب، باب اللام، ۲ / ۱۹۳، الحدیث: ۵۰۶۴)

حضرت حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :خود پسند ی 70سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف العین، ۲ / ۲۰۵، الجزء الثالث، الحدیث: ۷۶۶۶)

حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خود پسندی سے بہت زیادہ ڈرتے تھے اور جب لوگ آپ کی تعریف کرتے تو آپ دعا مانگتے :یااللہ! عَزَّوَجَلَّ مجھے اس سے بہتر بنا دے جو کچھ یہ کہتے ہیں اور جو کچھ یہ نہیں جانتے میرا وہ عمل بخش دے ۔

اسی طرح جب لوگ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تعریف کرتے تو وہ دعا مانگتے :یااللہ! عَزَّوَجَلَّ میں اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو کچھ یہ کہتے ہیں اور تجھ سے اس عمل کی بخشش چاہتا ہوں جس کا انہیں علم نہیں۔(تنبیہ المغترین، الباب الرابع فی جملۃ اخری من الاخلاق، ومن اخلاقہم عدم العجب ۔۔۔ الخ، ص۲۴۱-۲۴۲)

حضرت عمر بن عبد العزیزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب منبر پر خطبہ دیتے تو خود پسندی سے ڈرتے ہوئے گفتگو چھوڑ کر اس عمل کی طرف منتقل ہو جاتے جس میں خود پسندی نہ ہو اور بعض اوقات ایسا ہوتا کہ خط لکھتے وقت خود پسندی کے خوف سے پھاڑ دیتے اور کہتے :یااللہ! عَزَّوَجَلَّ، میں نفس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (تنبیہ المغترین، الباب الرابع فی جملۃ اخری من الاخلاق، ومن اخلاقہم عدم العجب الخ، ص۲۳۹-۲۴۰)

حضرت بشر حافی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا جو شہرت کا طالب ہو اور اس کا دین برباد نہ ہوا ہو اور ا س کے حصے میں رسوائی نہ آئی ہو۔(کیمیائے سعادت، رکن سوم ، اصل ہفتم، اندر علاج دوستی جاہ وحشمت، ۲ / ۶۵۹)

حضرت محمد بن واسع رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے زمانے کے عبادت گزاروں سے فرماتے تھے: تم پر افسوس ہے ، تمہارے اعمال کم ہونے کے باوجود ان میں خود پسندی داخل ہو گئی اور تم سے پہلے لوگ اپنے اعمال کی کثرت کے باوجود ان پر تکبر نہیں کرتے تھے۔ اللہ کی قسم ! پہلے لوگوں کی عبادت کو دیکھا جائے تو (اس کے مقابلے میں )تم محض کھیلنے والے ہو ۔(تنبیہ المغترین، الباب الرابع فی جملۃ اخری من الاخلاق، ومن اخلاقہم عدم العجب ۔۔۔ الخ، ص۲۴۲)

انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی ہر صلاحیت اور نعمت کو اللہ کی عطا سمجھے اور تواضع (عاجزی) اختیار کرے۔


جب کسی شخص کے دل میں یہ آرزو پیدا ہونے لگے کہ لوگ اس کے شیدائی ہوں ، ہر زبان اس کی تعریف میں تر ہو ، سب میرے کمال کے مُعترف ہوں ، مجھے ہر جگہ عزت سے نوازا جائے ، عالِم نہیں ہوں پھر بھی علامہ صاحب کہا جائے ، ملک و قوم کی کوئی خدمت نہیں کی پھر بھی مِعمارِ قوم کہا جائے، نجات دہندہ سمجھا جائے، محسنِ قوم قرار دیا جائے ، میرا تعارف بہترین القابات کے ساتھ ہو،ملاقات پُرتپاک انداز میں کی جائے ، سلام جُھک کر کیا جائے تو اسے چاہئے کہ اپنے دل پر غور کر لے کہ کہیں وہ حبِّ جاہ کا شکار تو نہیں ہو چکا ، اگر ایسا ہو تو اس آیت سے سبق حاصل کرتے ہوئے فوراً سے پیشتر اُس سے چھٹکارے کی کوشش کرے ۔ یاد رکھئے خود پسندی اور حب جاہ کے مرض میں مبتلا شخص اخروی انعامات سے محرومی کا شکار ہوتا ہے اور دل میں مُنافقت کی زیادتی ، قلبی نورانیت سے محرومی ، دین کی خرابی میں مبتلا ہوجاتا ہے نیز برائی سے منع کرنے اور نیکی کی دعوت دینے سے محرومی، ذلت و رسوائی کا سامنا، اخروی لذت سے محرومی، قلبی سکون کی بربادی اور دولتِ اخلاص سے محرومی جیسے نقصانات کا سامنا کر سکتا ہے، لہٰذا اسے چاہئے کہ دنیا کی بے ثباتی، تعریف پسندی کی مذمت، منصب و مرتبہ کے تعلق سے اخروی معاملات اور بزرگان دین کے حالات و اقوال کا بکثرت مطالعہ کرے تا کہ ان مذموم امراض سے نجات کی کوئی صورت ہو ۔ ترغیب کے لئے ہم یہاں خودپسندی اور حب جاہ کی تعریف اور اس سے متعلق چند احادیثِ کریمہ ذکر کرتے ہیں۔

