موبائل فون کا کثرتِ استعمال ہمارے معاشرے کا ایک اہم مسئلہ  بنتا جارہا ہے۔ نوجوان بچے بڑے سب ہی اس میں ملوث اور یہ عادت انسان کی زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔

جہاں تک بات رہی بچوں کی تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کی موبائل سے کیسے جان چھڑائیں ؟ جب کہ یہ عادت ان کی نشو نما اورقوت ِمدافعت ہر چیز تباہ کر رہی ہے۔ بچوں کو موبائل سے کیسے دور رکھا جائے اس ضمن میں چند طریقے مندرجہ ذیل ہیں:

کھیلوں کی ترغیب دیجیے:

بچے اگر کھیلیں گے تو ان کی دماغی نشوونما میں اضافہ ہوگا۔کوشش کیجیے کہ بچوں کو پارک میں لے جائیے یا وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل سکیں تاکہ بچوں کے درمیان اچھے تعلقات بن سکیں۔یہ سرگرمی بھی بچوں کی مہارت میں اضافہ کرے گی۔

روڈ ٹِرپ پر جانے کا پلان بنائیے:

کوشش کیجیے کہ ہفتے میں ایک بار ضرور کسی جگہ گھومنے جائیے۔خاص طور پر کہیں گھومنے کا پلان بنائیں تو اپنے بچوں کی رائے لینا ہر گز مت بھولیے۔اس طرح بچے موبائل فون سے دور رہیں گے اور فیملی کے ساتھ وقت گزار سکیں گے۔

پڑھنے کی عادت ڈالیے:

اب ضروری نہیں کہ تمام سرگرمیاں گھر سے باہر ہوں۔گھر کے اندر بھی آپ بہت کچھ کرسکتی ہیں۔جیسا کہ بچوں کے اسکول کی چھٹیوں کے دوران آپ انہیں کتابوں کی فہرست اور انہیں پڑھنے کا ذہن دیجیے تاکہ موبائل سے دور رہ سکیں ۔

گھر کے کاموں میں مدد کرنا بھی بچوں کی نشوونما میں بہتری لا سکتا ہے۔ گھر کے کاموں کی فہرست بنائیے،مثال کے طور پر بستر ٹھیک کرنا،کمرے کی چیزیں اپنی جگہ پر رکھنا وغیرہ شامل ہیں۔اس طرح آپ اپنا بھی وقت بچا سکیں گی اور بچے کے اندر ذمہ داری کا احساس بھی پیدا ہوگا اور ان کا موبائل کی طرف ذہن کم سے کم جائے گا ۔

انعام:

موبائل کے کم سے کم استعمال کرنے پر انعام رکھیے جس سے موبائل فون کے کم استعمال کی کوشش ہوگی اور ایک وقت میں آکر مکمل کامیابی حاصل ہو جائے گی۔

وقت معین کیجیے:

وقت متعین کرنے کے بعد ضروری ہے کہ والدین بچوں پر نظر رکھیں اور ساتھ ہی خود بھی موبائل فونز استعمال کرنے کی ایک حد مقرر کر لیں۔جب گھر کے تمام لوگ ایک ہی اصول پر چلیں گے تو ایسے اس عادت پر قابو پانا آسان ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ اور بھی بہت سے طریقے ہیں جنہیں ہم حکمتِ عملی سے اپنا کر محبت کے ساتھ اپنے بچوں کو موبائل سے دُور کر سکتی ہیں تاکہ ان کی صحت اور نشوونما متاثر نہ ہو۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کی بہترین انداز سے تربیت کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