لیاقت علی عطاری (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف انسان کے خالق سے تعلق کو مضبوط کرتا ہے ۔ بلکہ انسانوں کے آپسی معاملات میں بھی حسن
سلوک اور اخلاقیات کی اعلی ترین مثالیں قائم کرتا ہے مالی معاملات اور قرض کے لین
دین کے حوالے سے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایسی تعلیمات دی ہیں
جو دلوں میں نرمی پیدا کرتی ہیں اور معاشرے کو محبت و بھائی چارے کا گہوارہ بناتی
ہیں آج ہم انہیں میں سے کچھ بیان کریں گے ۔
قرضدار کو
مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل:
(1)حضرت
ابو قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ
وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالٰی اس کو قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مفلس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے ۔ (مسلم، کتاب
السماقات والمزارعہ، باب فضل انظار المعسر، ص845 الحدیث 32 )
(2)حضرت
جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے
روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ پاک اس شخص پر
رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا
کرنے میں آسانی کرے ۔
( بخاری،
کتاب البیوع باب السہولت السماحہ فی الشراء والبیع 2 )
اور مقروض
پر نرمی کے بارے میں دو فرمانین مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم
(1) جو کسی
تنگدست (مقروض ) پر آسانی کرے گا اللہ پاک اس پر دینا و آخرت میں اس پر آسانی
فرمائے گا ۔
(ابن ماجہ،
جلد 3 ص 147 حدیث 2417 )
(2) جو کسی
تنگدست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے تو اللہ پاک اسے اس دن عرش کے سائے میں
جگہ عطاء فرمائے گا کہ جس دن عرش کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی، جلد 3 صفحہ 52 حدیث 1310)
مقروض سے زیادَتی
کی مثالیں: افسوس! ہمارے ہاں ایک تعداد سُودی قرضے دینے پر تو آمادہ نظر آتی ہے مگر
بغیر نفع کےقرضِ حَسَنہ دیتے ہوئے ان کی جان جاتی ہے حالانکہ سُودی لین دین دنیا و
آخرت کی تباہی کا سبب ہے ۔ بعض لوگ مقروض
کی بے بسی کا فائدہ اس طرح سے اٹھاتے ہیں کہ اسے اپنا زَرخرید غلام سمجھ لیتے ہیں
خصوصاً گاؤں گوٹھوں میں یہ صورتحال زیادہ ہے کہ مقروض کے پورے کنبے کو اپنا غلام
تصور کیا جاتا ہے ۔ انہیں بلیک میل
کرنا، ڈرانا دھمکانا عام ہے ۔ بعض لوگ مقروض کی عزّتِ نفس کو مَجْروح (Hurt) کرتے
نظر آتے ہیں،اس طرح کہ ادائیگی میں تاخیر ہونے پر مقروض کی بے عزّتی کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے ۔ مکان یا دکان کاکرایہ مانگتے ہوئے جان بوجھ کر
شور مچاکر پڑوسیوں کو جمع کرتے ہیں اور پھر سب کے سامنے مقروض کی عزت کی دھجّیاں
بَکھیرتے اور اِیذائےمسلم جیسے کبیرہ گناہ میں مُلَوَّث نظر آتے ہیں ۔ ایسوں کو بھی مقروض سے نرمی اور آسانی کا
مُظاہرہ کرنا چاہئے ۔
نبی
اکرم ﷺ کی یہ تعلیمات دراصل انسانیت کا درس ہیں ۔ یہ سکھاتی ہیں کہ ہمارا معاشرہ لالچ اور خود غرضی کی بجائے ایثار اور ہمدردی
کی بنیاد پر کھڑا ہو ۔ اگر ہم ان نبوی تعلیمات
پر عمل کریں، تو ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے نرمی پیدا ہو گی، غربت و افلاس کی
وجہ سے قرض کے بوجھ تلے دبے لوگوں کو سہارا ملے گا، اور دنیا میں بھی سکون میسر
آئے گا اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں جگہ نصیب ہو گی ۔
Dawateislami