خود پسندی کی تعریف:شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’شیطان کے بعض ہتھیار‘‘ صفحہ17 پر’’عُجُبْ یعنی خود پسندی ‘‘کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’اپنے کمال (مثلاً عِلم یا عمل یا مال) کو اپنی طرف نسبت کرنا اور اس بات کا خوف نہ ہونا کہ یہ چِھن جائے گا۔

گویا خود پسند شخص نعمت کو مُنْعِمِ حقیقی (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ ) کی طرف منسوب کرنا ہی بھول جاتا ہے۔

(1) امُ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے ، الله پاک کے سب سے آخری نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی تو وہ سب سے بد صورت انسان ہوتی ۔(الفردوس بماثور الخطاب ، باب اللام ، جلد 2 صفحہ نمبر 193 حدیث نمبر 5064)

(2) الله عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب صَلَّی الله تَعَالٰی علیہ وَالہ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: گناہوں پر نادِم ہونے والا الله عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کا مُنْتَظِر ہوتا ہے جبکہ خود پسند ی کرنے والا الله عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی کا مُنْتَظِر ہوتا ہے ۔(باطنی بیماریوں کی معلومات ، صفحہ نمبر 38 ، المدینہ العلمیہ )

(3) حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :دو بھوکے بھیڑئیے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دئیے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور مرتبے کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دِہ ہے ۔ (ترمذی، کتاب الزہد، صفحہ166 ، حدیث نمبر 2383)

حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ خود پسندی سے بہت زیادہ ڈرتے تھے اور جب لوگ آپ کی تعریف کرتے تو آپ دعا مانگتے :یااللہ! عَزَّوَجَلَّ، مجھے اس سے بہتر بنا دے جو کچھ یہ کہتے ہیں اور جو کچھ یہ نہیں جانتے میرا وہ عمل بخش دے ۔

اسی طرح جب لوگ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تعریف کرتے تو وہ دعا مانگتے :یااللہ! عَزَّوَجَلَّ میں اس چیز کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو کچھ یہ کہتے ہیں اور تجھ سے اس عمل کی بخشش چاہتا ہوں جس کا انہیں علم نہیں۔(تفسیر صراط الجنان ، سورۃ آل عمران تحت الایہ ، 188)

حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :’’صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اپنے زُہْد وتقوٰی کے باوجود یہ تمنا کیا کرتے کہ کاش وہ مٹی،بھوسہ یا پرند ہوتے۔ تو صاحبِ بصیرت شخص کیسے اپنے عمل پرخود پسندی کرسکتا ہے یااِترا سکتا ہے اور کیونکر اپنے نفس سے بے خوف ہوسکتاہے؟ یہ خود پسندی کا علاج ہے جس سے خود پسندی کا مادہ بالکل جڑ سے کٹ جاتا ہے۔جب خود پسندی میں مبتلا شخص اس طریقہ علاج کے مطابق خود پسندی کا علاج کرتا ہے تو جس وقت اس کے دل پرخود پسندی غالب آتی ہے تو سَلْبِ نعمت کا خوف اسے اترانے سے بچاتا ہے بلکہ جب وہ کافروں اور فاسقوں کو دیکھتا ہے کہ کسی گناہ کے بغیر ان کو ایمان اور اِطاعَتِ الٰہی کی دولت سے محرومی ملی ہے تووہ ڈرتے ہوئے یہ سوچتا ہے کہ جس ذات کو اس بات کی پروا نہیں کہ وہ بغیر کسی جرم کےکسی کومحروم کردے یا بغیر کسی وسیلے کےکسی کو عطا کرے تووہ دی ہوئی نعمت کو واپس بھی لے سکتا ہے۔ کتنے ہی ایمان والے مرتد ہوکر اور اطاعت گزار فاسق ہوکر برے خاتمے کا شکار ہوئے۔ جب آدمی اس طرح سوچے گا تو خود پسندی اس میں باقی نہیں رہے گی۔(باطنی بیماریوں کی معلومات صفحہ 40 ، 41)

