بچوں
کی موبائل سے جان کیسے چھڑائیں ؟ از بنتِ
محمد ریاض،جوہر ٹاؤن لاہور
دورِ
حاضر کے لیے موبائل واقعی ایک ضرورت ہے لیکن اس موبائل کا بے جا استعمال کئی طرح
سے نقصان دہ بھی ہے۔جیسے بچوں کا زیادہ موبائل استعمال کرنا ان کو علم سے دور کر دیتا
ہے اور اسی کی وجہ سے انسان کئی فضولیات میں مشغول ہو کر اپنے وقت کا ضیاع کرتا ہے۔
ارشادِ
باری ہے:اِنَّ الْاِنْسَانَ
لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) (پ30،العصر:2)ترجمہ:بیشک
آدمی ضرور نقصان میں ہے۔
اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ
ہے کہ اللہ پاک نے قسم ذکر کر کے فرمایا کہ بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے کہ اس کی
عمر جو اس کا سرمایہ اور اصل پُونجی ہے وہ ہر دم کم ہو رہی ہے مگر جو ایمان لائے
اور انہوں نے اچھے کام کئے۔
والدین
اگر ہر وقت موبائل کا ہی استعمال کرتے رہیں گے تو ممکن ہے کہ گناہوں میں مبتلا ہو
جائیں۔اسی لیے اس سے بچنا ہی بہتر ہے۔
بچوں
کو موبائل سے بچانے کے لیے پیار،وقت اور اچھے متبادل ضروری ہیں۔والدین اگر خود عمل
کریں اور بچوں کو دلچسپ دینی و تعلیمی ماحول فراہم کریں تو بچے موبائل کی عادت سے
آہستہ آہستہ نکل آئیں گے۔آئیے!ان میں سے کچھ کے بارے میں جانتی ہیں:
1:والدین کا بچوں کے سامنے موبائل کا کم استعمال کیجیے:
بچے ہمیشہ
بڑوں سے ہی سیکھتے ہیں۔اگر والدین ہی بچوں کے سامنے لگاتار موبائل استعمال کر رہے
ہیں تو بچے بھی لازماً موبائل استعمال کریں گے۔اسی لیے والدین کو سوائے اشد ضرورت
کے بچوں کے سامنے موبائل استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
2:بچوں کو وقت دیجیے:
بچوں
کا زیادہ موبائل استعمال کرنے کی ایک بڑی
وجہ والدین کا بچوں کو وقت نہ دینا بھی ہے۔اسی لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے
بچوں کو زیادہ سے زیادہ اپنا وقت دیں تاکہ بچے موبائل سے دوری اختیار کریں۔
3:بچوں کی موبائل استعمال کرنے کی عادت کو کم کیجیے:
بچوں کی
موبائل استعمال کرنے کی عادت کو ایک دم ختم نہیں کیا جا سکتا۔اگر ایسا کریں گی تو
بچے ضدی ہوں گے اور بڑوں سے بدتمیزی بھی کریں گے۔اسی لیے ان کو موبائل استعمال
کرنے کے وقت کو آہستہ آہستہ کم کیجیے۔بالفرض اگر بچہ پہلے 1 گھنٹہ استعمال کرتا ہے
تو اس کو اب کم کر کے آدھے گھنٹے پر لے آئیے اور پھر 15 یا 20 منٹ پر۔
4:موبائل کا متبادل دیجیے:
بچوں
کو موبائل کا متبادل مہیا کیجیے جیسے ڈرائنگ،پینٹنگ اور تعلیمی سرگرمیاں مہیا کیجیے۔
موبائل
دینے کے وقت میں بچوں کو کچھ دعائیں وغیرہ سیکھا دی جائیں تو زیادہ انسب ہے۔
5:تعریف و انعام دیجیے:
اگر
بچہ موبائل کم استعمال کرے یا ایک دن نہ کرے تو اس کو کوئی تحفہ و انعام دیجیے اور
اس کی حوصلہ افزائی کیجیے۔
6:اسلامی ماحول دیجیے:
بچوں
کو قرآن سنائیے اور پڑھائیے۔حضور ﷺ کے مبارک اقوال ،حضور ﷺ کے اخلاق و عادات اور عبادات کے بارے میں بتائیے۔
7:محبت سے سمجھائیے،سختی نہ کیجیے:
اگر
بچے ضد کریں تو ڈانٹنے کے بجائے پیار سے سمجھائیے اور انہیں مصروف کرنے کے لیے
دوسرا کام دیجیے۔مثلاً:آؤ! ہم مل کر کہانی پڑھتے ہیں یا آؤ! ہم مل کر یہ کام کر لیتے
ہیں۔
8:عبادت کی عادت ڈالیے:
بچوں
کو اللہ پاک کی عبادت کرنے کی عادت ڈالیے۔انہیں نماز پڑھنے کا طریقہ بتائیے۔نماز
کے فرائض،وضو کا طریقہ وغیرہ اور کچھ اسلامی واقعات،پھر اس کے نتائج بھی بتائیے ۔اس
سے بچوں کا دل دین کی طرف جائے گا۔
موبائل دیتے وقت کی کچھ احتیاطیں:
بچوں
کو اگر کچھ وقت موبائل دینا بھی ہو تو اپنی نگرانی میں دیجیے۔موبائل پر وقت مقرر
کر کے دیجیے اور پھر ریمائنڈ (Remind ) بھی کروائیے۔اللہ پاک ہمیں اس کے بے جا استعمال سے محفوظ فرمائے۔آمین
بجاہ النبی الامینﷺ
موبائل کی ایجاد ضرورت کے تحت ہوئی تھی مگر روز بروز اس
کے کثیر استعمال نے اسے انٹرٹینمٹ بنا دیا ہے جس نے نہ صرف بڑوں کی زندگی کو متاثر
کیا ہے بلکہ بچوں کی زندگی پر بھی برا اثر ڈالا ہے۔موبائل کی لت نہ صرف جسمانی صحت کو اثر انداز کرتی ہے بلکہ ذہنی
صحت کو بھی نقصان پہنچاتی ہے تاہم اس کیلئے نہایت ضروری ہے کہ بچپن ہی سے
بچوں کو موبائل سے دور رکھا جائے۔بچوں سے موبائل کی عادت چھڑوانے کیلئے چند باتوں
کو مدّ نظر رکھنا ضروری ہے۔جیسے:
والدین کا ردّعمل:
بچے سننے سے زیادہ دیکھ کر سیکھتے ہیں اور والدین کا عمل ہی ان کیلئے سب سے مؤثر سبق
ہوتا ہے۔بچے اپنے والدین کو جو کرتے ہوئے
دیکھتے ہیں اسے ہی کاپی کرتے ہیں۔اگر والدین کو ہی موبائل کی عادت پڑی ہوئی ہے یا
وہ اپنے بچے کے سامنے موبائل کا کثیر استعمال کرتے ہیں تو بچوں کو اس سے دور رکھنا
اتنا ہی مشکل امر ہے۔
