معزز قارئین! دین اسلام ایسا واحد دین ہے جو زندگی کے ہر اچھے اور برے کاموں کے بارے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ چاہے ان امور کا تعلق دین سے ہو، چاہے ان امور کا تعلق دنیا سے ہو، چاہے ان امور کا تعلق اچھے کاموں سے ہو، چاہے ان امور کا تعلق برے کاموں سے ہو، الغرض دین اسلام کی رہنمائی ہر جگہ موجود ہے۔ اگر وہ کام اچھا ہے تو دین اسلام میں اس کی ترغیبات اور فضائل موجود ہیں۔ اور اگر وہ کام بُرا ہے تو دین اسلام میں اُس سے بچنے کی ترغیب اور نہ بچنے کی صورت میں وعید موجود ہے۔ کوئی بھی امر ایسا نہیں کہ جس کے بارے میں دین اسلام میں رہنمائی موجود نہ ہو۔ اس مضمون میں ہم انسانی زندگی میں کثرت سے پیش آنے والے ایک نہایت مذموم امر خیانت کے بارے میں پڑھیں گے کہ جس کی مذمت قرآن و حدیث میں واضح طور پر موجود ہے۔

خیانت کی تعریف:خیانت خو ن سے بنا ہے۔ جس کا معنی کمی کرنا ہے۔ چاہے وہ کمی اللہ پاک کے مقرر کیے ہوئے اُن احکامات میں ہو کہ جن کا کرنا بندے پر فرض ہے، چاہے وہ کمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اقوال و افعال پر عمل کو ترک کرنے کی صورت میں ہو، چاہے وہ کمی کسی کا مال ناحق لینے کی صورت میں ہو۔ الغرض ہر وہ کام جس کے کرنے پر بندے کو امین بنایا گیا ہے اُس میں کمی کرنا خیانت کہلاتا ہے۔

خیانت سے بچنے کا حکم: قرآن پاک میں ہمیں ہر طرح کی خیانت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ پاک، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم، اور امانتوں میں خیانت کی ممانعت کے تعلق سے ارشاد فرمایا گیا۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔(سورۃ انفال آیت نمبر 27)

اللہ اور رسول کی خیانت سے مراد:اس آیت مبارکہ میں فرمایا گیا کہ اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو تو اللہ اور رسول کی خیانت سے کیا مراد ہے اس کے متعلق تفسیر خازن میں ہے: مَعْنَاہُ لَا تَخُوْنُوْا اللّٰهَ بِتَرْكِ فَرَائِضِهٖ، وَلَا تَخُوْنُ الرَّسُوْلَ بِتَرْكِ سُنَّتِہٖترجمہ: اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ پاک سے اس کے فرائض کو ترک کر کے خیانت نہ کرو۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنتوں کو ترک کر کے آپ سے خیانت نہ کرو۔ ( تفسیر خازن، سورۃ الانفال، تحت الآیۃ 27، جلد 2، صفحہ 306، دار الکتب العلمیہ، بیروت )

اس تفسیر سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک کے مقرر کیے ہوئے فرائض کو چھوڑنا اللہ پاک سے خیانت کرنا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اقوال و افعال پر عمل پیرا نہ ہونا آپ سے خیانت کرنا ہے۔

امانتوں میں خیانت سے بچنے کا حکم :اس آیت مبارکہ میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اے ایمان والو! جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت نہ کرو۔

اللہ اور رسول سے خیانت کرنے والے کا انجام :مذکورہ آیت مبارکہ میں فرمایا گیا کہ اللہ اور رسول عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت نہ کرو۔ تو اب اس منع کے باوجود جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت کرے گا اس کا انجام کیا ہوگا اس کو بیان فرماتے ہوئے اللہ پاک نے قران پاک میں ارشاد فرمایا۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)ترجمہ کنز العرفان: بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔ (پارہ 17 سورۃ الحج، آیت نمبر 38)

اس آیت مبارکہ کی تفسیر کے متعلق تفسیر جلالین میں ہے: اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ فِيْ أَمَانَتِهٖ، كُفُوْرٌ لِنِعْمَتِهٖ، اَلْمَعْنٰى أَنَّهٗ يُعَاقِبُهُمْیعنی اللہ عزوجل ان لوگوں کو پسند نہیں فرماتا جو اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ کفر کر کے ان کی خیانت کرتے ہیں، اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں، اللہ تعالی انہیں اس عمل پر سزا دے گا۔(تفسیر جلالین، پارہ 17، سورۃ الحج، تحت الآیۃ 38)

امانت میں خیانت کرنے والے کا انجام :مذکورہ آیت مبارکہ میں امانت میں خیانت سے بچنے کا حکم بھی دیا گیا۔ تو اب جو امانت میں خیانت کرے گا اس کا انجام کیا ہوگا اس کے متعلق اللہ پاک قران پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ ترجمہ کنز العرفان: اور جو خیانت کرے تووہ قیامت کے دن اس چیزکو لے کرآئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔(پارہ 4، سورۃ آل عمران، آیت نمبر 161)

اس آیت کریمہ کے متعلق ہے کہ اس آیت میں خیانت کی مذمت بیان فرمائی گئی کہ جو کوئی خیانت کرے گا وہ کل قیامت میں اس خیانت والی چیز کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ ( تفسیر صراط الجنان، پارہ 4، سورۃ آل عمران، تحت الآیۃ 161)

مفتی دعوت اسلامی مفتی قاسم عطاری دامت برکاتہم العالیہ اس آیت کریمہ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) کی تفسیر میں فرماتے ہیں:اس آیت سے معلوم ہوا کہ اخلاقی خیانت انتہائی مضمون وصف ہے اور اس سے ہر ایک کو بچنا چاہیے۔( تفسیر صراط الجنان، سورۃ یوسف، تحت الآیۃ 32)

معزز قارئین !! اس مضمون میں ہم نے خیانت کی قرآنی مذمت کے تعلق سے کچھ پڑھا کہ اللہ پاک نے خیانت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ نیز یہ بھی پڑھا کہ خیانت کرنے والوں کو اللہ پاک پسند نہیں فرماتا۔ اور یہ بھی پڑھا کہ خیانت انتہائی مذموم صفت ہے۔ تو ہمیں چاہیے کہ ہم اس مذموم صفت کو اپنانے سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی اس سے بچنے کی ترغیب دلائیں۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