فضل
القیوم (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
مَقْرُوض
سے ہمیشہ نرمی اور حُسْنِ سُلوک سے پیش آناچاہئے ۔ ضَرورت مندوں کو قَرْض دینا
اور قَرْض کی بہترین ادائیگی کرنا، اسلام میں جہاں اس کی ترغیب ہے وہیں تنگدَسْت
مقروض سے شفقت و مہربانی اور نرمی سے پیش آنا بھی اسلامی تعلیمات کا روشن
باب ہے ۔ قرض دینے کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ضَرورت مند کی مَعاشی اور گھریلو
پریشانیاں خَتْم ہوجائیں،اس سوچ کےتحت اچّھی اچّھی نیتوں کے ساتھ دیا جانے والاقرض
ثواب کا ذریعہ بھی بنے گا ۔
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز
الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل
چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (البقرۃ:280)
اگر مقروض
تنگ دست یعنی تمہارے قرض داروں میں سے کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ
کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ
کردینا یعنی معاف کر دینا تمہارے لیے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان
لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں
تمہیں عظیم ثواب ملےگا ۔
قرض دار کو
مہلت دینے اور قرض معاف کرنے کے فضائل :اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرض دار تنگ دست یا نادار
ہو تو اس مہلت دینا اور قرض کاکچھ حصہ یا پورا قرض معاف کر دینا اجر عظیم کا سبب
ہے احادیث میں بھی ان کے بہت فضائل بیان ہوئے ۔ چنانچہ ان کے 5فضائل درج ذیل ہیں:
(1)ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول
اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ عزوجل اس کو قیامت کے دن ی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مفلس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے،(مسلم،کتاب
المساقاۃ والمزارعۃ ،باب،فضل انظارالمعسر،ص 825 الحدیث 32)
(2)حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :جس نے تنگ دست
کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کردیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں
رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا (ترمذی ،کتاب البیوع ،باب ما جاء انظار
المعسر الخ 3/52 الحدیث 1310)
(3)حضرت
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص
پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضہ کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری کتاب البیوع
،السہولۃ والسماحہ فی الشراء و البیع2/12،الحدیث 2076)
(4)حضرت حذیفہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: گزشتہ زمانے میں ایک شخص کے
روح قبض کرنے کے لیے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا اچھا
کام یاد ہے؟اس نے کہا ،میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے :اس سے کہا گیا غور
کرکے بتا ۔ اس نے کہا صرف یہ عمل تھا کہ
دنیا میں لوگ سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا ،اگر مالدار
بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا اور تنگ دست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا
اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے) فرمایا ان کے ساتھ تم درگزر کرو ۔ ( مسند امام احمد ،
حدیث حذیفہ بن یمان ۔ الحدیث 23713)
(5) اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف
کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں
تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ
والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص877، الحدیث: 29(1570)
امامِ اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور مجوسی قرضدار: امام فخر
الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’منقول ہے کہ ایک مجوسی
پر امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی
وصولی کے لئے ا س مجوسی کے گھر کی طرف گئے ۔ جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتے پر نجاست لگ گئی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست
چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے کو جھاڑا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ا س
عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی ۔ یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ
اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے
اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی
پریشانی کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک
لونڈی باہر نکلی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ نےاس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود
ہے ۔ وہ مجوسی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ کے پاس آیا اور ا س نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنے قرض کا مطالبہ کریں گے، اس
لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی ۔ امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں
تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیوار
پر نجاست لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ
سن کر) اس مجوسی نے عرض کی :میں (دیوارکی صفائی کرنے کی) ابتداء اپنے آپ کو پاک
کرنے سے کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا ۔ (تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک
یوم الدین، 1 / 207)
Dawateislami