ساجد
علی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ،پاکستان )
اخلاص ایسی نعمت ہے کہ جس کو بھی نصیب ہوئی وہ دنیا و
آخرت میں کامیاب ہوگیا ، اگر دیکھا جائے تو مخلص آدمی کو لوگ بھی پسند کرتے ہیں
اور اسکی عزت کرتے ہیں اور اللہ پاک بھی اخلاص کے ساتھ کی گئی عبادت کو پسند
فرماتا ہے جبکہ محض دکھاوے اور ریاکاری کیلئے کی گئی عبادت کو پسند نہیں کرتا اور
اس صورت میں آدمی نہ صرف اجر و ثواب سے محروم ہو جاتا ہے بلکہ گنہگار بھی ہوجاتا
ہے ،حالانکہ مومن کی تو شان ہی یہ ہے کہ وہ ہر عمل اللہ پاک کی رضا حاصل کرنے کے لیے
کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے کہ تو نے مجھے اپنی عبادت کرنے کی توفیق
عطا فرمائی اسلام میں اخلاص کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور احادیث مبارکہ میں اخلاص کے
فضائل بیان کئے گئے ہیں اور اس کے برعکس محض دکھاوے اور ریاکاری کیلئے کیے گئے
اعمال پر وعیدیں بھی احادیث میں میں وارد ہیں :
(1) عمل کا خالص ہونا :امیر
المومنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کے فرائض کی ادائیگی
،حرام اشیاء سے اجتناب اور اللہ تعالیٰ کے ہاں نیت کا سچا( خالص) ہونا بہترین عمل
ہے ۔(فیضانِ ریاض الصالحین، جلد اول ،نیت اور اخلاص کا بیان ،صفحہ 32 ،مکتبۃ المدینہ)
(2)مخلص کا تھوڑا عمل بھی زیادہ ہے :حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تورات شریف اللہ پاک کا فرمان لکھا ہے کہ جس عمل
سے میری رضا مطلوب ہو وہ تھوڑا بھی زیادہ ہے اور جس عمل سے میرے غیر کا قصد کیا گیا
ہو وہ زیادہ بھی تھوڑا ہے ۔ (فیضانِ ریاض الصالحین،جلد اول،صفحہ 32،مکتبۃ المدینہ)
(3)مخلص کامیاب ہوگیا :حضرت
سیدنا ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ملائکہ اللہ عزوجل کے بندوں میں سے
کسی بندے کے عمل کو زیادہ سمجھتے ہوئے لے جارہے ہونگے یہاں تک کہ اللہ عزوجل اپنی
سلطنت میں جہاں چاہے گا وہ وہاں پہنچ جائیں گے پھر اللہ تعالیٰ انکی طرف وحی
فرمائے گا کہ تم میرے بندے کے عمل لکھنے پر معمور ہو اور میں اسکے دل سے باخبر ہوں
میرا یہ بندہ میرے لیے عمل کرنے میں مخلص نہیں تھا لھٰذا اسے سجین( ساتوں زمین کے
نیچے ایک مقام کا نام ہے جو شیطان اور اسکے لشکروں کا ٹھکانہ ہے) میں سے لکھ دو اسی
طرح فرشتے ایک بندے کے عمل کو کم اور حقیر جانتے ہوئے لے جارہے ہوں گے یہاں تک کہ
اللہ عزوجل اپنی سلطنت میں جہاں چاہے گا وہ فرشتے وہاں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ
انکی طرف وحی فرمائے گا تم میرے بندے کے عمل لکھنے پر معمور ہو اور میں اس کے دل
سے باخبر ہوں میرا یہ بندہ میرے لیے عمل کرنے میں مخلص ہے لھذا اسے علّیّین (علّیّین
ساتویں آسمان میں عرش کے نیچے ایک مقام کا نام ہے یہ نیک لوگوں کا ٹھکانہ ہے) میں
سے لکھ دو۔(فیضانِ ریاض الصالحین ، جلد اول ، اخلاص و نیت کا بیان ،صفحہ29)
(4)خالص عمل ہی قبول ہوں گے :تاجدار
مدینہ منورہ سلطان مکہ مکرمہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بروز قیامت کچھ
مُہر بند صحیفے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نصب ( پیش)کیے جائیں گے ، تو اللہ تعالیٰ
فرشتوں سے فرمائے گا یہ چھوڑ دو اور یہ قبول کر لو ، فرشتے عرض کریں گے ،یا رب
العالمین تیری عزت کی قسم ! ہم تو اس میں خیر ہی دیکھتے ہیں ،اللہ تعالیٰ جو سب سے
زیادہ جاننے والا ہے ارشاد فرمائے گا یہ اعمال میرے غیر کیلئے کیے گئے تھے آج میں
وہی عمل قبول کروں گا جو میری رضا کیلئے کیے گئے تھے ۔(فیضانِ ریاض الصالحین،جلد
اول ،نیت اور اخلاص کا بیان ، صفحہ28 ،مکتبۃ المدینہ)
ہم اخلاص کو کیسے اپنائیں ؟اگر ہم
اس بات پر ہی غور کرلیں کہ ایک دنیادار تاجر کو جب کسی چیز کے بارے میں معلوم
ہوجائے کہ وہ اسکے منافع کو ختم کر رہی ہے تو وہ اس سے کوسوں دور بھاگتا ہے اور جب
اس کو پتا چل جائے کہ فلاں چیز کاروبار میں ترقی اور کامیابی کا راز ہے تو چاہے وہ
کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو وہ اسکو اپنے اوپر لازم کر دیتا ہے جبکہ اس کے برعکس ہمیں
معلوم ہے کہ ریاکاری نا صرف ہمارے نیکیوں کے منافع کو ختم کرتی ہے بلکہ ہمیں
گناہوں کے خسارے میں ڈال دیتی ہے تو ہمیں کیا ہوا ہے کہ ہم اس سے دور نہیں بھاگھتے
اور ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اخلاص ہی وہ نسخہ ہے جو نیکیوں کے منافع میں اور
آخرت میں کامیابی کا راز ہے ، اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی عبادت میں اخلاص
عطا فرمائے اور ریاکاری کی موذی بیماری سے نجات عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین
صلی اللہ علیہ وسلم ۔
Dawateislami