بچوں سے موبائل کو دور رکھنے کا سب سے بہترین ذریعہ یہی
ہے کہ ان کے سامنے اس کا استعمال ترک یا قلیل کردیا جائے۔
والدین کی عدم توجہی :
والدین
کی کثیر مصروفیات کی وجہ سے بچوں کو ملنے والی عدم توجہی بچوں کو ٹائم پاس کیلئے موبائل کا کثیر استعمال
کرنے پر ابھارتی ہے۔والدین بچوں کو اپنا قیمتی وقت نہیں دیتے، انہیں سنتے نہیں ہیں
جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنا وقت سوشل میڈیا پر گزارنے لگتے ہیں اور یوں وہ
موبائل کو اپنا ساتھی بنا لیتے ہیں۔
والدین
کو چاہئے کہ وہ اپنی تمام تر مصروفیات کو مینیج کرتے ہوئے اپنے بچوں کیلئے وقت
ضرور نکالیں،انہیں سنیں،بچوں میں یہ ایقان
پیدا کریں کہ ان کیلئے اوّل ترجیح ان کے والدین ہیں تاکہ وہ موبائل جیسی بیماری سے
بچتے ہوئے احساس کمتری کا شکار نہ ہوں۔
بوریت :
موبائل
کی عادت پڑ جانے کی ایک بڑی وجہ بوریت بھی ہے۔بچے والدین سے بوریت کی شکایت کریں
تو والدین کا ہاتھ سب سے پہلے ایک آلے کی طرف جاتا ہے جو ان کے نزدیک بوریت ختم
کرنے کا بڑا ذریعہ ہے حالانکہ موبائل بوریت کو ختم کرنے کا نہیں بلکہ ذہنی سکون
تباہ کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔
بچوں کی
بوریت کو ختم کرنے کیلئے والدین کو چاہئے کہ وہ انہیں کسی تفریحی مقام پر لے جائیں،کسی
فیزیکل ایکٹیویٹی میں مشغول کردیں،بچے کی
دلچسپی کے مطابق کوئی کتاب پڑھنے کیلئے دے دیں۔مگر موبائل نہ دیں کہ موبائل ان کے
ہاتھ میں دے دینا گویا ان کے ہاتھ میں آگ کا شعلہ دے دینا ہے۔
متبادل دیجیے:
موبائل
کی عادت چھڑوانے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کا کوئی مثبت متبادل پیش کیا جائے ورنہ
بچہ یا بڑا خلا محسوس کرے گا اور دوبارہ موبائل کی طرف رجوع کرے گا۔مثال کے طور پر
بچوں کو اسلامی کہانیاں سنانا،کھلونے،کھیل کود یا تخلیقی سرگرمیاں فراہم کرنا مفید
ہے۔
آہستہ آہستہ جان چھڑوائیے:
بچوں
سے موبائل کی عادت کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ آہستہ آہستہ نرمی کے ساتھ
بچوں سے موبائل کو دور کیا جائے۔ایسا ممکن نہیں کہ ایک ہی کوشش میں بچے موبائل کا
استعمال ترک کردیں بلکہ وقت میں کمی کرکے نرمی کے ساتھ آہستہ آہستہ موبائل سے بچوں
کی جان چھڑوائیے۔
وقت مقرر کیجیے:
یکبارگی
میں موبائل کی عادت کو ختم کرنا کسی صورت ممکن نہیں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ دن میں
بچے کیلئے ایک وقت مقرر کر دیجیے تاکہ وہ اپنے طے شدہ وقت میں ہی موبائل کا
استعمال کرے۔
جیسے
اگر بچہ پہلے دن میں 2 گھنٹے موبائل کا استعمال کرتا تھا اب اسے اپنی نگرانی میں
آدھا گھنٹہ موبائل دیجیے؛ وقت ختم ہونے سے 5 منٹ قبل ہی بچے کو یاد دلا دیجیے کہ 5 منٹ بعد
موبائل لے لیا جائے گا۔اسی طرح آہستہ آہستہ نرمی کے ساتھ موبائل کو دینا بالکل ختم
کر دیجیے۔
مذکورہ
طریقوں کے مطابق عمل کرنے سے ممکن ہے کہ بچہ جلد موبائل کو ترک کر دے۔تاہم اشد
ضروری ہے کہ والدین پہلے خود موبائل کا استعمال قلیل کریں۔بچوں کے سامنے جتنا کم
استعمال کیا جائے اتنا ہی بچے اس سے دور رہیں گے۔اللہ پاک تمام بچوں کو اپنی حفاظت
میں رکھے اور موبائل کی آفات سے چھٹکارا عطا فرمائے۔آمین
بچوں
کی موبائل سے جان کیسے چھڑائیں؟از بنتِ یعفور رضا عطاری۔ای ون جوہر ٹاؤن لاہور
آج کے
ڈیجیٹل دور میں موبائل فون زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔اگرچہ یہ کئی فوائد فراہم کرتا ہے مگر تربیتِ اولاد میں
یہ بات ذہن نشین رکھیے کہ بچوں کو آپ نے سکھانا ہے۔اگر آپ بچوں کو بلا نگرانی بس موبائل پکڑا دیں گے تو یہ چھوٹا سا موبائل
نا سمجھ کے لیے ہلاکت ہے۔بچے صحیح غلط میں فرق کرنے کے لیے چھوٹے ہوتے ہیں اور
موبائل کئی فوائد کے ساتھ کئی آفات کا مجموعہ بھی ہے۔والدین بچوں سے جان چھڑانے اور
ان کو کوئی مصروفیت دینے کے لیے ان کے ہاتھوں میں موبائل تھما دیتے ہیں ۔والدین
کو غور کر لینا چاہیے کہ وہ اپنے بچے کے
ساتھ کیا کررہے ہیں۔
بچوں کو موبائل سے بچانے کے چند طریقے:
٭والدین
کو خود مثال قائم کرنی چاہیے کیونکہ اگر بڑے ہر وقت موبائل استعمال کریں گے تو بچے
بھی وہی عادت اپنائیں گے۔کیونکہ آپ کے بچے آپ کی نصیحتوں سے زیادہ آپ کی اپنی
عادات کو اپناتے ہیں۔
٭بچوں
کو متبادل(ALTERNATE)سرگرمیوں
میں مصروف کیا جائے مثلاً: کتابیں پڑھنا۔اب والدین بچوں میں کم عمری ہی میں کتابوں
کا شوق یوں پیدا کرسکتے ہیں کہ بچوں
کو ان کی صلاحیت کے مطابق کتابوں اور رسائل کے اہداف دیں۔نیز والدین بچوں
کے لیے ایسا شیڈول تیار کر سکتے ہیں جس میں پڑھائی،کھیل،جسمانی سرگرمی اور آرام کا
