آج کے دور میں موبائل فون ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔یہ نعمت ہے اگر صحیح استعمال ہو۔لیکن یہی موبائل بچوں کے لیے ایک بڑی آزمائش اور نقصان کا سبب بھی بن رہا ہے۔بچے تعلیم سے غافل،عبادت سے دور،والدین سے بے پروا اور کھیلوں سے کٹ کر ورچوئل دنیا میں کھو جاتے ہیں۔اسلام نے ہمیشہ وقت کی قدر کرنے اور فضول مشاغل سے بچنے کی تلقین کی ہے۔اللہ پاک کا فرمان ہے:وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(۳)(پ18،المؤمنون:3)ترجمہ:اور وہ جو فضول بات سے منہ پھیرنے والے ہیں۔

موبائل کا بے جا استعمال بھی لغو اور بے ہودہ چیزوں میں شامل ہے جس سے ایمان والوں کو بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِترجمہ:آدمی کے اسلام کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ فضول کاموں کو چھوڑ دے۔(ترمذی،4/142،حدیث: 2334)

بچوں کو موبائل سے بچانے کے طریقے

1. صحیح مصروفیات مہیا کرنا:بچے جب فارغ ہوں تو موبائل کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔لہٰذا والدین ان کے لیے سچی اسلامی کہانیاں،تلاوت،نعتیں اور مفید کھیل مہیا کریں۔

2. محبت سے سمجھانا:

سختی سے پیش آنے کی بجائے پیار بھرے انداز میں ان کو سمجھایا جائے کہ موبائل کا بے جا استعمال وقت اور صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

3. اچھے ماحول کا انتظام:

اگر بچے مسجد،مدرسہ یا دینی ماحول سے وابستہ ہوں تو وہ خود بخود فضول مشغولیات سے دور ہو جاتے ہیں۔

4. کردار سازی:

حضور ﷺ نے بچوں کو نماز سکھانے اور اچھی عادات اپنانے کا حکم فرمایا۔جب والدین خود موبائل کے غلام نہ ہوں گے تو بچے بھی ان کی پیروی کریں گے۔

موبائل فون کی تباہ کاریاں اور ان کا حل:

ہمارے بچے آج کل کارٹونز اور موویز کے عادی ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے بچوں کے رول ماڈل اور پسندیدہ لوگ بھی کارٹونز ہیں۔

بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ بچوں میں گناہ اور حرام کی تمیز ہی ختم ہوتی جارہی ہے اور دین سے دوری کے کچے ذہنوں کو تباہ وبرباد کر رہی ہے۔بچوں کو اگر سکرین کے ذریعے اخلاقی تربیت دینی ہے تو اس کے لیے بچوں کا مدنی چینل اور اس پر نشر ہونے والے کارٹونز بہت مفید ہیں جن میں بچوں کی اخلاقی تربیت بھی ہے اور بچے کا اسکرین ٹائم کا شوق بھی پورا ہو جاتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ خود ان کے لیے وقت نکالیں کیونکہ جو وقت آپ دیں گے اس کی جگہ کوئی اور چیز نہیں لے سکتی۔

بچوں کی اصلاح کا طریقہ:

بچوں کی اصلاح صرف موبائل چھیننے سے نہیں بلکہ ان کی تربیت،محبت اور صحیح ماحول دینے سے ممکن ہے۔اسلام نے وقت کے بہترین استعمال کا درس دیا ہے۔اگر والدین اس ذمہ داری کو سمجھیں تو ان کے بچے دین و دنیا میں کامیاب رہیں گے۔

دعا:

اے اللہ پاک! ہمارے بچوں کو موبائل کے فتنے سے محفوظ فرما اور انہیں علمِ دین،نماز اور نیک اعمال کی محبت عطا فرما۔آمین