موبائل کی ایجاد ضرورت کے تحت ہوئی تھی مگر روز بروز اس
کے کثیر استعمال نے اسے انٹرٹینمٹ بنا دیا ہے جس نے نہ صرف بڑوں کی زندگی کو متاثر
کیا ہے بلکہ بچوں کی زندگی پر بھی برا اثر ڈالا ہے۔موبائل کی لت نہ صرف جسمانی صحت کو اثر انداز کرتی ہے بلکہ ذہنی
صحت کو بھی نقصان پہنچاتی ہے تاہم اس کیلئے نہایت ضروری ہے کہ بچپن ہی سے
بچوں کو موبائل سے دور رکھا جائے۔بچوں سے موبائل کی عادت چھڑوانے کیلئے چند باتوں
کو مدّ نظر رکھنا ضروری ہے۔جیسے:
والدین کا ردّعمل:
بچے سننے سے زیادہ دیکھ کر سیکھتے ہیں اور والدین کا عمل ہی ان کیلئے سب سے مؤثر سبق
ہوتا ہے۔بچے اپنے والدین کو جو کرتے ہوئے
دیکھتے ہیں اسے ہی کاپی کرتے ہیں۔اگر والدین کو ہی موبائل کی عادت پڑی ہوئی ہے یا
وہ اپنے بچے کے سامنے موبائل کا کثیر استعمال کرتے ہیں تو بچوں کو اس سے دور رکھنا
اتنا ہی مشکل امر ہے۔
بچوں سے موبائل کو دور رکھنے کا سب سے بہترین ذریعہ یہی
ہے کہ ان کے سامنے اس کا استعمال ترک یا قلیل کردیا جائے۔
والدین کی عدم توجہی :
والدین
کی کثیر مصروفیات کی وجہ سے بچوں کو ملنے والی عدم توجہی بچوں کو ٹائم پاس کیلئے موبائل کا کثیر استعمال
کرنے پر ابھارتی ہے۔والدین بچوں کو اپنا قیمتی وقت نہیں دیتے، انہیں سنتے نہیں ہیں
جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنا وقت سوشل میڈیا پر گزارنے لگتے ہیں اور یوں وہ
موبائل کو اپنا ساتھی بنا لیتے ہیں۔
والدین
کو چاہئے کہ وہ اپنی تمام تر مصروفیات کو مینیج کرتے ہوئے اپنے بچوں کیلئے وقت
ضرور نکالیں،انہیں سنیں،بچوں میں یہ ایقان
پیدا کریں کہ ان کیلئے اوّل ترجیح ان کے والدین ہیں تاکہ وہ موبائل جیسی بیماری سے
بچتے ہوئے احساس کمتری کا شکار نہ ہوں۔
بوریت :
موبائل
کی عادت پڑ جانے کی ایک بڑی وجہ بوریت بھی ہے۔بچے والدین سے بوریت کی شکایت کریں
تو والدین کا ہاتھ سب سے پہلے ایک آلے کی طرف جاتا ہے جو ان کے نزدیک بوریت ختم
کرنے کا بڑا ذریعہ ہے حالانکہ موبائل بوریت کو ختم کرنے کا نہیں بلکہ ذہنی سکون
تباہ کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔
بچوں کی
بوریت کو ختم کرنے کیلئے والدین کو چاہئے کہ وہ انہیں کسی تفریحی مقام پر لے جائیں،کسی
فیزیکل ایکٹیویٹی میں مشغول کردیں،بچے کی
دلچسپی کے مطابق کوئی کتاب پڑھنے کیلئے دے دیں۔مگر موبائل نہ دیں کہ موبائل ان کے
ہاتھ میں دے دینا گویا ان کے ہاتھ میں آگ کا شعلہ دے دینا ہے۔
متبادل دیجیے:
موبائل
کی عادت چھڑوانے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کا کوئی مثبت متبادل پیش کیا جائے ورنہ
بچہ یا بڑا خلا محسوس کرے گا اور دوبارہ موبائل کی طرف رجوع کرے گا۔مثال کے طور پر
بچوں کو اسلامی کہانیاں سنانا،کھلونے،کھیل کود یا تخلیقی سرگرمیاں فراہم کرنا مفید
ہے۔
آہستہ آہستہ جان چھڑوائیے:
بچوں
سے موبائل کی عادت کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ آہستہ آہستہ نرمی کے ساتھ
بچوں سے موبائل کو دور کیا جائے۔ایسا ممکن نہیں کہ ایک ہی کوشش میں بچے موبائل کا
استعمال ترک کردیں بلکہ وقت میں کمی کرکے نرمی کے ساتھ آہستہ آہستہ موبائل سے بچوں
کی جان چھڑوائیے۔
وقت مقرر کیجیے:
یکبارگی
میں موبائل کی عادت کو ختم کرنا کسی صورت ممکن نہیں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ دن میں
بچے کیلئے ایک وقت مقرر کر دیجیے تاکہ وہ اپنے طے شدہ وقت میں ہی موبائل کا
استعمال کرے۔
جیسے
اگر بچہ پہلے دن میں 2 گھنٹے موبائل کا استعمال کرتا تھا اب اسے اپنی نگرانی میں
آدھا گھنٹہ موبائل دیجیے؛ وقت ختم ہونے سے 5 منٹ قبل ہی بچے کو یاد دلا دیجیے کہ 5 منٹ بعد
موبائل لے لیا جائے گا۔اسی طرح آہستہ آہستہ نرمی کے ساتھ موبائل کو دینا بالکل ختم
کر دیجیے۔
مذکورہ
طریقوں کے مطابق عمل کرنے سے ممکن ہے کہ بچہ جلد موبائل کو ترک کر دے۔تاہم اشد
ضروری ہے کہ والدین پہلے خود موبائل کا استعمال قلیل کریں۔بچوں کے سامنے جتنا کم
استعمال کیا جائے اتنا ہی بچے اس سے دور رہیں گے۔اللہ پاک تمام بچوں کو اپنی حفاظت
میں رکھے اور موبائل کی آفات سے چھٹکارا عطا فرمائے۔آمین
Dawateislami