وقت شامل ہو۔جب بچوں کا وقت مفید کاموں میں گزرتا ہے تو موبائل استعمال کی خواہش
خود بخود کم ہو جاتی ہے نیز اس سے بچوں میں کم عمری سے ہی ایک منظم (ORGANIZED) زندگی گزارنے کی عادت پیدا
ہوتی ہے۔
٭والدین
کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو اپنا وقت دیں،اس سے نہ صرف بچے موبائل سے دور رہیں گے
بلکہ بچوں کے ساتھ والدین کے تعلقات بھی مضبوط ہوں گے۔
٭ مزید
یہ کہ بچوں کو زیادہ موبائل استعمال کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنا بھی ضروری
ہے کہ اس سے نظر کمزور ہوتی ہے،تعلیمی
کارکردگی میں کمی آسکتی ہے،وقت ضائع ہوتا ہے،مزاج اور رویے میں چڑچڑاپن پیدا ہوتا
ہے نیز موبائل کے غلط استعمال سے بری عادات وغیرہ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
رو کنے کا انداز کیسا ہونا چاہیے؟
اگر
والدین حدود مقرر کریں،متبادل سرگرمیاں فراہم کریں،متوازن روٹین بنائیں اور بچوں
کو آگاہ کریں تو وہ صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔والدین کو خیال رکھنا چاہیے کہ بچوں
کو کسی چیز سے روکتے وقت ہمارا انداز کیسا ہونا چاہئے؟ بسا اوقات والدین کا انداز
ایسا ہوتا ہے کہ ان کا صحیح فیصلہ بھی بچوں کو بے جا سختی اور پابندی محسوس ہوتی
ہے۔والدین کا رویہ درست ہونا بہت ضروری ہے۔لہٰذا والدین کو چاہیے کہ صبر اور
مستقل مزاجی سے کام لیتے ہوئے نرمی والا انداز اختیار کریں۔
بچوں
کی موبائل سے جان کیسے چھڑائیں ؟ از بنتِ فاروق،فیضان عائشہ واٹر پمپ کراچی
بچوں کو موبائل سے دور رکھنے کے طریقے:ایک جائزہ :
آج کے
جدید دور میں موبائل فون ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔لیکن جب بچے اس کا
بے تحاشہ استعمال شروع کردیں تو یہ والدین کے لیے ایک پریشان کن صورتحال بن جاتی
ہے۔بچوں کو موبائل کی لت سے بچانا ایک مشکل لیکن ضروری کام ہے۔اس مضمون میں ہم اس
مسئلے کے حل پر غور کریں گی۔
1. والدین کا اپنا رویہ درست کرنا:
بچے جو
دیکھتے ہیں وہی سیکھتے ہیں۔اگر والدین خود ہر وقت فون استعمال کرتے رہیں گے تو بچے
بھی اس کی طرف راغب ہوں گے۔اس لیے بچوں کے سامنے اپنے فون کے استعمال کو محدود کریں
اور انہیں صحت مند عادتوں کی مثال دیجیے۔
2. وقت کا تعین اور حدود مقرر کرنا:
بچوں
کے لیے روزانہ موبائل استعمال کرنے کا ایک مخصوص وقت مقرر کیجیے۔کھانے کے وقت اور
سونے سے پہلے فون کے استعمال کو سختی سے منع کیجیے۔جب یہ قواعد مستقل طور پر نافذ
کیے جائیں گے تو بچے ان کے عادی ہو جائیں گے۔
3.تخلیقی سرگرمیوں کو فروغ دینا:
بچوں
کو مصروف رکھنے کے لیے دوسرے تفریحی اور تخلیقی کاموں کی حوصلہ افزائی کیجیے۔انہیں
آرٹ،کرافٹ،پینٹنگ جیسی سرگرمیوں میں شامل کیجئے۔اس سے ان کی تخلیقی صلاحیتیں بھی
بڑھیں گی اور وہ موبائل سے بھی دور رہیں گے۔
4. گھر سے باہر کی سرگرمیوں کو فروغ دینا:
کھیل
کود بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بہت ضروری ہیں۔انہیں باغ بانی،پالتو
جانوروں کے ساتھ کھیلنے یا پارک لے جانے جیسی سرگرمیوں میں مشغول کیجیے۔ اس سے ان
کی جسمانی سرگرمی بھی بڑھے گی اور موبائل سے توجہ بھی ہٹے گی۔
5. بچوں سے بات چیت اور تعلق بڑھانا:
بچوں
سے بات چیت اور ان کے ساتھ وقت گزارنا بھی اہم ہے۔ان کومستند اسلامی کہانیاں سنائیے
یا پڑھنے کی عادت ڈالیے۔جب بچے اپنے والدین کے ساتھ وقت گزارنے سے لطف اندوز ہوں
گے تو موبائل کا استعمال خود ہی کم ہو جائے گا۔
6. ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال:
موبائل
کو صرف تفریح کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اس کے تعلیمی فوائد بھی بتائیے۔بچوں کو
تعلیمی ایپس اور معلوماتی پروگرامز سے متعارف کروائیے تاکہ وہ اسے ایک مفید آلے کے
طور پر دیکھ سکیں۔
خلاصہ:
بچوں
کو موبائل کی لت سے نجات دلانا کوئی آسان کام نہیں۔لیکن والدین کی مستقل کوششوں،تخلیقی
سرگرمیوں اور باہمی تعلقات کی مضبوطی سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ صرف
موبائل سے دور رکھنے کا معاملہ نہیں بلکہ ان کی مجموعی صحت اور بہترین مستقبل کے لیے
ایک اہم قدم ہے۔
بچوں
کی موبائل سے جان کیسےچھڑوائیں ؟ از بنتِ عمران حسین،فیضان رضا سرجانی ٹاؤن کراچی
آج کے
دور میں موبائل فون زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی اس کے
عادی ہو گئے ہیں۔تعلیم،نیند،صحت اور تعلقات پر اس کے منفی اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔بعض
اوقات بچے اپنے والدین اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے اسکرین پر گھنٹوں ضائع
کرتے ہیں۔یہ صورتحال والدین کے لیے فکر کا باعث ہے۔اسلام ہمیں اس معاملے میں بھی راہ