اللہ پاک ہمیں خود پسندی جیسی بری عادت سے بچائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ۔

حب جاہ و خود پسندی کی مٹا دے عادتیں یا الہی! باغِ جنت کی عطا کر راحتیں


خود پسندی ایک ایسی باطنی آفت ہے جو انسان کو اپنی حقیقت سے غافل کر دیتی ہے اور اسے اپنی ہی نظر میں بڑا بنا دیتی ہے۔ یہ وہ بیماری ہے جس میں انسان اپنے علم، عبادت، مال یا خوبیوں پر فخر کرتے ہوئے دوسروں کو کمتر سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر نعمت اللہ کی عطا ہے اور بندہ اس کا محتاج ہے۔ خود پسندی نہ صرف اعمال کے حسن کو ضائع کر دیتی ہے بلکہ دل میں تکبر، حسد اور بے رحمی کو بھی جنم دیتی ہے۔ اسی لیے رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی امت کو اس مہلک مرض سے بچانے کے لیے بار بار تنبیہ فرمائی اور عاجزی و انکساری کی تعلیم دی۔

اپنے اعمال پر غرور ہلاکت کا سبب:رسول الله ﷺ نے فرمایا: لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَخِفْتُ عَلَيْكُمْ مَا هُوَ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ: الْعُجْبُ یعنی اگر تم گناہ نہ کرتے تو مجھے تم پر اس سے بھی زیادہ خطرناک چیز کا خوف ہوتا، اور وہ ہے خود پسندی۔ (شعب الايمان للبیہقی، حدیث نمبر 6895)

اس حدیث میں خود پسندی کو گناہ سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا گیا کیونکہ گناہ پر ندامت آسکتی ہے مگر خود پسندی انسان کو اپنی اصلاح سے روک دیتی ہے۔

اعمال کی قبولیت میں اخلاص کی شرط:رسول الله ﷺ نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ یعنی اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث نمبر 2564)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اصل معیار دل کی کیفیت ہے، اور خود پسندی دل کو کھوکھلا کر دیتی ہے جس سے اعمال کی روح ختم ہو جاتی ہے۔

عاجزی بلندی کا ذریعہ ہے:رسول الله ﷺ نے فرمایا: وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ یعنی جو شخص اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اسے بلند فرما دیتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث نمبر 2588) یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ حقیقی بلندی خود پسندی میں نہیں بلکہ انکساری میں ہے، اور جو خود کو بڑا سمجھتا ہے وہ دراصل اللہ کی نظر میں چھوٹا ہو جاتا ہے۔

خود پسندی انسان کے باطن کو اندھا اور دل کو سخت بنا دیتی ہے، جبکہ عاجزی اسے نور، سکون اور قبولیت کی طرف لے جاتی ہے۔ جو شخص اپنے نفس کو قابو میں رکھتا، اپنی کمزوریوں کو پہچانتا اور ہر نعمت کو اللہ کا فضل سمجھتا ہے وہی حقیقی کامیاب ہے۔ ایسی زندگی نہ صرف اللہ کے قریب لے جاتی ہے بلکہ لوگوں کے دلوں میں بھی محبت اور عزت پیدا کرتی ہے، اور یہی وہ وصف ہے جسے دیکھ کر اہلِ دل رشک کرتے ہیں کہ یہ بندہ اپنے رب کے حضور جھکا ہوا اور مخلوق کے لیے سراپا رحمت بن گیا ہے۔

