آپ سب یہ تحریر پڑھنے لگی ہیں یعنی آپ اپنے بچوں کو ٹھیک کرنا چاہتی ہیں۔آپ چاہتی ہیں کہ آپ کے بچے موبائل چھوڑ دیں تو ماشاء اللہ یہ بہت اچھا قدم ہے۔اللہ پاک ہمارے بچوں کی حفاظت فرمائے ۔آمین

بچہ موئل ایک دن میں نہیں چھوڑ دے گا جس طرح اس کو عادت بننے میں وقت لگا ہے اسی طرح اس کو ختم کرنے میں بھی وقت لگے گا۔جیسے اگر آپ کا بچہ 2 گھنٹے موبائل دیکھتا ہے تو روزانہ کی تھوڑی سی مقدار میں اس کو کم کیجئے۔روزانہ کا 3 منٹ کم کر لیجیے۔اس کام کو آہستہ آہستہ کیجیے۔اگر ایک ہی دن میں کر دیں گی تو تھوڑے دونوں بعد آپ دیکھے گی کہ پھر سے وہی موبائل دیکھنے کی عادت بن رہی ہے۔

بچوں کے موبائل استعمال کرنے کی وجوہات مع علاج:

1-بچوں کی کوئی سرگرمی(Activity) نا ہو یا سرگرمیاں ہوں تو سہی لیکن بہت کم ہوں یا بچہ سرگرمیاں بھی زیادہ کرتا ہے لیکن موبائل بھی دیکھتا ہے۔بچوں کو ہر وقت کرنے کیلئے کوئی کام چاہیے ہوتا ہے۔جب انہیں کچھ اور نہیں ملے گا تووہ موبائل دیکھیں گے۔

2-جب بچوں کو وقت نا دیا جائے تو بچے موبائل دیکھتے ہیں۔ان کی توجہ موبائل کی طرف ہو جاتی ہے۔آپ اپنے بچوں کیساتھ باتیں کیجیے، چند سرگرمیاں ان کے ساتھ مل کر کیجیے،سرگرمیوں کو دلچسپ بنائیے اور مسلسل کیجیے۔اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کے بچے موبائل کو مسلسل چھوڑیں تو آپ کو بھی ان کے ساتھ مسلسل محنت کرنی ہوگی۔

3-گھر میں بڑے موبائل استعمال کرتے ہوں تو پھر بچہ جو دیکھے گا وہی کرے گا ۔آپ اگر اپنا موبائل کا وقت کم کر دیں اور بچے کے سامنے نا چلائیں تو وہ بھی یوز نہیں کرے گا۔ یہ تبدیلی ایک یا دو دن میں نہیں آئے گی۔جب آپ کا بچہ آپ کو مسلسل ایسا کرتے دیکھے گا کہ آپ موبائل استعمال نہیں کر رہیں تو وہ بھی نہیں کرے گا ۔پہلے کچھ دن یا شاید ہفتے وہ نا چھوڑے۔لیکن جب آپ استقامت اختیار کریں گی تو ان شاء اللہ وہ بھی تھوڑا کم کر دے گا۔

5-بعض بچے ضد کی وجہ سے بھی موبائل دیکھتے ہیں جیسے آپ اگر بہت ڈانٹتی ہیں اور اس کو برا بھلا کہتی ہیں تو وہ ضد کرے گا کہ اب تو میں ضرور موبائل دیکھو گا۔

آپ کا انداز نرم مگر تھوڑا حق والا ہونا چاہیے۔کتنا نرم؟ جتنا خاص مہمانوں کیساتھ ہوتا ہے اور کب تک نرم لہجے میں روکیں گی؟ایک دن؟دو دن؟دس دن؟ایک مہینا؟جی نہیں !بلکہ مسلسل استقامت کے ساتھ۔اگر نہیں مان رہا تو تھوڑا سا ناراض ہو جائیے لیکن برا بھلا نا کہیے۔ایسے توبچہ ڈھیٹ بنے گا یا پھر ڈرپوک۔اللہ پاک ہمیں تمام قسم کے فتنوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العلمین بجاہِ خاتمِ النبیینﷺ