نمائی دیتا ہے کہ اولاد کی تربیت اور ان کی حفاظت والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری
ہے۔اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا(پ،التحریم:
6)ترجمہ:اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے
بچاؤ ۔
اسی
طرح نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ
رَعِيَّتِهٖ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی
رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
(مسلم،ص1016، حديث:1826)
یہ آیات
و احادیث واضح کرتی ہیں کہ والدین بچوں کی تربیت کے ذمہ دار ہیں اور انہیں وقت کے
فتنوں سے بچانا بھی ان ہی کے ذمے ہے۔موبائل کی غیر ضروری لت بھی ایسا ہی ایک فتنہ
ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
عملی اقدامات
1. رول ماڈل بنیے:
بچے
اپنے والدین کی پیروی کرتے ہیں۔اگر والدین خود ضرورت سے زیادہ موبائل استعمال کریں
تو بچے بھی یہی رویہ اپناتے ہیں۔اس لیے سب سے پہلے والدین کو اپنی عادتیں درست کرنی
چاہئیں۔گھر میں نو فون زون بنائیے جیسے کھانے کے اوقات یا نماز کے بعد۔اس سے بچے
خود بخود توازن سیکھیں گے۔
2. واضح قواعد بنائیے:
بچوں
کے لیے موبائل کے اوقات اور حدود طے کیجیے مثال کے طور پر اسکول کے بعد صرف ایک
گھنٹہ۔رات کے وقت موبائل کمرے میں نہ دینے کی عادت ڈالیے۔جب بچے قواعد توڑیں تو
نرمی مگر مستقل مزاجی سے انہیں سمجھائیے۔
3. متبادل سرگرمیاں فراہم کیجیے:
بچوں
کو کھیل کود،کھیلوں کے مقابلے،کتابوں کی کہانیاں،اسلامی کہانیاں اور قرآن کی تلاوت
کی طرف مائل کیجئے۔حضور ﷺ نے فرمایا:الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ،خَيْرٌ
وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ طاقتور
مومن بہتر ہے اور وہ کمزور مومن سے زیادہ
اللہ پاک کی بارگاہ میں پسندیدہ ہے۔(مسلم،ص1432 ،حدیث:2664)
یہ
طاقت جسمانی کھیلوں اور صحت مند سرگرمیوں سے ہی حاصل ہوتی ہے نہ کہ اسکرین کے
سامنے بیٹھنے سے۔
4.ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال:
والدین
parental controls۔screen time سیٹنگز اور تعلیمی ایپس کا استعمال کریں
تاکہ موبائل صرف مثبت مقاصد کے لیے استعمال ہو۔
5. محبت اور حکمت سے سمجھائیے:
بچوں
کو موبائل کے نقصانات صرف ڈانٹ کر نہیں بلکہ پیار اور حکمت سے بتائیے۔ انہیں یہ
سمجھائیے کہ وقت اللہ پاک کی نعمت ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ:الصِّحَّةُ
وَالفَرَاغدو
نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر دھوکے میں ہیں:ایک صحت دوسری فراغت۔(بخاری، 4/222،
حدیث:6412)
6. انعام و جزا کا نظام اپنائیے:
جب بچے
موبائل کو محدود وقت کے لیے استعمال کریں تو ان کی تعریف کریں یا چھوٹا سا انعام دیجیے۔یہ
مثبت رویہ انہیں مزید محنت پر آمادہ کرے گا۔
7. دعاؤں اور تربیتی محافل کا سہارا لیجیے:
والدین
اپنی اولاد کی ہدایت اور حفاظت کے لیے دعا کیجیے۔بچوں کو دینی اجتماعات یا مسجد کے
پروگرامز میں شامل کروائیے تاکہ ان کا رجحان دینی ماحول کی طرف بڑھے۔
ان
تمام باتوں کا خلاصئہ کلام یہ ہےکہ اسلامی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ اولاد
اللہ پاک کی امانت ہے۔والدین پر لازم ہے کہ وہ اس امانت کی حفاظت کریں اور انہیں
دنیاوی اور دینی لحاظ سے بہترین راہ دکھائیں۔موبائل فون کا صحیح استعمال فائدہ مند
ہے لیکن اس کی لت بچوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔والدین اگر رول ماڈل بنیں،واضح حدود
مقرر کریں،مثبت سرگرمیاں فراہم کریں اور دعا و صبر کے ساتھ حکمت سے بچوں کی راہ نمائی
کریں تو یقیناً بچے موبائل کی غیر ضروری عادت سے چھٹکارا پا سکتے ہیں اور ایک
متوازن اسلامی زندگی گزار سکتے ہیں۔
بچوں
کی موبائل فون سے جان کیسے چھڑوائیں؟ از بنتِ عبدالوسیم بیگ،فیض مدینہ نارتھ کراچی
موبائل
فون کا کثرتِ استعمال ہمارے معاشرے کا ایک اہم مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ نوجوان بچے بڑے سب ہی اس میں ملوث اور یہ عادت انسان کی زندگی کو بری طرح متاثر
کر رہی ہے۔
جہاں
تک بات رہی بچوں کی تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کی موبائل سے کیسے
جان چھڑائیں ؟ جب کہ یہ عادت ان کی نشو
نما اورقوت ِمدافعت ہر چیز تباہ کر رہی ہے۔ بچوں کو موبائل سے کیسے دور رکھا جائے اس ضمن میں چند طریقے مندرجہ ذیل
ہیں:
کھیلوں کی ترغیب دیجیے:
بچے
اگر کھیلیں گے تو ان کی دماغی نشوونما میں اضافہ ہوگا۔کوشش کیجیے کہ بچوں کو پارک
میں لے جائیے یا وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل سکیں تاکہ بچوں کے درمیان اچھے
تعلقات بن سکیں۔یہ سرگرمی بھی بچوں کی مہارت میں اضافہ کرے گی۔
روڈ ٹِرپ پر جانے کا پلان بنائیے:
کوشش کیجیے
کہ ہفتے میں ایک بار ضرور کسی جگہ گھومنے جائیے۔خاص طور پر کہیں گھومنے کا پلان
بنائیں تو اپنے بچوں کی رائے لینا ہر گز مت بھولیے۔اس طرح بچے موبائل فون سے دور
رہیں گے اور فیملی کے ساتھ وقت گزار سکیں گے۔
پڑھنے کی عادت ڈالیے:
اب
ضروری نہیں کہ تمام سرگرمیاں گھر سے باہر ہوں۔گھر کے اندر بھی آپ بہت کچھ کرسکتی
ہیں۔جیسا کہ بچوں کے اسکول کی چھٹیوں کے دوران آپ انہیں کتابوں کی فہرست اور انہیں
پڑھنے کا ذہن دیجیے تاکہ موبائل سے دور رہ سکیں ۔
گھر کے کاموں میں
مدد کرنا بھی بچوں کی نشوونما میں بہتری لا سکتا ہے۔ گھر کے کاموں کی فہرست بنائیے،مثال کے طور پر
بستر ٹھیک کرنا،کمرے کی چیزیں اپنی جگہ پر رکھنا وغیرہ شامل ہیں۔اس طرح آپ اپنا
بھی وقت بچا سکیں گی اور بچے کے اندر ذمہ داری کا احساس بھی پیدا ہوگا اور ان کا
موبائل کی طرف ذہن کم سے کم جائے گا ۔
انعام:
موبائل کے کم سے کم استعمال کرنے پر انعام رکھیے
جس سے موبائل فون کے کم استعمال کی کوشش ہوگی اور ایک وقت میں آکر مکمل کامیابی
حاصل ہو جائے گی۔
وقت معین کیجیے:
وقت
متعین کرنے کے بعد ضروری ہے کہ والدین بچوں پر نظر رکھیں اور ساتھ ہی خود بھی
موبائل فونز استعمال کرنے کی ایک حد مقرر کر لیں۔جب گھر کے تمام لوگ ایک ہی اصول
پر چلیں گے تو ایسے اس عادت پر قابو پانا آسان ہو جاتا ہے۔
اس کے
علاوہ اور بھی بہت سے طریقے ہیں جنہیں ہم حکمتِ عملی سے اپنا کر محبت کے ساتھ اپنے
بچوں کو موبائل سے دُور کر سکتی ہیں تاکہ ان کی صحت اور نشوونما متاثر نہ ہو۔
اللہ
پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کی بہترین انداز سے تربیت کرنے کی توفیق مرحمت
فرمائے۔
آج کے
دور میں موبائل فون جہاں دینی معاملات میں معاون ہے وہیں ایک
فتنہ بھی ہے۔ایک دور تھا جب گھر کے صرف ایک فرد کے پاس موبائل ہوتا تھا لیکن آج
موبائل گھر کے ہر ہر فرد کے ہاتھوں کی زینت بنا ہوا ہے۔بڑے تو بڑے بچوں کی بھی
موبائل فون میں دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے اور یہ بچوں کی اخلاقی،ذہنی،جسمانی اور
روحانی زندگی پر نہایت منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کل کے دور کا
سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ہم اپنی اولاد کو موبائل کے قید خانے سے کیسے آزاد کریں
؟ذیل میں چند طریقے بیان کیے جا رہے ہیں جس سے بچوں کو موبائل فون سے کافی حد تک
دور رکھا جا سکتا ہے:
متبادل فراہم کیجئے:
اولاد
کو محض موبائل سے روک دینا کافی نہیں ہے بلکہ انہیں کچھ مثبت مشاغل دینا بھی ضروری
ہیں۔جیسے:دینی کہانیاں سنانا ،کھیلوں اور جسمانی سرگرمیوں میں شریک کروانا، خاندان
کے ساتھ وقت گزارنا،اچھی کتابوں کی عادت ڈالنا وغیرہ۔
اپنا کردار مثالی بنائیے:
والدین
کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود بھی موبائل کا استعمال کم سے کم کریں کیونکہ اگر والدین
خود ہر وقت موبائل استعمال کرتے رہیں گے تو بچوں کو روکنا مشکل ہوجائے گا۔
وقت کی قدر سکھائیے:
اپنے
بچوں کو وقت کی قدر سکھائیےکہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے
کہ حضور نبی کریم،رؤف رحیم ﷺ نے اِرشاد فرمایا: تندرستی اورفراغت دو نعمتیں ایسی ہیں
کہ اکثر لوگ اُن کی وجہ سے خسارہ اٹھاتے ہیں
یا ان سے دھوکا کھاتے ہیں۔ (بخاری،4/222،حدیث:6412)لہٰذا ان کے ذہن میں یہ بات راسخ
کر دیں کہ اگر بچپن کا وقت ضائع ہو گیا تو مستقبل میں پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہ
آئے گا۔
دین سے جوڑیے:
بچوں
کو نماز،قرآن،اذکار اور دینی محافل سے جوڑیے،جب بچوں کے صاف ستھرے دل اللہ پاک کی یاد
سے آباد اور منور ہوں گے تو فضول مشاغل خود بخود کم ہو جائیں گے۔
بچوں سے اپنا تعلق مضبوط کریے:
شام یا
رات کو گھر میں اجتماعی بیٹھک،گپ شپ اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا ماحول بنائیے،دوستانہ
انداز میں بچوں سے اُن کی دن بھر کی مصروفیات کے متعلق پوچھیے اور وقتاً فوقتاً
حکمتِ عملی سے اُن کی اصلاح کیجیے۔
بچوں
کی موبائل سے جان کیسے چھڑائیں؟ از بنتِ محمد نواز،فیضان عائشہ صدیقہ مظفرپورہ
سیالکوٹ
موبائل
فون آج کی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔لیکن جب یہی ٹیکنالوجی بچوں کے ہاتھ میں بغیر
حدود کے آ جائے تو یہ علم و تربیت کے بجائے غفلت،ذہنی الجھن،جسمانی بیماریوں اور دینی
دوری کا سبب بن جاتی ہے۔والدین کی سب سے عام شکایت ہے کہ ہمارا
بچہ بس موبائل میں گم رہتا ہے،نماز نہیں پڑھتا،پڑھائی نہیں کرتا،بات نہیں سنتا!
تو اب
سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو موبائل کی لت سے کیسے نکالیں ؟
موبائل کے نقصانات بچوں پر:
ذہنی توجہ میں کمی،چڑچڑاپن،بے صبری،جسمانی اور آنکھوں
کی کمزوری،نیند کی خرابی،جسمانی سستی،تعلیمی پڑھائی میں عدم دلچسپی،نمبر کم آنا،اخلاقی
بد زبانی،ضد، والدین کی نافرمانی،نماز سے غفلت،دین سے دوری اور وقت کا ضیاع
اسلام کی نظر میں وقت
اور تربیت
1. وقت کی اہمیت
وَ الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ
خُسْرٍۙ(۲) (پ30،
العصر:2،1)ترجمہ:اس زمانۂِ محبوب کی قسم بے شک آدمی ضرور نقصان میں ہے۔
موبائل پر گھنٹوں لگانا درحقیقت
وقت کا زیاں ہے۔
2. والدین پر تربیت کی ذمہ داری:
كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ
رَعِيَّتِهٖ
ترجمہ:تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اُس کی رعیت کے بارے میں پوچھا
جائے گا۔(مسلم،ص1016، حديث:1829)
بچوں کو موبائل کی لت
سے نکالنے کے 10 مفید طریقے
1.خود والدین کی اصلاح کریں:
اگر
والدین خود دن بھر موبائل میں مصروف ہوں تو بچے بھی ویسے ہی کریں گے۔
بچوں
کے سامنے موبائل استعمال محدود کردیجیے۔
2. باقاعدہ روٹین بنائیے:
موبائل
استعمال کے لیے روزانہ ایک خاص وقت مقرر کیجیےمثلاً: 30 منٹ۔
نو
موبائل زونز جیسے:کھانے کی میز،نماز کا وقت،سونے سے پہلے طے کیجئے۔
3. متبادل مصروفیات دیجیے:
بچوں
کو کھیلنے،پڑھنے،مصوری،کہانیاں سننے،سیر پر جانے یا کسی ہنر سیکھنے میں لگائیے۔
بچوں
کو جسمانی کھیل کی طرف مائل کیجیےمثلاً: سائیکل،پارک وغیرہ۔
4. اسلامی کہانیاں اور قصے
سنائیے:
بچوں
کو صحابہ کرام،انبیائے کرام اور اسلامی اخلاقیات کی کہانیاں سنائیے۔
آڈیو یا
ویڈیو کے بجائے زبانی یا تصویری کتابوں سے تعلق جوڑیے۔
5. دوستی کیجیےصرف ڈانٹ نہیں:
بچے جب
بات نہیں سنتے تو اکثر والدین فوراً غصے میں آ جاتے ہیں۔حالانکہ محبت،بات چیت اور
سمجھانے کا انداز زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
6. غیر ضروری موبائل چھیننے کے بجائے تدریجاً کم کیجیے:
اچانک
موبائل لینا ردعمل پیدا کرتا ہے۔بتدریجاً وقت کم کیجیے:مثلاً: 2 گھنٹے،1 گھنٹہ، 30 منٹ۔
7. مذہبی شعور دیجیے:
بچوں
کو نماز،قرآن،نعت،اذان اور دینی اخلاقیات سے جوڑیے۔موبائل پر اسلامی ایپس کے ذریعے
تعلیمی مواد سکھائیے لیکن محدود وقت کے لیے۔
8. ریوارڈ سسٹم بنائیے:
اگر
بچہ دن بھر موبائل سے دور رہا،نماز پڑھی یا کوئی اچھا کام کیا تو انعام دیجیے
مثلاً: کتاب،گھومنے لے جانا اورپسندیدہ کھانا کھلانا وغیرہ۔
9. خاندانی وقت کو ترجیح دیجیے:
روزانہ
گھر میں 30 منٹ کا خاندانی وقت رکھیں جہاں سب موبائل بند رکھیں۔اس دوران بات چیت یا اجتماعی عبادت کریں۔
10. غیر محفوظ مواد کے خلاف اقدامات:
والدین
بچوں کے موبائل پر پیرنٹل کنٹرول لگائیں۔غیر اخلاقی گیمز،ایپس اور سوشل میڈیا تک
رسائی کو محدود کریں۔
یاد
رکھیے!موبائل برا نہیں۔اس کا بے قابو استعمال برا ہے۔اللہ پاک ہمیں موبائل کے بے
جا استعمال سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
بچوں
کی موبائل فون سے جان کیسے چھڑائیں ؟ از
بنتِ عاشق،فیضان عائشہ صدیقہ مظفرپورہ سیالکوٹ
آج کے
دور میں موبائل فون ہر گھر کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔جہاں یہ ٹیکنالوجی دنیا کو قریب
لانے اور معلومات کو بآسانی حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے وہیں بچوں میں اس کا حد سے
زیادہ استعمال کئی مسائل کو جنم دیتا ہے۔موبائل فون کے سامنے گھنٹوں بیٹھنے سے
بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔پڑھائی میں توجہ کم ہو جاتی ہے اور
سماجی تعلقات کمزور ہو جاتے ہیں۔اسی لیے ضروری ہے کہ والدین اور اساتذہ بچوں کو
موبائل کے نقصان سمجھائیں اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔
سب سے
پہلا قدم والدین کا اپنا رویہ درست کرنا ہے۔بچے ہمیشہ بڑوں کی نقل کرتے ہیں۔اگر
والدین خود کھانے کے دوران اور گفتگو کے وقت یا سونے سے پہلے موبائل استعمال کریں
گے تو بچے بھی یہی عادت اپنائیں گے۔اس لیے ضروری ہے کہ والدین ایک مثبت مثال قائم
کریں اور موبائل فون کے استعمال کے لیے واضح اصول طے کریں۔گھر میں ایک اسکرین ٹائم
رول بنائیں جس کے تحت بچے صرف مخصوص اوقات میں موبائل استعمال کر سکیں۔مثال کے طور
پر ہوم ورک مکمل کرنے کے بعد آدھا یا ایک گھنٹہ موبائل گیمز یا کارٹون کے لیے مختص
کیا جا سکتا ہے۔
دوسرا
قدم بچوں کی توجہ مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی طرف موڑنا ہے۔اگر بچے فارغ بیٹھے رہیں
تو لازمی طور پر موبائل کی طرف راغب ہوں گے۔انہیں کھیلوں میں حصہ لینے،کتابیں
پڑھنے،ڈرائنگ بنانے،سائیکلنگ اور آؤٹ ڈور سرگرمیوں کی طرف مائل کیجیے۔والدین اگر
خود بچوں کے ساتھ یہ سرگرمیاں کریں تو بچے زیادہ خوشی سے شامل ہوں گے۔
تیسرا
اہم نقطہ بچوں کو موبائل کے نقصانات سمجھانا ہے۔لیکن سختی یا ڈانٹ ڈپٹ سے نہیں
بلکہ دوستانہ انداز میں۔انہیں بتائیے کہ زیادہ موبائل استعمال کرنے سے آنکھوں پر
دباؤ بڑھتا ہے،نیند خراب ہوتی ہے،پڑھائی متاثر ہوتی ہے اور دماغ بھی سست ہو جاتا
ہے۔ جب بچے یہ باتیں سمجھیں گے تو خود بھی موبائل کم استعمال کرنے کی کوشش کریں
گے۔
اس کے
ساتھ ساتھ بچوں کے لیے متبادل تفریح فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔کہانیاں سنانا،تعلیمی
گیمز،پزلز اور ہنر سکھانے والی سرگرمیاں بچوں کو مصروف رکھ سکتی ہیں۔ کھانے کے
اوقات اور سونے سے پہلے موبائل فون کا استعمال بالکل بند کر دینا چاہیے تاکہ یہ
وقت فیملی کے ساتھ بات چیت اور آرام کے لیے مختص رہے۔
آخر میں
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ موبائل فون کوئی دشمن نہیں بلکہ ایک سہولت ہے۔لیکن اس کا صحیح
اور متوازن استعمال ہی بچوں کی کامیابی اور صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔اگر والدین
صبر اور مستقل مزاجی کے ساتھ یہ اقدامات کریں تو بچے آہستہ آہستہ موبائل فون سے غیر
ضروری لگاؤ ختم کر دیں گے اور اپنی زندگی کے دوسرے پہلوؤں میں بہتر کارکردگی دکھائیں
گے۔
بچوں
کی موبائل سے جان کیسے چھڑوائیں؟از بنتِ فیاض احمد،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
آج کے
دور میں موبائل بچوں کے لیے تفریح،گیمز اور سوشل میڈیا کا ذریعہ بن گیا ہے۔لیکن اس
کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں۔جیسے وقت کا ضیاع،آنکھوں کی کمزوری،اخلاقی بگاڑ اور
تعلیمی نقصان۔اسلام میں بھی ایسے کاموں سے بچنے کی تاکید ہے جو وقت ضائع کریں اور
اخلاقیات کو نقصان پہنچائیں۔
قرآن میں
ارشاد ہے:اِنَّ السَّمْعَ وَ
الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (۳۶)(پ15،بنی
اسرائیل:36)ترجمہ:بےشک
کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔
اس سے
معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنی آنکھوں اور کانوں کو غلط استعمال سے بچائیں۔
نبی کریم
ﷺ نے فرمایا:دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سے لوگ نقصان میں ہیں: صحت اور فراغت۔(بخاری،4/222،حدیث:6412)
موبائل
کا غلط استعمال فراغت کے ضیاع کی بڑی وجہ ہے۔
بچوں کو موبائل سے
بچانے کے عملی طریقے
1:والدین کی نگرانی اور رول ماڈل بننا:
والدین
خود موبائل کا محدود استعمال کریں تاکہ بچے ان کی تقلید کریں۔
2:مصروفیات کے مثبت ذرائع فراہم کیجیے:
کھیل،مطالعہ،ہنر
سکھانے اور دینی سرگرمیوں میں بچوں کو
شامل کیجیے۔
3:موبائل کے اوقات مقرر کیجیے:
بچوں
کے لیے موبائل کا ایک خاص وقت طے کیجیے اور اس پر سختی سے عمل کروائیے۔
4:اسلامی تربیت:
بچوں
کو بتائیے کہ وقت اللہ پاک کی نعمت ہے۔اسے
ضائع کرنا گناہ ہے۔
5:فیملی ٹائم کو فروغ دیجیے:
گھر میں
اجتماعی سرگرمیاں رکھیے تاکہ بچوں کو موبائل کی کمی محسوس نہ ہو۔
وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ
مُعْرِضُوْنَۙ(۳)(پ18،المؤمنون:3)ترجمہ:اور
وہ جو فضول بات سے منہ پھیرنے والے ہیں۔
موبائل
کے بے جا استعمال سے بچنا اسی میں شامل ہے۔
والدین
کو چاہیے کہ وہ بچوں کی تربیت میں مثبت ماحول فراہم کریں،موبائل کے نقصانات بتائیں
اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ان کی عادات درست کریں۔یاد رکھیے! اگر ہم نے بچوں کو
موبائل کے فتنے سے نہ بچایا تو یہ ان کی دنیا اور آخرت دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
بچوں
کی موبائل سے کیسے جان چھڑائیں ؟ از ہمشیرہ عمر جٹ،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ
سیالکوٹ
موبائل
کا حد سے زیادہ استعمال آج کے زمانے کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔بچے گھنٹوں گیمز اور
سوشل میڈیا میں لگے رہتے ہیں جس سے نہ صرف ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے بلکہ صحت،اخلاق
اور دینی ذوق بھی برباد ہو رہا ہے۔اللہ پاک نے انسان کو بہترین مقصد کے لیے پیدا
فرمایا ہے نہ کہ فضول مشاغل میں عمر ضائع کرنے کے لیے۔قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:اَفَحَسِبْتُمْ
اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا (پ18،المؤمنون:115)ترجمہ:
تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا۔
بچوں
کو موبائل کا عادی بنانا ان کی زندگی کو مقصد سے ہٹانا ہے۔
موبائل کے نقصانات
1:تعلیم
میں کمزوری
2:نماز
اور دینی فرائض میں غفلت
3:
آنکھوں اور صحت کے مسائل
4:وقت کا ضیاع اور والدین سے دوری
بچوں کو بچانے کے
اسلامی طریقے
1: نیک صحبت دینا:
اولیائےکرام
فرماتے ہیں:صحبت انسان کو بنانے یا بگاڑنے میں سب سے بڑا کردار ادا کرتی ہے۔بچوں
کو نیک دوست،مدرسہ اور مسجد کی صحبت ملے تو وہ موبائل سے دور رہیں گے۔