خودپسندی ایک نہایت ہی خطرناک باطنی بیماری ہے جو انسان کو ہلاکت کے گڑھے کی طرف لے جاتی ہے۔ جب بندہ اپنی ملی ہوئی نعمتوں، جیسے صحت، حسن و جمال، دولت، ذہانت یا کسی منصب کو اپنا کمال سمجھنے لگتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب ربُّ العزّت کی عطا ہے، تو وہ عُجب یعنی خودپسندی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ باطنی مرض انسان کو شکر گزاری سے دور اور غرور و تکبر کے قریب کر دیتا ہے۔

عجب یعنی خود پسندی کی تعریف: شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’شیطان کے بعض ہتھیار‘‘ صفحہ17 پر’’عُجُبْ یعنی خود پسندی ‘‘کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’اپنے کمال (مثلاً عِلم یا عمل یا مال) کو اپنی طرف نسبت کرنااور اس بات کا خوف نہ ہونا کہ یہ چِھن جائے گا۔گویا خود پسند شخص نعمت کو مُنْعِمِ حقیقی (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ) کی طرف منسوب کرنا ہی بھول جاتا ہے۔ (احیاء العلوم، کتاب ذم الکبر والعجب، بیان حقیقۃ العجب، ج 3، ص، 454) (یعنی ملی ہوئی نعمت مثلاً صِحّت یاحسن و جمال یا دولت یا ذِہانت یا خوش الحانی یا منصب وغیرہ کو اپنا کارنامہ سمجھ بیٹھنا اوریہ بھول جانا کہ سب ربُّ العزّت ہی کی عنایت ہے)۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ36،37)

آئیے! ہم خودپسندی کی مذمت کے بارے میں چند احادیثِ مبارکہ پڑھتے ہیں۔

(1) 70 سال کے اعمال برباد : حضرت حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :خودپسندی 70سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف العین،2 / 205، الجزء الثالث، الحدیث: 7666)

( 2)شکل انسانی میں سب سے بدصورت : ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی تو وہ سب سے بد صورت انسان ہوتی ۔(الفردوس بماثور الخطاب، باب اللام، 2 / 193، الحدیث: 5064)

(3) دین کیلئے نقصان دہ باطنی بیماری : حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور پرنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :دو بھوکے بھیڑئیے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دئیے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور مرتبے کی حرص کرنے والا اپنے دین کے لئے نقصان دِہ ہے ۔(ترمذی، کتاب الزہد، 43-باب، 4 / 166، الحدیث: 2383)

(4)اللہ عزوجل کی ناراضگی کا مستحق : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: گناہوں پر نادِم ہونے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کا مُنْتَظِرہوتا ہے جبکہ خود پسند ی کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی کامُنْتَظِرہوتا ہے ۔(شعب الایمان، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ، ج5، ص436، حدیث: 7178)

( 5)بروز قیامت ذلیل و خار ہوگا :حضرت جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :جو شہرت طلب کرے گا( قیامت کے دن) اس کے عیبوں کی تشہیر ہو گی اورجو شخص لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس کا بدلہ دے گا ۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعۃ، 4 / 247، الحدیث: 6499)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! دیکھاآپ نے کہ خودپسندی کو مذکورہ احادیث مبارکہ میں ایک مذموم صفت قرار دیا گیا ہے آئیے ہم اس کے حکم کے متعلق جانتے ہیں۔

عجب یعنی خود پسندی کا حکم: عُجُب یعنی خود پسندی ناجائز وممنوع و گناہ ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اگرچہ تم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو لیکن مجھے تم پر گناہ سے بھی بڑے جرم کا خوف ہے اور وہ ہے عُجُبْ ، عُجُبْ یعنی خود پسندی۔"اس فرمان مبارک میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عُجُبْ کو بہت بڑا گناہ قرار دیا۔ (احیاء العلوم، کتاب ذم الکبر والعجب، باب ذم العجب۔۔۔الخ، ج3، ص453) اور کسی بھی ظاہری وباطنی گناہ سے بچنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔

خود پسندی کا ایک مجرب علاج: حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :’’صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اپنے زُہْد وتقوٰی کے باوجودیہ تمنا کیا کرتے کہ کاش وہ مٹی،بھوسہ یا پرند ہوتے۔ تو صاحب ِ بصیرت شخص کیسے اپنے عمل پرخود پسندی کرسکتاہے یااِترا سکتا ہے اور کیونکر اپنے نفس سے بے خوف ہوسکتاہے؟یہ خود پسندی کا علاج ہے جس سے خود پسندی کا مادہ بالکل جڑ سے کٹ جاتا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ40)

