بچوں
کی موبائل فون سے جان کیسے چھڑائیں ؟ از
بنتِ عاشق،فیضان عائشہ صدیقہ مظفرپورہ سیالکوٹ
آج کے
دور میں موبائل فون ہر گھر کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔جہاں یہ ٹیکنالوجی دنیا کو قریب
لانے اور معلومات کو بآسانی حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے وہیں بچوں میں اس کا حد سے
زیادہ استعمال کئی مسائل کو جنم دیتا ہے۔موبائل فون کے سامنے گھنٹوں بیٹھنے سے
بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔پڑھائی میں توجہ کم ہو جاتی ہے اور
سماجی تعلقات کمزور ہو جاتے ہیں۔اسی لیے ضروری ہے کہ والدین اور اساتذہ بچوں کو
موبائل کے نقصان سمجھائیں اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔
سب سے
پہلا قدم والدین کا اپنا رویہ درست کرنا ہے۔بچے ہمیشہ بڑوں کی نقل کرتے ہیں۔اگر
والدین خود کھانے کے دوران اور گفتگو کے وقت یا سونے سے پہلے موبائل استعمال کریں
گے تو بچے بھی یہی عادت اپنائیں گے۔اس لیے ضروری ہے کہ والدین ایک مثبت مثال قائم
کریں اور موبائل فون کے استعمال کے لیے واضح اصول طے کریں۔گھر میں ایک اسکرین ٹائم
رول بنائیں جس کے تحت بچے صرف مخصوص اوقات میں موبائل استعمال کر سکیں۔مثال کے طور
پر ہوم ورک مکمل کرنے کے بعد آدھا یا ایک گھنٹہ موبائل گیمز یا کارٹون کے لیے مختص
کیا جا سکتا ہے۔
دوسرا
قدم بچوں کی توجہ مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی طرف موڑنا ہے۔اگر بچے فارغ بیٹھے رہیں
تو لازمی طور پر موبائل کی طرف راغب ہوں گے۔انہیں کھیلوں میں حصہ لینے،کتابیں
پڑھنے،ڈرائنگ بنانے،سائیکلنگ اور آؤٹ ڈور سرگرمیوں کی طرف مائل کیجیے۔والدین اگر
خود بچوں کے ساتھ یہ سرگرمیاں کریں تو بچے زیادہ خوشی سے شامل ہوں گے۔
تیسرا
اہم نقطہ بچوں کو موبائل کے نقصانات سمجھانا ہے۔لیکن سختی یا ڈانٹ ڈپٹ سے نہیں
بلکہ دوستانہ انداز میں۔انہیں بتائیے کہ زیادہ موبائل استعمال کرنے سے آنکھوں پر
دباؤ بڑھتا ہے،نیند خراب ہوتی ہے،پڑھائی متاثر ہوتی ہے اور دماغ بھی سست ہو جاتا
ہے۔ جب بچے یہ باتیں سمجھیں گے تو خود بھی موبائل کم استعمال کرنے کی کوشش کریں
گے۔
اس کے
ساتھ ساتھ بچوں کے لیے متبادل تفریح فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔کہانیاں سنانا،تعلیمی
گیمز،پزلز اور ہنر سکھانے والی سرگرمیاں بچوں کو مصروف رکھ سکتی ہیں۔ کھانے کے
اوقات اور سونے سے پہلے موبائل فون کا استعمال بالکل بند کر دینا چاہیے تاکہ یہ
وقت فیملی کے ساتھ بات چیت اور آرام کے لیے مختص رہے۔
آخر میں
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ موبائل فون کوئی دشمن نہیں بلکہ ایک سہولت ہے۔لیکن اس کا صحیح
اور متوازن استعمال ہی بچوں کی کامیابی اور صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔اگر والدین
صبر اور مستقل مزاجی کے ساتھ یہ اقدامات کریں تو بچے آہستہ آہستہ موبائل فون سے غیر
ضروری لگاؤ ختم کر دیں گے اور اپنی زندگی کے دوسرے پہلوؤں میں بہتر کارکردگی دکھائیں
گے۔
Dawateislami