مذہب اور دین (عقائد ، اخلاقیات ،اور معاملات)کا مجموعہ ہوتا ہے۔اور کامل دین وہی ہے جس میں ان تینوں کے متعلق مکمل رہنمائی ہو۔یقیناً دین اسلام ایک مسلمان کی عقائد و معاملات کے ساتھ ساتھ معاشرتی اخلاقیات کے حوالے سے بھی مکمل تربیت فرماتا ہے۔انہی اخلاقیات میں سے ایک امانتداری اختیار کرنا اور خیانت سے بچنا بھی ہے۔

خیانت کی تعریف: اجازتِ شرعیہ کے بغیر کسی کی امانت میں تصرف کرنا خیانت کہلاتاہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ175)

قرآن و حدیث میں خیانت کی شدید مذمت آئی ہے اور مسلمانوں کو اس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے ۔چناچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت۔ (سورۃ انفال : آیت27)

خیانت کرنے والوں کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے فرمایا :اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ۠(۵۸) ترجمۂ کنز العرفان: بیشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ انفال:آیت 58)

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔(آل عمران:161)

بلکہ خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے سے بھی منع فرمایا چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ -اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)

ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں ۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (سورہ نساء: آیت 107)

چونکہ قرآن و حدیث میں خیانت کی شدید مذمت ہے لہذا مسلمان کو چاہیے کہ اس بری خصلت سے بچنے کی کوشش کرے تاکہ وہ بیان کردہ وعیدات کا مستحق نہ بنے۔