اللہ پاک ہمیں عجب(خودپسندی ) جیسی باطنی بیماریوں سے بچنے اور عاجزی و انکساری کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین۔

پیارے اسلامی بھائیو ! ہمارے ہاں لوگوں نے اپنے اپنے لحاظ سے کامیابی کے مختلف معیار مقرر کر رکھے ہیں ، کسی کے نزدیک مالدار ہو جانا کامیابی ہے ، کسی کے نزدیک شہرت مل جانا کامیابی ہے ،الغرض ہر ایک نے کامیابی کے الگ الگ معیار مُقرَّر کر رکھے ہیں،مگر رَبِّ کائنات کے ہاں کامیاب وہ شخص ہے جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا ، اپنے نفس کو بُرے عقائد ، بُرے اَخْلاق ، بُری عادات اور ظاہری و باطنی گناہوں سے پاک کر لیا ، باطنی امراض میں سے ایک خود پسندی بھی ہے۔

امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ظاہری اعمال کا باطنی اوصاف کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے۔ اگر باطن خراب ہو تو ظاہری اعمال بھی خراب ہوں گے اور اگر باطن حسد ، ریا اور تکبر ، (خود پسندی)وغیرہ عیوب سے پاک ہو تو ظاہری اعمال بھی درست ہوتے ہیں۔ ( منہاج العابدین، ص 13 ملخصا)

خود پسندی کی تعریف: اپنے کمال ( مثلاً علم یا عمل یا مال ) کو اپنی طرف منسوب کرنا اور اس بات کا خوف نہ ہونا کہ یہ چھن جائے گا۔ گو یا خود پسند شخص نعمت کو مُنْعِمِ حقیقی (یعنی اللہ عزوجل) کی طرف منسوب کرنا ہی بھول جاتا ہے۔ ( یعنی ملی ہوئی نعمت مثلاً صحت یا حسن و جمال یا دولت یا خوش الحانی یا منصب و غیر کو اپنا کارنامہ سمجھ بیٹھنا اور یہ بھول جانا کہ سب ربُّ العزت ہی کی عنایت ہے)۔ (شیطان کے بعض ہتھیار ص 17 مکتبہ المدینہ کراچی)

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :

فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠(۳۲) ترجمہ کنز العرفان:تو تم خود اپنی جانوں کی پاکیزگی بیان نہ کرو، وہ خوب جانتا ہے اسے جو پرہیزگار ہوا۔(پ 27 النجم 32)

صدر الافاضل حضرت علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رَحمۃ اللهِ الهادی اس آیت مبارکہ کے تحت خزائن العرفان میں فرماتے ہیں: یعنی تفاخرا ًاپنی نیکیوں کی تعریف نہ کرو کیونکہ اللہ تعالٰی اپنے بندوں کے حالات کا خود جاننے والا ہے۔

وہ ان کی ابتداء ہستی سے آخر ایام کے جملہ احوال جانتا ہےحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرامین میں بھی خود پسندی کی مذمت کو بیان فرمایا آپ بھی 5 فرامین مصطفیٰ پڑھیے :

(1) ناراضگی کا منتظر :حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گناہوں پر نادم ہونے والا الله پاک کی رحمت کا منتظر ہوتا ہے جبکہ خود پسندی کرنے والا اللہ عزوجل کی ناراضگی کا منتظر ہوتا ہے ۔( شعب الایمان ،باب فی معالجۃ كل ذنب بالتوبۃ ، ج 5، ص 436، حدیث: 7178)

(2) بڑا جرم :اللہ عزوجل کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وَالہ وَسلم نے ارشاد فرمایا: اگر چہ تم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو لیکن مجھے تم پر گناہ سے بھی بڑے جرم کا خوف ہے اور وہ ہے عجب یعنی خود پسندی ہے ۔(احياء العلوم، كتاب ذم الكبر والعجب باب ذم العجب الخ، ج 3، ص 253)

(3) ہلاکت کا شکار:خود پسندی کی وجہ سے بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مدد و توفیق سے محروم ہو جاتا ہے کیونکہ خود پسندی میں مبتلا ہونے والا ذلت ورسوائی اٹھاتا ہے اور جب بندے سے مدد اور توفیق الہی کا تعلق ٹوٹ جائے تو بندہ بہت تیزی سے ہلاکت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی لیے حضور سرورِ عالم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّى اللهُ تَعَالَى علیہ وَالہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں : (1) بخل جس کی اطاعت کی جائے ، (2) خواہش نفس جس کی پیروی کی جائے اور(3) خود پسندی ۔(شعب الایمان ،باب فی الخوف من اللہ ،ج 1 ص 471)

(4) ثواب سے محروم :حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کوئی بندہ آسمان و زمین والوں کے عمل کے برابر نیکی اور تقویٰ لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو اور اس میں یہ تین برائیاں ہوں (1)خود پسندی۔ (2)مومنوں کو ایذا دینا۔ (3) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا۔ تو ا س کے اعمال کا وزن ایک ذرے کے برابر بھی نہ ہو گا۔(مسند الفردوس، باب العین، 3 / 364، الحدیث: 5102)

(5) جہنمی شخص :نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اے سراقہ! کیا میں تمہیں جنتی اور جہنمی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟عرض کی: یا رسولَ اللہ ! ضرور بتائیے۔ ارشاد فرمایا :ہر سختی کرنے والا، اِترا کر چلنے والا، اپنی بڑائی چاہنے والا جہنمی ہے جبکہ کمزور اور مغلوب لوگ جنتی ہیں۔(معجم الکبیر، علی بن رباح عن سراقۃ بن مالک، 7 / 129، الحدیث: 6589)

خود پسندی ایک مذموم باطنی مرض ہے اور فی زمانہ مسلمانوں کی ایک تعداد اس میں مبتلا نظر آتی ہے۔ اپنے علم وعمل پر ناز کرنا، کثرت عبادت پر اترانا، عزت، منصب اور دولت پر نازاں ہونا، فنی مہارت پر کسی کی انگشت نمائی برداشت نہ کرسکنا، کسی اور کو خاطر میں ہی نہ لانا بہت عام ہے۔ جو کہ سنگین گناہ اور جہنم میں داخلے کا سبب ہے ۔

پیارے اسلامی بھائیو ! ذرا سوچئے کہ اس خود پسندی کا کیا حاصل ! محض لذت نفس ، وہ بھی چند لمحوں کے لئے ! جبکہ اس کے نتیجے میں اللہ ورسول کی ناراضگی، مخلوق کی بیزاری، دل میں مُنافقت کی زیادتی ، قلبی نورانیت سے محرومی ، دین کی خرابی، ذلت و رسوائی کا سامنا، اخروی لذت سے محرومی، قلبی سکون کی بربادی، میدان محشر میں ذلت ورسوائی ، رب کی رحمت اور انعامات جنت سے محرومی اور جہنم کا رہائشی بننے کا سبب بن سکتی ہے کامیابی اور اخروی نجات خود پسندی سے چھٹکارہ حاصل کرنے میں ہے ۔

خود پسندی کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے کہ اگر خود پسندی علم وعمل ، عبادت و ریاضت ، مال و دولت، حسب و نسب، عہدہ و منصب، کامیابی و کامرانی، حسن و جمال کی وجہ سے ہے تو یہ سب نعمتیں تو الله پاک نے دی ہیں، ان پر اترانا کیسا ؟ اگر خدانخواستہ اس بلا وجہ اترانے پر کل بروز قیامت رب کریم ناراض ہو گیا اور جہنم میں شدید آگ کا عذاب دیا گیا، تو اسے کیسے برداشت کریں گے ؟

اللہ پاک دیگر باطنی امراض کے ساتھ ساتھ خود پسندی جیسے موذی مرض سے بھی بچائے۔ امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔


خود پسندی (عُجب) ایک باطنی اخلاقی بیماری ہے جو انسان کے دل میں خاموشی سے جنم لے کر اس کی روحانی زندگی کو تباہ کر دیتی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنی خوبیوں، عبادتوں، علم یا کسی بھی کمال کو اپنی ذات کا کمال سمجھ کر دوسروں پر برتری محسوس کرنے لگتا ہے۔ بظاہر یہ ایک معمولی سی نفسیاتی کیفیت معلوم ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی رضا سے دور اور ہلاکت کے قریب کر دیتی ہے۔ اسی لیے شریعتِ مطہرہ نے نہ صرف تکبر بلکہ اس کی جڑ یعنی خود پسندی کی بھی سخت مذمت فرمائی ہے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر نعمت اور ہر کمال اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اور بندے کا اصل مقام عاجزی، انکساری اور شکرگزاری ہے۔ جب انسان اپنی صلاحیتوں کو اپنی محنت کا نتیجہ سمجھ کر ان پر فخر کرنے لگتا ہے تو وہ درحقیقت اللہ کی عطا کو بھول جاتا ہے۔ یہی غفلت آہستہ آہستہ اسے تکبر، ریاکاری اور دوسروں کی تحقیر جیسے مہلک امراض میں مبتلا کر دیتی ہے۔

عجب یعنی خود پسندی کی تعریف:شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’شیطان کے بعض ہتھیار‘‘ صفحہ۱۷ پر’’عُجُبْ یعنی خود پسندی ‘‘کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’اپنے کمال (مثلاً عِلم یا عمل یا مال) کو اپنی طرف نسبت کرنااور اس بات کا خوف نہ ہونا کہ یہ چِھن جائے گا۔گویا خود پسند شخص نعمت کو مُنْعِمِ حقیقی (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ) کی طرف منسوب کرنا ہی بھول جاتا ہے۔

یعنی ملی ہوئی نعمت مثلاً صِحّت یاحسن و جمال یا دولت یا ذِہانت یا خوش الحانی یا منصب وغیرہ کو اپنا کارنامہ سمجھ بیٹھنا اوریہ بھول جانا کہ سب ربُّ العزّت ہی کی عنایت ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۳۶،۳۷)

عجب یعنی خود پسندی کا حکم:عُجُب یعنی خود پسندی ناجائز وممنوع و گناہ ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اگرچہ تم سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو لیکن مجھے تم پر گناہ سے بھی بڑے جرم کا خوف ہے اور وہ ہے عُجُبْ ، عُجُبْ یعنی خود پسندی۔‘‘اس فرمان مبارک میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عُجُبْ کو بہت بڑا گناہ قرار دیا۔

احادیث مبارکہ میں خود پسندی کی وعیدات موجود ہیں چنانچہ خود پسندی کا نقصان کے متعلق۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: ’’گناہوں پر نادِم ہونے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کا مُنْتَظِرہوتا ہے جبکہ خود پسند ی کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضگی کامُنْتَظِرہوتا ہے ۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۳۸)

خود پسندی کو ہلاک کرنے والی چیزوں میں شمار کیا گیا ہے چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں:(1) بخل جس کی پیروی کی جائے،(2) خواہش نفس جس کی اتباع کی جائے،(3) اور انسان کا اپنے آپ کو بڑا سمجھنا (خود پسندی)(شعب الایمان للبیہقی، حدیث: 7316)

بلاشبہ خود پسندی ایک بہت بڑا گناہ اور باطنی مرض ہے اس کے برعکس عاجزی بڑی نعمت اور فضیلت والی چیز ہے چنانچہ عاجزی اختیار کرنے کی فضیلت کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"جو اللہ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ اسے بلند فرما دیتا ہے۔"(صحیح مسلم، حدیث: 2588)

خود پسندی کا ایک مجرب علاج بیان کرتے حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :’’صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اپنے زُہْد وتقوٰی کے باوجودیہ تمنا کیا کرتے کہ کاش وہ مٹی،بھوسہ یا پرند ہوتے۔ تو صاحب ِ بصیرت شخص کیسے اپنے عمل پرخود پسندی کرسکتاہے یااِترا سکتا ہے اور کیونکر اپنے نفس سے بے خوف ہوسکتاہے؟یہ خود پسندی کا علاج ہے جس سے خود پسندی کا مادہ بالکل جڑ سے کٹ جاتا ہے۔جب خود پسندی میں مبتلا شخص اس طریقہ ٔ علاج کے مطابق خود پسندی کا علاج کرتاہے تو جس وقت اس کے دل پرخود پسندی غالب آتی ہے تو سَلْب ِ نعمت کا خوف اسے اترانے سے بچاتا ہے بلکہ جب وہ کافروں اور فاسقوں کو دیکھتا ہے کہ کسی گناہ کے بغیران کو ایمان اور اِطاعَت ِالٰہی کی دولت سے محرومی ملی ہے تووہ ڈرتے ہوئے یہ سوچتا ہے کہ جس ذات کو اس بات کی پروا نہیں کہ وہ بغیر کسی جرم کےکسی کومحروم کردے یا بغیر کسی وسیلے کےکسی کو عطا کرے تووہ دی ہوئی نعمت کو واپس بھی لے سکتا ہے۔ کتنے ہی ایمان والے مرتدہوکراور اطاعت گزار فاسق ہوکربرے خاتمے کا شکارہوئے۔ جب آدمی اس طرح سوچے گا تو خود پسندی اس میں باقی نہیں رہے گی۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۴۰،۴۱)

قرآن و حدیث میں بار بار عاجزی اختیار کرنے اور تکبر سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ سراپا انکساری تھی، حالانکہ آپ ﷺ تمام مخلوق سے افضل تھے۔ اس کے باوجود آپ ﷺ نے کبھی اپنی ذات پر فخر نہ فرمایا بلکہ ہمیشہ اللہ کی بندگی اور عاجزی کو اختیار کیا۔ یہی طرزِ عمل امت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔لہٰذا خود پسندی سے بچنا اور دل میں عاجزی پیدا کرنا ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہی صفات انسان کو اللہ کے قریب اور آخرت میں کامیاب بناتی ہیں۔

اسلام ایک ایسا پیارا دین ہے جو انسان کے ظاہر کے ساتھ ساتھ اس کے باطن کی بھی اصلاح فرماتا ہے۔ باطنی بیماریوں میں ایک نہایت خطرناک مرض خود پسندی (عُجب) ہے۔ یہ وہ بیماری ہے جس میں انسان اپنی عبادت، علم، حسنِ اخلاق یا کسی بھی خوبی کو دیکھ کر اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ہے اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے۔ یہ صفت اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے اور بندے کے اعمال کو برباد کر دیتی ہے۔ قرآنِ کریم فرقان حمید میں رب تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠(۳۲)

ترجمہ کنزالایمان: تو آپ اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ وہ خوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں۔ (پارہ 27، سورۃ النجم، آیت 32)

اس آیتِ مبارکہ میں خود پسندی سے صاف منع فرما دیا گیا کہ اپنے آپ کو پاک اور کامل سمجھنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔

حضور امام الانبیاء خاتم النبیین سرور عالم سید عالم جان عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باطنی بیماری کی سخت مذمت فرمائی ہے۔ چنانچہ حضرت محمد ﷺ کا فرمانِ عبرت نشان ہے:

ثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ: شُحٌّ مُطَاعٌ، وَهَوًى مُتَّبَعٌ، وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ

ترجمہ: تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں:(1) ایسا بخل جس کی پیروی کی جائے(2) خواہشِ نفس کی اتباع

(3) آدمی کا اپنے آپ کو پسند کرنا۔(المعجم الاوسط، للطبرانی، باب: ما جاء فی المهلکات،جلد 6، صفحہ 47، حدیث: 6167)

مزید ایک مقام پر ارشاد فرمایا:لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَخِفْتُ عَلَيْكُمْ مَا هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذٰلِكَ: الْعُجْبُ

ترجمہ: اگر تم گناہ نہ کرو تو مجھے تم پر اس سے بھی زیادہ خطرناک چیز کا خوف ہے، اور وہ خود پسندی ہے۔

(شعب الایمان، للبیہقی، باب: فی ذم العجب،جلد 5، صفحہ 430، حدیث: 7255)

خود پسندی کے نقصانات:

خود پسندی کے کئی روحانی نقصانات ہیں:یہ انسان کو تکبر میں مبتلا کر دیتی ہے،دوسروں کو حقیر سمجھنے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے،اعمال ضائع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،اصلاحِ نفس کا دروازہ بند ہو جاتا ہے،اس مہلک بیماری سے بچنے کے لیے درج ذیل امور اختیار کیے جائیں:

اپنی ہر نیکی کو اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھا جائے،اپنے گناہوں کو یاد رکھ کر توبہ و استغفار کیا جائے،عاجزی اور انکساری کو اپنایا جائے،نیک لوگوں اور اولیائے کرام کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں خود پسندی جیسے خطرناک مرض سے محفوظ فرمائے، ہمیں عاجزی و انکساری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری نیکیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