آج کے ڈیجیٹل دور میں موبائل فون زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔اگرچہ یہ  کئی فوائد فراہم کرتا ہے مگر تربیتِ اولاد میں یہ بات ذہن نشین رکھیے کہ بچوں کو آپ نے سکھانا ہے۔اگر آپ بچوں کو بلا نگرانی بس موبائل پکڑا دیں گے تو یہ چھوٹا سا موبائل نا سمجھ کے لیے ہلاکت ہے۔بچے صحیح غلط میں فرق کرنے کے لیے چھوٹے ہوتے ہیں اور موبائل کئی فوائد کے ساتھ کئی آفات کا مجموعہ بھی ہے۔والدین بچوں سے جان چھڑانے اور ان کو کوئی مصروفیت دینے کے لیے ان کے ہاتھوں میں موبائل تھما دیتے ہیں ۔والدین کو غور کر لینا چاہیے کہ وہ اپنے بچے کے ساتھ کیا کررہے ہیں۔

بچوں کو موبائل سے بچانے کے چند طریقے:

٭والدین کو خود مثال قائم کرنی چاہیے کیونکہ اگر بڑے ہر وقت موبائل استعمال کریں گے تو بچے بھی وہی عادت اپنائیں گے۔کیونکہ آپ کے بچے آپ کی نصیحتوں سے زیادہ آپ کی اپنی عادات کو اپناتے ہیں۔

٭بچوں کو متبادل(ALTERNATE)سرگرمیوں میں مصروف کیا جائے مثلاً: کتابیں پڑھنا۔اب والدین بچوں میں کم عمری ہی میں کتابوں کا شوق یوں پیدا کرسکتے ہیں کہ بچوں کو ان کی صلاحیت کے مطابق کتابوں اور رسائل کے اہداف دیں۔نیز والدین بچوں کے لیے ایسا شیڈول تیار کر سکتے ہیں جس میں پڑھائی،کھیل،جسمانی سرگرمی اور آرام کا وقت شامل ہو۔جب بچوں کا وقت مفید کاموں میں گزرتا ہے تو موبائل استعمال کی خواہش خود بخود کم ہو جاتی ہے نیز اس سے بچوں میں کم عمری سے ہی ایک منظم (ORGANIZED) زندگی گزارنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔

٭والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو اپنا وقت دیں،اس سے نہ صرف بچے موبائل سے دور رہیں گے بلکہ بچوں کے ساتھ والدین کے تعلقات بھی مضبوط ہوں گے۔

٭ مزید یہ کہ بچوں کو زیادہ موبائل استعمال کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنا بھی ضروری ہے کہ اس سے نظر کمزور ہوتی ہے،تعلیمی کارکردگی میں کمی آسکتی ہے،وقت ضائع ہوتا ہے،مزاج اور رویے میں چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے نیز موبائل کے غلط استعمال سے بری عادات وغیرہ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

رو کنے کا انداز کیسا ہونا چاہیے؟

اگر والدین حدود مقرر کریں،متبادل سرگرمیاں فراہم کریں،متوازن روٹین بنائیں اور بچوں کو آگاہ کریں تو وہ صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔والدین کو خیال رکھنا چاہیے کہ بچوں کو کسی چیز سے روکتے وقت ہمارا انداز کیسا ہونا چاہئے؟ بسا اوقات والدین کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ ان کا صحیح فیصلہ بھی بچوں کو بے جا سختی اور پابندی محسوس ہوتی ہے۔والدین کا رویہ درست ہونا بہت ضروری ہے۔لہٰذا والدین کو چاہیے کہ صبر اور مستقل مزاجی سے کام لیتے ہوئے نرمی والا انداز اختیار کریں۔