بچوں
کی موبائل سے جان کیسےچھڑوائیں ؟ از بنتِ عمران حسین،فیضان رضا سرجانی ٹاؤن کراچی
آج کے
دور میں موبائل فون زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی اس کے
عادی ہو گئے ہیں۔تعلیم،نیند،صحت اور تعلقات پر اس کے منفی اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔بعض
اوقات بچے اپنے والدین اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے اسکرین پر گھنٹوں ضائع
کرتے ہیں۔یہ صورتحال والدین کے لیے فکر کا باعث ہے۔اسلام ہمیں اس معاملے میں بھی راہ
نمائی دیتا ہے کہ اولاد کی تربیت اور ان کی حفاظت والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری
ہے۔اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا(پ،التحریم:
6)ترجمہ:اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے
بچاؤ ۔
اسی
طرح نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ
رَعِيَّتِهٖ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی
رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
(مسلم،ص1016، حديث:1826)
یہ آیات
و احادیث واضح کرتی ہیں کہ والدین بچوں کی تربیت کے ذمہ دار ہیں اور انہیں وقت کے
فتنوں سے بچانا بھی ان ہی کے ذمے ہے۔موبائل کی غیر ضروری لت بھی ایسا ہی ایک فتنہ
ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
عملی اقدامات
1. رول ماڈل بنیے:
بچے
اپنے والدین کی پیروی کرتے ہیں۔اگر والدین خود ضرورت سے زیادہ موبائل استعمال کریں
تو بچے بھی یہی رویہ اپناتے ہیں۔اس لیے سب سے پہلے والدین کو اپنی عادتیں درست کرنی
چاہئیں۔گھر میں نو فون زون بنائیے جیسے کھانے کے اوقات یا نماز کے بعد۔اس سے بچے
خود بخود توازن سیکھیں گے۔
2. واضح قواعد بنائیے:
بچوں
کے لیے موبائل کے اوقات اور حدود طے کیجیے مثال کے طور پر اسکول کے بعد صرف ایک
گھنٹہ۔رات کے وقت موبائل کمرے میں نہ دینے کی عادت ڈالیے۔جب بچے قواعد توڑیں تو
نرمی مگر مستقل مزاجی سے انہیں سمجھائیے۔
3. متبادل سرگرمیاں فراہم کیجیے:
بچوں
کو کھیل کود،کھیلوں کے مقابلے،کتابوں کی کہانیاں،اسلامی کہانیاں اور قرآن کی تلاوت
کی طرف مائل کیجئے۔حضور ﷺ نے فرمایا:الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ،خَيْرٌ
وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ طاقتور
مومن بہتر ہے اور وہ کمزور مومن سے زیادہ
اللہ پاک کی بارگاہ میں پسندیدہ ہے۔(مسلم،ص1432 ،حدیث:2664)
یہ
طاقت جسمانی کھیلوں اور صحت مند سرگرمیوں سے ہی حاصل ہوتی ہے نہ کہ اسکرین کے
سامنے بیٹھنے سے۔
4.ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال:
والدین
parental controls۔screen time سیٹنگز اور تعلیمی ایپس کا استعمال کریں
تاکہ موبائل صرف مثبت مقاصد کے لیے استعمال ہو۔
5. محبت اور حکمت سے سمجھائیے:
بچوں
کو موبائل کے نقصانات صرف ڈانٹ کر نہیں بلکہ پیار اور حکمت سے بتائیے۔ انہیں یہ
سمجھائیے کہ وقت اللہ پاک کی نعمت ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ:الصِّحَّةُ
وَالفَرَاغدو
نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر دھوکے میں ہیں:ایک صحت دوسری فراغت۔(بخاری، 4/222،
حدیث:6412)
6. انعام و جزا کا نظام اپنائیے:
جب بچے
موبائل کو محدود وقت کے لیے استعمال کریں تو ان کی تعریف کریں یا چھوٹا سا انعام دیجیے۔یہ
مثبت رویہ انہیں مزید محنت پر آمادہ کرے گا۔
7. دعاؤں اور تربیتی محافل کا سہارا لیجیے:
والدین
اپنی اولاد کی ہدایت اور حفاظت کے لیے دعا کیجیے۔بچوں کو دینی اجتماعات یا مسجد کے
پروگرامز میں شامل کروائیے تاکہ ان کا رجحان دینی ماحول کی طرف بڑھے۔
ان
تمام باتوں کا خلاصئہ کلام یہ ہےکہ اسلامی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ اولاد
اللہ پاک کی امانت ہے۔والدین پر لازم ہے کہ وہ اس امانت کی حفاظت کریں اور انہیں
دنیاوی اور دینی لحاظ سے بہترین راہ دکھائیں۔موبائل فون کا صحیح استعمال فائدہ مند
ہے لیکن اس کی لت بچوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔والدین اگر رول ماڈل بنیں،واضح حدود
مقرر کریں،مثبت سرگرمیاں فراہم کریں اور دعا و صبر کے ساتھ حکمت سے بچوں کی راہ نمائی
کریں تو یقیناً بچے موبائل کی غیر ضروری عادت سے چھٹکارا پا سکتے ہیں اور ایک
متوازن اسلامی زندگی گزار سکتے ہیں۔
Dawateislami