موبائل فون آج کی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔لیکن جب یہی ٹیکنالوجی بچوں کے ہاتھ میں بغیر حدود کے آ جائے تو یہ علم و تربیت کے بجائے غفلت،ذہنی الجھن،جسمانی بیماریوں اور دینی دوری کا سبب بن جاتی ہے۔والدین کی سب سے عام شکایت ہے کہ  ہمارا بچہ بس موبائل میں گم رہتا ہے،نماز نہیں پڑھتا،پڑھائی نہیں کرتا،بات نہیں سنتا!

تو اب سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو موبائل کی لت سے کیسے نکالیں ؟

موبائل کے نقصانات بچوں پر:

ذہنی توجہ میں کمی،چڑچڑاپن،بے صبری،جسمانی اور آنکھوں کی کمزوری،نیند کی خرابی،جسمانی سستی،تعلیمی پڑھائی میں عدم دلچسپی،نمبر کم آنا،اخلاقی بد زبانی،ضد، والدین کی نافرمانی،نماز سے غفلت،دین سے دوری اور وقت کا ضیاع

اسلام کی نظر میں وقت اور تربیت

1. وقت کی اہمیت

وَ الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) (پ30، العصر:2،1)ترجمہ:اس زمانۂِ محبوب کی قسم بے شک آدمی ضرور نقصان میں ہے۔

موبائل پر گھنٹوں لگانا درحقیقت وقت کا زیاں ہے۔

2. والدین پر تربیت کی ذمہ داری:

كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهٖ ترجمہ:تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اُس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔(مسلم،ص1016، حديث:1829)

بچوں کو موبائل کی لت سے نکالنے کے 10 مفید طریقے

1.خود والدین کی اصلاح کریں:

اگر والدین خود دن بھر موبائل میں مصروف ہوں تو بچے بھی ویسے ہی کریں گے۔

بچوں کے سامنے موبائل استعمال محدود کردیجیے۔

2. باقاعدہ روٹین بنائیے:

موبائل استعمال کے لیے روزانہ ایک خاص وقت مقرر کیجیےمثلاً: 30 منٹ۔

نو موبائل زونز جیسے:کھانے کی میز،نماز کا وقت،سونے سے پہلے طے کیجئے۔

3. متبادل مصروفیات دیجیے:

بچوں کو کھیلنے،پڑھنے،مصوری،کہانیاں سننے،سیر پر جانے یا کسی ہنر سیکھنے میں لگائیے۔

بچوں کو جسمانی کھیل کی طرف مائل کیجیےمثلاً: سائیکل،پارک وغیرہ۔

4. اسلامی کہانیاں اور قصے سنائیے:

بچوں کو صحابہ کرام،انبیائے کرام اور اسلامی اخلاقیات کی کہانیاں سنائیے۔

آڈیو یا ویڈیو کے بجائے زبانی یا تصویری کتابوں سے تعلق جوڑیے۔

5. دوستی کیجیےصرف ڈانٹ نہیں:

بچے جب بات نہیں سنتے تو اکثر والدین فوراً غصے میں آ جاتے ہیں۔حالانکہ محبت،بات چیت اور سمجھانے کا انداز زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔

6. غیر ضروری موبائل چھیننے کے بجائے تدریجاً کم کیجیے:

اچانک موبائل لینا ردعمل پیدا کرتا ہے۔بتدریجاً وقت کم کیجیے:مثلاً: 2 گھنٹے،1 گھنٹہ، 30 منٹ۔

7. مذہبی شعور دیجیے:

بچوں کو نماز،قرآن،نعت،اذان اور دینی اخلاقیات سے جوڑیے۔موبائل پر اسلامی ایپس کے ذریعے تعلیمی مواد سکھائیے لیکن محدود وقت کے لیے۔

8. ریوارڈ سسٹم بنائیے:

اگر بچہ دن بھر موبائل سے دور رہا،نماز پڑھی یا کوئی اچھا کام کیا تو انعام دیجیے مثلاً: کتاب،گھومنے لے جانا اورپسندیدہ کھانا کھلانا وغیرہ۔

9. خاندانی وقت کو ترجیح دیجیے:

روزانہ گھر میں 30 منٹ کا خاندانی وقت رکھیں جہاں سب موبائل بند رکھیں۔اس دوران بات چیت یا اجتماعی عبادت کریں۔

10. غیر محفوظ مواد کے خلاف اقدامات:

والدین بچوں کے موبائل پر پیرنٹل کنٹرول لگائیں۔غیر اخلاقی گیمز،ایپس اور سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود کریں۔

یاد رکھیے!موبائل برا نہیں۔اس کا بے قابو استعمال برا ہے۔اللہ پاک ہمیں موبائل کے بے جا استعمال سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین