محمد
مبشر (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
پیارے
اسلامی بھائیو! ہمارا دین اسلام ایسا دین ہے جو نہ صرف عبادات بلکہ معاشرتی معاملات میں بھی ہماری
رہنمائی کرتا ہے حسن سلوک ، آسانی اور لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی تعلیم دیتا
ہے ۔ ہمارے معاشرے میں ہر طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں جن میں سے بیچارے کچھ ایسے
ہوتے ہیں جو تنگدست و مقروض ہوتے ہیں تو ایسے لوگوں پر قرض خواہ کو چاہیے کہ نرمی
اختیار کرےاور اس نرمی کو اختیار کرنے کی تعلیم خود ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمائی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جن فرامین
سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ نرمی اختیار کی جائے جو مالی بوجھ تلے
دبے ہوتے ہیں ان فرامین میں سے کچھ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ۔
(1) حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص یہ چاہتا
ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب
المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳)
(2) حضرت
حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو
مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے
علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے
کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف
یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا
تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر
کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ
نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان،
۹
/ ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰)
(3)حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :جس نے تنگ دست کو
مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں
رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی
انظار المعسرالخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)
پیارے
اسلامی بھائیو ان احادیث مبارکہ کی روشنی میں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اسلام ایک ایسا
دین ہے جو صرف عبادات پر زور نہیں دیتا بلکہ انسانوں کے ساتھ ہمدردی ،نرمی اور
معاشرتی ذمہ داریوں کو بھی عبادت کا درجہ دیتا ہے ۔ مقروض پر نرمی و شفقت کا جو جذبہ ان احادیث میں
جھلکتا ہے وہ انسانیت کی معراج ہے ۔
نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ تنگدست انسان کے ساتھ نرمی صرف اس کا
دل جیتنے کا عمل نہیں بلکہ رب کی رضا حاصل کرنے کا راستہ بھی ہے ۔ ایک مفلس کو مہلت دینا یا اس کا قرض معاف کرنا
گویا اپنے گناہوں کی معافی خریدنے جیسا ہے ۔ کیونکہ روزمحشر جب نفسا نفسی کا عالم ہوگا، تب یہ عمل انسان کو عرشِ الٰہی
کے ساۓ میں لے جا سکتا ہے جہاں کوئی اور سایہ نہ
ہوگا ۔ ایسے عمل سے نہ صرف دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے بلکہ معاشرہ باہمی ہمدردی،عدل
اور رحم پر قائم ہوتا ہے ۔ لہذا آئیں ہم دلوں کو وسیع کریں ، زبان کو نرم رکھیں
،اور مال کو رب کی رضا کیلئے بانٹنا سیکھیں ۔ کیا پتا کسی مجبور کی مدد، کسی گناہگار کی نجات کا دروازہ بن جاۓ ۔ کیونکہ
جو کسی کا بوجھ اٹھاتا ہے اللہ پاک اس کیلئے قیامت کے بوجھ ہلکے کر دے تا ہے ۔
اللہ پاک
سے دعا ہے کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے
کی توفیق عطا فرمائے اور معاشرے کا ایک اچھا ، مثالی اور بہترین شخص بناۓ ۔ ( آمین
)
Dawateislami