آج کے دور میں موبائل بچوں کے لیے تفریح،گیمز اور سوشل میڈیا کا ذریعہ بن گیا ہے۔لیکن اس کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں۔جیسے وقت کا ضیاع،آنکھوں کی کمزوری،اخلاقی بگاڑ اور تعلیمی نقصان۔اسلام میں بھی ایسے کاموں سے بچنے کی تاکید ہے جو وقت ضائع کریں اور اخلاقیات کو نقصان پہنچائیں۔

قرآن میں ارشاد ہے:اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (۳۶)(پ15،بنی اسرائیل:36)ترجمہ:بےشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنی آنکھوں اور کانوں کو غلط استعمال سے بچائیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سے لوگ نقصان میں ہیں: صحت اور فراغت۔(بخاری،4/222،حدیث:6412)

موبائل کا غلط استعمال فراغت کے ضیاع کی بڑی وجہ ہے۔

بچوں کو موبائل سے بچانے کے عملی طریقے

1:والدین کی نگرانی اور رول ماڈل بننا:

والدین خود موبائل کا محدود استعمال کریں تاکہ بچے ان کی تقلید کریں۔

2:مصروفیات کے مثبت ذرائع فراہم کیجیے:

کھیل،مطالعہ،ہنر سکھانے اور دینی سرگرمیوں میں بچوں کو شامل کیجیے۔

3:موبائل کے اوقات مقرر کیجیے:

بچوں کے لیے موبائل کا ایک خاص وقت طے کیجیے اور اس پر سختی سے عمل کروائیے۔

4:اسلامی تربیت:

بچوں کو بتائیے کہ وقت اللہ پاک کی نعمت ہے۔اسے ضائع کرنا گناہ ہے۔

5:فیملی ٹائم کو فروغ دیجیے:

گھر میں اجتماعی سرگرمیاں رکھیے تاکہ بچوں کو موبائل کی کمی محسوس نہ ہو۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(۳)(پ18،المؤمنون:3)ترجمہ:اور وہ جو فضول بات سے منہ پھیرنے والے ہیں۔

موبائل کے بے جا استعمال سے بچنا اسی میں شامل ہے۔

والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی تربیت میں مثبت ماحول فراہم کریں،موبائل کے نقصانات بتائیں اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ان کی عادات درست کریں۔یاد رکھیے! اگر ہم نے بچوں کو موبائل کے فتنے سے نہ بچایا تو یہ ان کی دنیا اور آخرت دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگا۔