بچوں
کی موبائل سے جان کیسے چھڑائیں ؟ از بنتِ
محمد ریاض،جوہر ٹاؤن لاہور
دورِ
حاضر کے لیے موبائل واقعی ایک ضرورت ہے لیکن اس موبائل کا بے جا استعمال کئی طرح
سے نقصان دہ بھی ہے۔جیسے بچوں کا زیادہ موبائل استعمال کرنا ان کو علم سے دور کر دیتا
ہے اور اسی کی وجہ سے انسان کئی فضولیات میں مشغول ہو کر اپنے وقت کا ضیاع کرتا ہے۔
ارشادِ
باری ہے:اِنَّ الْاِنْسَانَ
لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) (پ30،العصر:2)ترجمہ:بیشک
آدمی ضرور نقصان میں ہے۔
اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ
ہے کہ اللہ پاک نے قسم ذکر کر کے فرمایا کہ بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے کہ اس کی
عمر جو اس کا سرمایہ اور اصل پُونجی ہے وہ ہر دم کم ہو رہی ہے مگر جو ایمان لائے
اور انہوں نے اچھے کام کئے۔
والدین
اگر ہر وقت موبائل کا ہی استعمال کرتے رہیں گے تو ممکن ہے کہ گناہوں میں مبتلا ہو
جائیں۔اسی لیے اس سے بچنا ہی بہتر ہے۔
بچوں
کو موبائل سے بچانے کے لیے پیار،وقت اور اچھے متبادل ضروری ہیں۔والدین اگر خود عمل
کریں اور بچوں کو دلچسپ دینی و تعلیمی ماحول فراہم کریں تو بچے موبائل کی عادت سے
آہستہ آہستہ نکل آئیں گے۔آئیے!ان میں سے کچھ کے بارے میں جانتی ہیں:
1:والدین کا بچوں کے سامنے موبائل کا کم استعمال کیجیے:
بچے ہمیشہ
بڑوں سے ہی سیکھتے ہیں۔اگر والدین ہی بچوں کے سامنے لگاتار موبائل استعمال کر رہے
ہیں تو بچے بھی لازماً موبائل استعمال کریں گے۔اسی لیے والدین کو سوائے اشد ضرورت
کے بچوں کے سامنے موبائل استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
2:بچوں کو وقت دیجیے:
بچوں
کا زیادہ موبائل استعمال کرنے کی ایک بڑی
وجہ والدین کا بچوں کو وقت نہ دینا بھی ہے۔اسی لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے
بچوں کو زیادہ سے زیادہ اپنا وقت دیں تاکہ بچے موبائل سے دوری اختیار کریں۔
3:بچوں کی موبائل استعمال کرنے کی عادت کو کم کیجیے:
بچوں کی
موبائل استعمال کرنے کی عادت کو ایک دم ختم نہیں کیا جا سکتا۔اگر ایسا کریں گی تو
بچے ضدی ہوں گے اور بڑوں سے بدتمیزی بھی کریں گے۔اسی لیے ان کو موبائل استعمال
کرنے کے وقت کو آہستہ آہستہ کم کیجیے۔بالفرض اگر بچہ پہلے 1 گھنٹہ استعمال کرتا ہے
تو اس کو اب کم کر کے آدھے گھنٹے پر لے آئیے اور پھر 15 یا 20 منٹ پر۔
4:موبائل کا متبادل دیجیے:
بچوں
کو موبائل کا متبادل مہیا کیجیے جیسے ڈرائنگ،پینٹنگ اور تعلیمی سرگرمیاں مہیا کیجیے۔
موبائل
دینے کے وقت میں بچوں کو کچھ دعائیں وغیرہ سیکھا دی جائیں تو زیادہ انسب ہے۔
5:تعریف و انعام دیجیے:
اگر
بچہ موبائل کم استعمال کرے یا ایک دن نہ کرے تو اس کو کوئی تحفہ و انعام دیجیے اور
اس کی حوصلہ افزائی کیجیے۔
6:اسلامی ماحول دیجیے:
بچوں
کو قرآن سنائیے اور پڑھائیے۔حضور ﷺ کے مبارک اقوال ،حضور ﷺ کے اخلاق و عادات اور عبادات کے بارے میں بتائیے۔
7:محبت سے سمجھائیے،سختی نہ کیجیے:
اگر
بچے ضد کریں تو ڈانٹنے کے بجائے پیار سے سمجھائیے اور انہیں مصروف کرنے کے لیے
دوسرا کام دیجیے۔مثلاً:آؤ! ہم مل کر کہانی پڑھتے ہیں یا آؤ! ہم مل کر یہ کام کر لیتے
ہیں۔
8:عبادت کی عادت ڈالیے:
بچوں
کو اللہ پاک کی عبادت کرنے کی عادت ڈالیے۔انہیں نماز پڑھنے کا طریقہ بتائیے۔نماز
کے فرائض،وضو کا طریقہ وغیرہ اور کچھ اسلامی واقعات،پھر اس کے نتائج بھی بتائیے ۔اس
سے بچوں کا دل دین کی طرف جائے گا۔
موبائل دیتے وقت کی کچھ احتیاطیں:
بچوں
کو اگر کچھ وقت موبائل دینا بھی ہو تو اپنی نگرانی میں دیجیے۔موبائل پر وقت مقرر
کر کے دیجیے اور پھر ریمائنڈ (Remind ) بھی کروائیے۔اللہ پاک ہمیں اس کے بے جا استعمال سے محفوظ فرمائے۔آمین
بجاہ النبی الامینﷺ
Dawateislami