2: اسلامی قصے اور واقعات سنانا:
والدین
اپنے بچوں کو صحابہ کرام اور بزرگانِ دین کی کہانیاں سنائیں تاکہ ان کے دل میں نیکی
کا شوق پیدا ہو۔
3:وقت مقرر کرنا:
بچوں
کے لیے نماز،تعلیم اور کھیل کے لیے وقت مقرر کیا جائے تاکہ ان کے پاس موبائل کے لیے
وقت نہ بچے۔
4:والدین کا نمونہ بننا:
اگر
والدین خود موبائل میں ڈوبے رہیں گے تو بچے کیسے بچیں گے؟ والدین جب خود قرآن کی
تلاوت اور ذکر و اذکار میں وقت گزاریں گے تو بچے بھی ویسے ہی عمل کریں گے۔
لہٰذا
بچوں کو سکھانا ضروری ہے کہ موبائل کا فضول استعمال ایمان کے لائق نہیں۔
رسولِ
کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:آدمی کی
اسلام کی خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ کام چھوڑ دے جو اسے نفع نہ دے۔(ترمذی،4/
142،حدیث 2324)
بچوں کو موبائل فون سے بچانے کے لیے:
بچوں
کو موبائل فون کی عادت سے بچانے کے لیے سب سے پہلے گھر میں اصول بنائیے کہ کھانے،سونے
اور پڑھائی کے اوقات میں موبائل فون استعمال نہیں ہو گا۔موبائل فون بیڈ روم کے
بجائے مشترکہ جگہ پر رکھیےتاکہ بچے اس پر قابو نہ پا سکیں۔والدین کو چاہیے کہ بچوں
کو نیک مشغلے میں لگائیں تاکہ برے مشغلے کی طرف ان کا میلان نہ ہو۔
والدین کے لیے نصیحت :
بچوں
کو موبائل سے نجات دلانا ایک مشکل نہیں بلکہ ممکن کام ہے۔بشرطیکہ والدین صبر،محبت اور
حکمت کے ساتھ تربیت کریں۔اسلام نے ہر حال میں میانہ روی اور فضولیات سے بچنے کی
تعلیم دی ہے۔
دعا:
اے اللہ!ہمیں
اور ہماری نسلوں کو موبائل اور ہر فضول مشغلے کے شر سے بچا اور اپنی عبادت اور نیک
اعمال میں مشغول فرما۔آمین
بچوں
کی موبائل سے جان کیسے چھڑائیں ؟ از بنتِ اشفاق احمد،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ
سیالکوٹ
آج کے
دور میں موبائل فون ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔یہ نعمت ہے اگر صحیح
استعمال ہو۔لیکن یہی موبائل بچوں کے لیے ایک بڑی آزمائش اور نقصان کا سبب بھی بن
رہا ہے۔بچے تعلیم سے غافل،عبادت سے دور،والدین سے بے پروا اور کھیلوں سے کٹ کر
ورچوئل دنیا میں کھو جاتے ہیں۔اسلام نے ہمیشہ وقت کی قدر کرنے اور فضول مشاغل سے
بچنے کی تلقین کی ہے۔اللہ پاک کا فرمان ہے:وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ
مُعْرِضُوْنَۙ(۳)(پ18،المؤمنون:3)ترجمہ:اور
وہ جو فضول بات سے منہ پھیرنے والے ہیں۔
موبائل
کا بے جا استعمال بھی لغو اور بے ہودہ چیزوں میں شامل ہے جس سے ایمان والوں
کو بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔حضور نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِترجمہ:آدمی
کے اسلام کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ فضول کاموں کو چھوڑ دے۔(ترمذی،4/142،حدیث: 2334)
بچوں کو موبائل سے
بچانے کے طریقے
1. صحیح مصروفیات مہیا کرنا:بچے جب فارغ ہوں تو موبائل کی
طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔لہٰذا والدین ان کے لیے سچی اسلامی کہانیاں،تلاوت،نعتیں
اور مفید کھیل مہیا کریں۔
2. محبت سے سمجھانا:
سختی
سے پیش آنے کی بجائے پیار بھرے انداز میں ان کو سمجھایا جائے کہ موبائل کا بے جا
استعمال وقت اور صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
3. اچھے ماحول کا انتظام:
اگر
بچے مسجد،مدرسہ یا دینی ماحول سے وابستہ ہوں تو وہ خود بخود فضول مشغولیات سے دور
ہو جاتے ہیں۔
4. کردار سازی:
حضور ﷺ
نے بچوں کو نماز سکھانے اور اچھی عادات اپنانے کا حکم فرمایا۔جب والدین خود موبائل
کے غلام نہ ہوں گے تو بچے بھی ان کی پیروی کریں گے۔
موبائل فون کی تباہ کاریاں اور ان کا حل:
ہمارے
بچے آج کل کارٹونز اور موویز کے عادی ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے بچوں کے رول
ماڈل اور پسندیدہ لوگ بھی کارٹونز ہیں۔
بچوں
کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ بچوں میں گناہ اور حرام کی
تمیز ہی ختم ہوتی جارہی ہے اور دین سے دوری کے کچے ذہنوں کو تباہ وبرباد کر رہی ہے۔بچوں
کو اگر سکرین کے ذریعے اخلاقی تربیت دینی ہے تو اس کے لیے بچوں کا مدنی چینل اور
اس پر نشر ہونے والے کارٹونز بہت مفید ہیں جن میں بچوں کی اخلاقی تربیت بھی ہے اور
بچے کا اسکرین ٹائم کا شوق بھی پورا ہو جاتا ہے۔
سب سے
اہم بات یہ ہے کہ آپ خود ان کے لیے وقت نکالیں کیونکہ جو وقت آپ دیں گے اس کی جگہ
کوئی اور چیز نہیں لے سکتی۔
بچوں کی اصلاح کا طریقہ:
بچوں کی
اصلاح صرف موبائل چھیننے سے نہیں بلکہ ان کی تربیت،محبت اور صحیح ماحول دینے سے
ممکن ہے۔اسلام نے وقت کے بہترین استعمال کا درس دیا ہے۔اگر والدین اس ذمہ داری کو
سمجھیں تو ان کے بچے دین و دنیا میں کامیاب رہیں گے۔
دعا:
اے
اللہ پاک! ہمارے بچوں کو موبائل کے فتنے سے محفوظ فرما اور انہیں علمِ دین،نماز
اور نیک اعمال کی محبت عطا فرما۔آمین
Dawateislami