جہاں موبائل فون دورِ حاضر کی اہم ضروریات ہے وہاں اس کے استعمال میں فوائد و نقصان کو مدِّ نظر رکھنا بے حد ضروری ہے۔موبائل فون کا غلط استعمال یا ضرورت سے زیادہ استعمال نہ قابلِ تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ایک ریسرچ کے مطابق بچے موبائل کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ دو ہزار بچے دن میں کم از کم چار گھنٹے موبائل فون کا استعمال ضرور کرتے ہیں۔بچوں کی یہ بری عادت دور کرنے کے لیے درج ذیل وجوہات پر غور کرنا چاہیے۔

بچوں کو موبائل فون دینے کی وجوہات پر غور کیجیے:

ان وجوہات پر تحقیق کرنے سے سامنے آتا ہے کہ والدین اپنے کام کاج میں مصروفیت کے باعث اور بچوں کی بوریت دور کرنے کے لیے بچوں کو کھیلوں اور دیگر سرگرمیوں میں مصروف کرنے کی بجائے موبائل فون جیسا زہر تھما دیتے ہیں جسے ماہرین نے ڈیجیٹل زہر کا نام بھی دیا ہے۔

گھر کا ماحول:

گھر کے ماحول،رہن سہن وغیرہ پر خاص توجہ دیجئے کہ کہیں گھر کا ماحول بچے میں چڑچڑا پن اور ذہنی دباؤ کا باعث تو نہیں بن رہا جس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بچہ موبائل فون کا استعمال کرنے کی طرف مائل ہوتا ہو!

اصول بنائیے:

اصول بات کو پختہ کرنے اور اس پر عمل کروانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔لہٰذا ایسے اصول گھر میں نافذ کیجئے کہ جو گھر کے ماحول کو پرسکون رکھیں تاکہ بچہ موبائل فون کی طرف کم سےکم متوجہ ہو اور بچے کے موبائل فون استعمال کرنے پر بھی اصول بنائیے اور اس پر عمل در آمد کروائیے اور نہ عمل کرنے پر کوئی معمولی سی سزا مقرر کیجیے جیسے جیب خرچ(Pocket Money )کا نہ دینا وغیرہ۔

خود مثال بنئے:

بچوں کی موبائل فون کی عادت چھڑانے کے لئے خود مثال بنیے اور موبائل فون کا استعمال کم سے کم کیجیے۔ اگر کوئی ضروری کام ہو تو بچوں کے سامنے موبائل استعمال نہ کیجئے۔

موبائل فون کے نقصانات سے آگاہ کیجیے:

بچوں کو موبائل فون کے نقصانات سے آگاہی فراہم کیجیے کہ یہ نظر کی کمزوری ،پڑھائی اور معاشی سرگرمیوں میں عدم دلچسپی کا باعث بن سکتا ہے۔

بعض بچے موبائل کے زیادہ استعمال کی وجہ سے اس کی Addiction کا شکار نظر آتے ہیں۔اس بری عادت کی وجہ سے جب بچوں کو منع کیا جائے تو بات ماننے کی بجائے غصّے اور چڑچڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ایسے بچوں کو موبائل فون سے آہستہ آہستہ دور کیجئےاور استعمال کے وقت خیال رکھیے کہ موبائل فون سے گناہوں بھرے پروگرام نہ دیکھیں۔

ایسے بچوں کو موبائل سے دور رکھنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انہیں چند ضروری اور دلچسپ چیزوں کا لالچ دیجئے جیسے اگر وہ آج صرف ایک گھنٹہ موبائل استعمال کریں تو انعام میں انہیں کوئی ان کی پسندیدہ چیز تحفۃً ملے گی۔


جدید ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ آپس کے رابطوں کو تیز اور آسان بنا دیا۔عقلِ انسانی کی مرہونِ منت ان ایجادات میں سے کئی انسانی زندگی کا جُزْوِ لَا یَنْفَک(جدا نہ ہونے والا حصہ )بن گئیں۔انہی میں سے ایک موبائل فون بھی ہے۔ایک ہاتھ میں سما جانے والا یہ چھوٹا سا آلہ اپنے اندر کئی جہاں سموئے ہوئے ہے۔چند دہائیوں قبل ہاتھوں میں آتے ہی موبائل فون کو قبولیتِ عامہ ملنا شروع ہوئی اور آج نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بڑا ہو یا چھوٹا،بزرگ ہو یا جوان ،مرد ہو عورت ہر ایک موبائل فون کے بغیر اپنی زندگی ایک حد تک نا مکمل محسوس کرتا ہے۔ایسے حالات میں بچوں سے موبائل فون چھڑوانا ایک نہایت مشکل امر ہے۔موبائل فون سے بچوں کو کلی طور پر روک دینے کے سبب بچے خود کو پنجرے میں قید پرندہ شمار کرنے لگتے ہیں اور ان کے ننھے دلوں میں روکنے والے کے لئے منفی جذبات جنم لینے لگتے ہیں۔مزید یہ کہ احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہوئے ایسے بچے چوری چھپے دوسروں کے موبائل میں جھانکتے نظر آتے ہیں۔لہٰذا بچوں کو موبائل فون کے استعمال سے مکمل طور پر روک دینے کی بجائے ان کا اسکرین ٹائم کنٹرول کرنے کی کوشش کرنا زیادہ مفید ہے۔آئیے!اس کے لیے چند ٹپس جانتی ہیں:

1-بچوں کے اسکرین ٹائم کو فکس کر دیجئے اور اس کی پابندی کرنے کی صورت میں ان کی حوصلہ افزائی کیجئے۔

2-اسکرین کے کثرتِ استعمال کے سبب ذہنی اور جسمانی صحت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے بچوں کو آگاہ کیجئے۔

3-بچوں کو موبائل فون کا متبادل (Alternate)فراہم کیجئے۔ان کی دلچسپی کے مطابق انہیں مختلف انڈور اور آؤٹ ڈور ایکٹیویٹیز میں مشغول کیجئے۔

4-بچوں کے ساتھ کوالٹی ٹائم گزارئیے۔

5-بچوں کے سامنے خود بھی موبائل فون استعمال کرنے سے حتی الامکان گریز کیجئے۔

6-بچوں کو درست اور غلط کی تمیز سکھائیے تاکہ وہ موبائل فون کا مثبت استعمال سیکھ سکیں۔بچوں کے اسکرین ٹائم کے دوران غیر محسوس طریقے سے ان کی نگہداشت کرتے رہیے تاکہ بچوں کو بے جا پابندی کا احساس نہ ہو اور آپ ان کی اسکرین ایکٹیویٹیز سے مطلع بھی رہ سکیں۔

7-موبائل کے مختلف فیچرز جیسے اسکرین لاک،پیرینٹل کنٹرول،ڈیجیٹل ویل بینگ وغیرہ کا استعمال بھی مفید ہے۔

8-الحمد للہ الکریم دعوتِ اسلامی مختلف ایپس،کارٹونز اور کلپس کے ذریعے بچوں کی اسلامی تربیت کیلئے کوشاں ہے۔لہٰذا اپنے بچوں کو صرف اور صرف کڈز مدنی چینل دکھائیے تاکہ بچے قوم و ملت کے بہترین معمار بن سکیں۔اللہ پاک ہمیں اور ہماری نسلوں کو جدید دور کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔آمین


اللہ پاک نے اس کائنات میں کئی طرح کی مخلوقات کو وجود بخشا ہے۔ان تمام مخلوقات میں انسان ہی وہ سب سے اعلیٰ مخلوق ہےجسے اللہ پاک نے اشرف المخلوقات کا درجہ عطا فرمایا اور اس کی عظمت و وقار کو بلند کیا ہے۔اگر انسان کا موازنہ دیگر مخلوقات سے کیا جائے تو دیگر مخلوقات کے مقابلے میں انسان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت زیادہ ہے۔ انسان میں روز بروز ترقی کرنے کی خواہش اور آرزو بھی زیادہ ہے۔انسان اپنی فکر اور شعور کے ذریعے کائنات کی تسخیر میں مسلسل لگا ہوا ہے اور نئی نئی چیزوں کی ایجاد میں زندگی صرف کر رہا ہے۔کسی نے سچ کہا ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔

دورِ جدید میں اسی ایجاد کا ایک حصہ موبائل فون بھی ہے جس نے موجودہ دور کے انسانوں کو ہر طرح سے اپنے جال میں جکڑ رکھا ہے۔نوجوان،بچے اور بوڑھے ہی کیوں نہ ہوں آج کل ہر کوئی اسمارٹ فون استعمال کرنے کا عادی ہے اور یہ عادت انسان کی زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔

اسمارٹ فون کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرنا ہمیں آنکھوں اور سر درد کے مسائل سمیت مختلف بیماریوں کی طرف لے جاتا ہے۔

1-چھوٹے بچوں پر موبائل فون کے برے اثرات:

آج ایسا کوئی گھر نہیں بچا جہاں ایک سال سے اوپر کے بچے موبائل فون کے عادی نہ بنے ہوں۔ایک دور ہوا کرتا تھا کہ گھروں سے صبح و شام بچے سیر کے لیے جایا کرتے تھے اور دادا،دادی کے ساتھ وقت گزارتے تھے جو انہیں کہانیاں سنایا کرتے تھے لیکن آج انہی مکانوں سے موبائل کی آوازیں گونجتی ہیں اور بچے گھنٹوں گھنٹوں اس میں مصروف ہیں۔آج کے دور میں ایسا کوئی گھر نہیں ہوگا جس گھر کے بچے موبائل دیکھے بغیر کھانا کھاتے ہوں۔ادھر ویڈیوز جاری ہے اور ماں لقمے پر لقمہ بچے کر منہ میں دے رہی ہے حالانکہ ماہرِ نفسیات کا کہنا ہے کہ اس طرح کا کھانا،کھانا یعنی موبائل کو دیکھتے ہوئے کھانا مینڈلس ایٹنگ(Mindless eating) کہلاتا ہے،بچے کو احساس ہی نہیں ہوتا میں کیا کھا رہا ہوں،کھانے کا ذائقہ کیسا ہے،کتنا کھا لیا،مجھے اور کتنا کھانا ہے،بس مسلسل وہ لقمے کو نگلتا رہتا ہے اور موبائل کی اسکرین کو دیکھتا رہتا ہے۔اس طرح چھوٹے بچوں کے کثرتِ موبائل کے استعمال سے طرح طرح کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔

2:موبائل فون کے مضر اثرات سے آگاہی:

یہ بہت ضروری ہے کہ گھر میں موجود بچوں کو موبائل فون کے استعمال کے مضر اثرات کے بارے میں بات چیت کر کے انہیں آگاہ کیا جائے تاکہ کوئی بھی موبائل فون کا زائد استعمال کرنے سے پہلے ایک بار اس کے نقصانات کے بارے میں ضرور سوچے۔

بچوں کو موبائل فون کی عادت سے چھٹکارا دلوانے کے لیے چند تجاویز پیش ِخدمت ہیں جن پر عمل کر کے آپ کافی حد تک اس عادت پر قابو پا نے میں کامیاب ہو سکتی ہیں:

1-بستر پر لیٹنے سے پہلے موبائل فون دور رکھ دیجیے:

اپنے گھر میں یہ اصول تمام افراد کے لیے مقرر کر دیں کہ رات میں بستر پر لیٹتےوقت ٹی وی اور موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی کیونکہ ہم سب سے زیادہ بستر پر سوتے وقت لیٹ کر موبائل فون استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ہماری عادت بن جاتی ہے جو صحت کے لیے بے حد نقصان دہ ہے۔

2-پڑھنے کی عادت ڈالیے:

بچوں کو موبائل فون سے دور رکھنے کے لیے انہیں پڑھنے کی عادت ڈالیے۔اب پڑھنے کے بھی چند اصول ہیں۔اپنے بچوں کو دنیا جہان کی کتابیں اٹھا کر مت دیجیے بلکہ تقریری مہارتوں پر مبنی منطقی سوچ کے حوالے سے کتابیں مؤثر ثابت رہیں گی اور جب موقع ملے تو بچوں کو اچھی کہانیاں پڑھ کر سنائیے اور دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں ڈھالنے کی کوشش کیجیے۔

3-کھیلوں کی ترغیب دیجیے:

بچے اگر کھیلیں گے تو ان کی دماغی نشوونما میں اضافہ ہو گا۔ کوشش کیجیے کہ بچوں کو باہر لے جائیے،ان کے ساتھ ٹائم اسپینڈ کیجیے،ان کے ساتھ کھیلیے تاکہ ان کے ساتھ اچھے تعلقات بن سکیں ۔یہ سرگرمی بھی بچوں کو موبائل فون سے دور رکھے گی۔

4-گھر کے کام میں مدد کیجیے:

گھر کے کاموں میں مدد کرنا بھی بچوں کو موبائل سے دور رکھ سکتا ہے اور جب وہ کام کریں گے تو ان کا وقت بھی اچھا گزرے گا اور کام میں مدد بھی ہو جائے گی۔اس طرح آپ وقت بھی بچا سکیں گی اور بچے کے اندر ذمہ داری کا احساس بھی پیدا ہوگا۔

5-تمام موبائل فونز بچوں کے کمروں سے باہر رکھیے:

موبائل فونز بچوں کے کمروں سے باہر رکھیے،رات کی نیند بچوں کی دماغی اور جسمانی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔تحقیق کے مطابق رات کو سونے کے دوران موبائل فون قریب ہونے سے بچوں کی نیند متاثر ہو سکتی ہے۔

6-موبائل فون استعمال کرنے کا وقت متعین کیجیے:

موبائل فون کا استعمال محدود کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ الیکٹرونک آلات پر پابندی عائد کر دی جائے لیکن جان لیجیے کہ موبائل فون کا زیادہ استعمال بچے کے دماغ کو غیر فعال کر سکتا ہے۔اس لیے حکمتِ عملی کے ساتھ شیڈول ضروری ہے۔صبح کے اوقات میں موبائل فون استعمال مت کیجیے کیونکہ اس وقت بچوں کا ذہن تازہ ہوتا ہے۔اللہ پاک ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ

آج کے جدید دور میں موبائل فون ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔لیکن جب بات بچوں کی آتی ہے تو یہی سہولت ایک بڑی پریشانی کا باعث بن جاتی ہے۔بچوں کی موبائل سے بڑھتی ہوئی دلچسپی نہ صرف ان کی صحت اور تعلیم کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ ان کی ذہنی اور سماجی نشوونما کو بھی متاثر کرتی ہے۔والدین کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ کس طرح اپنے بچوں کو اسکرین کے استعمال سے بچائیں۔اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف کچھ اصول بنائیں بلکہ انہیں عملی طور پر بھی اپنائیں۔موبائل فون کی دنیا سے باہر بھی بچوں کے لیے ایک خوبصورت اور دلچسپ دنیا موجود ہے جسے دریافت کرنا والدین کے لیے بہت ضروری ہے۔چنانچہ اس حوالے سے یہاں کچھ اہم نکات بیان کیے جاتے ہیں:

بچوں کے ساتھ وقت گزاریے:

y بچوں کے ساتھ وقت گزارنے سے ان کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ انہیں موبائل سے زیادہ آپ کی ضرورت ہے۔

y ایک ساتھ کھانا کھائیے یا گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں ان کی مدد لیجیے۔

y ان کے اسکول کے کاموں میں دلچسپی لیجیے اور ان کی کامیابیوں پر ان کی تعریف کیجیے۔

حدیثِ مبارک میں ہے:اپنے اولاد کو 3 باتیں سکھاؤ:اپنے نبی کی محبت،اہل ِ بیت کی محبت اور قراءتِ قرآن ۔(صحابیات وصالحات کے اعلی اوصاف،ص109 )

ذاتی مثال قائم کیجیے:

f بچوں کے سامنے خود موبائل کا کم سے کم استعمال کیجیے۔جب وہ دیکھیں گے کہ آپ خود موبائل کا زیادہ استعمال نہیں کر رہے تو وہ بھی اس میں آپ کی نقل کریں گے ۔

f خود کھانے کے وقت اور فیملی کے ساتھ بیٹھے ہوئے موبائل کا استعمال مت کیجیے۔ بلکہ ان کے ساتھ وقت گزاریے۔

متبادل سرگرمیوں کو فروغ دیجئے:

موبائل فون کا بہترین متبادل یہ ہے کہ بچوں کو ایسی سرگرمیاں کروائی جائیں جن سے وہ لطف اندوز ہوں،مثلاً:

1) بچوں کے ساتھ کتابیں پڑھیے یا کوئی دلچسپ کھیل کھیلیے۔

2) بچوں کو گھر کے باہر لے جا کر کھیل کود،سائیکلنگ یا واکنگ کے لیے حوصلہ دیجیے۔

3) بچوں کو ڈرائنگ،پینٹنگ یا دوسرے تخلیقی کاموں میں مصروف رکھیے۔

اسکرین ٹائم کے قوانین بنائیے:

1) دن میں صرف ایک سے دو گھنٹے اسکرین ٹائم کی اجازت دیجیے۔

2) رات کو سونے سے ایک گھنٹہ پہلے موبائل فون کا استعمال بالکل بند کروا دیجیے۔

3) کھانے کے وقت موبائل فون کے استعمال سے گریز کیجیے۔

اسکرین ٹائم کے دوران موبائل کا استعمال:

اگر بچوں کو اسکرین ٹائم کے دوران موبائل دیا جائے تو بہتر ہے کہ ان کی ان سرگرمیوں میں شریک ہوں اور ان کے ساتھ بیٹھیے،انہیں بتائیے کہ کیا چیز ان کے لیے فائدہ مند ہے اور کیا نقصان دہ ہے۔

بچوں کو اسکرین سے پیدا ہونے والے نقصانات کے بارے میں بتائیے:

بچوں کو یہ بات سمجھائیے کہ موبائل فون کے زیادہ استعمال سے صحت کو کس طرح کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں جیسے نظر کمزور ہو سکتی ہے یا نفسیاتی مسائل ہو سکتے ہیں وغیرہ۔

اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ بچوں کو موبائل فون سے دور کرنے کی کوشش میں ان پر دباؤ مت ڈالیے تاکہ انہیں یہ نہ لگے کہ آپ ان سے ناراض ہیں بلکہ انہیں بتائیے کہ آپ ان کی بھلائی چاہتی ہیں۔

مثبت رویہ اپنائیے:

بچوں کو سختی سے روکنے کے بجائے ان سے پیار اور نرمی سے بات کیجیے،انہیں سمجھائیے کہ موبائل فون کا زیادہ استعمال ان کے لیے کیوں نقصان دہ ہے۔ان کے ساتھ مل کر اسکرین ٹائم کی منصوبہ بندی کیجئے اور اس پر عمل در آمد بھی یقینی بنائیے۔

یہ بات ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے کہ بچوں کو موبائل سے دور رکھنا ایک مسلسل عمل ہے جس کے لیے صبر اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔والدین کو ایک ایسا ماحول بنانا چاہیے جہاں بچے موبائل کے بجائے دوسرے صحت مند مشاغل میں دلچسپی لیں۔یاد رکھیے!آپ کی توجہ،پیار اور وقت وہ سب سے قیمتی تحفہ ہے جو آپ اپنے بچوں کو دے سکتے ہیں اور یہ تحفہ کسی بھی موبائل یا اسکرین کی لت سے کہیں زیادہ اہم ہے۔


ہمارا دینِ اسلام بچوں کی پرورش۔ان کی اخلاقی تربیت اور اُن کی ذہنی حفاظت کے لئے نہایت واضح اصول بیان کرتا ہے،لیکن آج کے دور میں بچوں کے لیے سب سے بڑا فتنہ موبائل فون کی صورت میں نکلا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ موبائل فون علم و ہنر کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے اور گناہوں،وقت کو برباد کرنے اور ذہنی  بیماریوں کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔آج کے دور میں موبائل ایک ضرورت بھی ہے اور ایک آزمائش بھی۔بڑے تو پھر بھی کسی حد تک قابو کر لیتے ہوں گے مگر بچوں کے لیے یہ ایک کھلونا۔مشغلہ اور عادت بن گیا ہے۔ہمارے معصوم بچے اس کے اسیر ہو چکے ہیں جیسے کسی پرندے کو پنجرے میں قید کر دیا جائے اس کی بچوں کا ذہن اور دل اسکرین کے اندر قید ہوگیا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ بچے ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور نظر آتے ہیں اور اس کے اثرات بچوں کے کردار۔ان کی شخصیت۔مہارتوں اور صلاحیتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔کچھ تحقیقات کے مطابق موبائل فون کے اثرات خاص کر بچوں پر اس طرح پڑ رہے ہیں:

موبائل کے اثرات:

نیند کی کمی،موبائل کی روشنی آنکھوں اور دماغ کو متحرک رکھتی ہے،غصہ،ذہنی دباؤ،توجہ کی کمی،گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ میل جول کم ہو جاتا ہے،بات چیت کم ہوتی ہے،پڑھائی پر دھیان نہیں ہوتا،کمزور بدن،چڑچڑےپن کے اثرات بڑھ جاتے ہیں، وزن بڑھانا،آنکھوں کی کمزوری ،موبائل ایک ایسی بیماری ہے جس کی کوئی آواز نہیں مگر آنکھوں کی روشنی اور دماغی صحت کو بہت متاثر کر رہی ہے۔

اب والدین پریشان رہتے ہیں کہ بچے پڑھائی اور دیگر سرگرمیوں کے بجائے موبائل میں زیادہ مشغول رہتے ہیں اور زیادہ وقت ضائع کرتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ بچوں کو موبائل فون کے استعمال سے کیسے اور کس طرح روکنا چاہیے؟وہ بھی اس طرح کہ ان کی ضد نہ بڑھے اور خوشی اور اطمینان کے ساتھ اس کی ضرورت سے زیادہ استعمال سے رک جائیں۔

بچوں کو موبائل فون کے استعمال سے روکنے کے لئے مندرجہ ذیل طریقے کار اور تدابیر کو اختیار کیا جائے تو ممکن ہے کہ بچوں کو موبائل کے استعمال سے روکنے میں کامیاب ہو جائیں۔

موبائل سے دور رکھنے کے طریقے

1-پریکٹیکل:

بچے وہی کرتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں۔لہٰذا اگر والدین خود موبائل زیادہ استعمال کرتے ہیں تو خود موبائل کا استعمال کم سے کم کریں۔کیونک بچے عمل سے زیادہ سیکھتے ہیں نہ کہ نصیحت ہے۔

2- موبائل کے بجائے دلچسپ مشغلے:

جب بھی بچے موبائل کا مطالبہ کریں آپ انہیں کھلونے،تخلیقی کام،رنگ بھرنا، ڈرائنگ بنانا وغیرہ اور اس جیسی دیگر سرگرمیاں جیسے سائیکلنگ،گھر میں موجود پالتو جانوروں سے کھیلنا،پودے لگانا وغیرہ میں مشغول کرنے کی کوشش کیجیے۔

3- وقت کی پابندی:

بچوں کے لئے اسکرین ٹائم شیڈول بنائیے مثلاً:صرف آدھا یا ایک گھنٹہ موبائل فون دیا جائے اور اس میں بھی کوشش کی جائے کہ اسلامک کارٹونز یا کچھ اچھی و مثبت چیزیں ہی دیکھے اور ٹائم مکمل ہوتے ہی موبائل لے لیا جائے۔

4- خاص انداز اپنائیے:

بچوں سے سیدھا یہ نہ کہیے کہ موبائل کا استعمال نہ کرو بلکہ انہیں کہانی یا مثال کے ذریعے سمجھائیے،مثلاً:ایک بچہ موبائل زیادہ استعمال کرتا تھا وہ بیمار ہوگیا۔دوسرا بچہ موبائل کم استعمال کرتا تھا وہ اچھا بچہ بن گیا اورصحت مند ہو گیا وغیرہ۔

5- شرائط مقرر کیجیے:

مثلاً:اگر آپ اپنا کام مکمل کریں گے،نمازیں پڑھیں گے،سبق یاد کریں گے تو آپ کو موبائل دیا جائے گا۔

6- توجہ رکھیے:

اکثر بچے توجہ نہ دینے کے سبب موبائل وغیرہ پر زیادہ مشغول رہتے ہیں۔لہٰذا روز کم از کم 15-20 منٹ ان سے باتیں کیجیے،ان کی باتیں سنیے،انہیں کچھ نیا سکھائیے اور اگلے دن ان سے پوچھیے ۔

7-اصول بنائیے:

گھر میں کوئی خاص جگہ یا کوئی ٹیبل وغیرہ مختص کیجئے جہاں تمام گھر کے افراد کے موبائل مخصوص وقت (مثلاً: کھانا،نماز یا فیملی ٹائم) کے دوران جمع کیے جائیں۔

خلاصہ:

یاد رکھیے! بچوں کو موبائل سے بچانا اور ان کی جان چھڑانا یہ صرف عادت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ان کی صحت،علم اور مستقبل کا سوال ہے۔اگر آج ہم نے توجہ نہ دی تو آنے والی نسلیں کمزور دماغ،کمزور اخلاق اور کمزور کردار کی شخصیت کی مالک ہوں گی۔اللہ کریم ہمیں اور ہماری نسلوں کو نیک و صالح بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین


دورِ حاضر کی نئی ٹیکنالوجیز نے انسان کے لیے بہت سی آسانیاں پیدا کی ہیں تو وہی انسان کی زندگی میں اس کے منفی اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں لیکن یہاں دورِ حاضر کی ایک ٹیکنالوجی موبائل فون سے اپنے بچوں کو دور رکھنے کے کچھ طریقے بتائیں جائیں گے۔

ہمارے معاشرے میں آج کل والدین اور بچوں کے درمیان ایک فاصلہ آ چکا ہے۔بچے موبائل کی اسکرین اور لیپ ٹاپ پر انٹرنیٹ کی دنیا سے اس قدر متصل ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس والدین کے لیے بھی وقت نہیں ہے اور اسی طرح والدین بھی اکثر اوقات ضروری اور غیر ضروری کاموں کے لیے موبائل کا استعمال زیادہ کیے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بچے ویسے تربیت نہیں لے پا رہے جیسی انہیں لینی چاہیے۔اس مضمون میں آپ کو کچھ ایسے نکات بتائیں جائیں گے جس کی وجہ سے آپ اپنے بچوں کو موبائل سے دور رکھ سکیں گی۔

1-حد مقرر کیجیے:

اس دور میں موبائل کا استعمال ایک ضرورت بن چکا ہے تو اس لیے اب ہم اپنے بچوں کو بالکل ہی اس کے استعمال سے تو منع نہیں کر سکتیں لیکن اس کا بہترین حل یہ ہے کہ اپنے بچوں کو اس کے استعمال کے لیے ایک حد دیں یعنی انہیں بتائیں کہ آپ نے موبائل کے ذریعے یہ کام کرنا ہے اور اس کے علاوہ آپ نے فضول کام سے بچنا ہے۔

2-رول ماڈل بنیے:

بچے اکثر اپنے بڑوں سے سیکھتے ہیں یعنی جو کرتا ہوا انہیں دیکھتے ہیں وہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لہٰذا والدین کو چاہیے کہ اپنی سرگرمیوں پر نظر دوڑائے اور اپنے موبائل کے استعمال کو کم از کم کریں تاکہ بچوں کے لیے ایک رول ماڈل بنیں۔

3-تعلیمی مواد فراہم کیجیے:

جب بچے کو موبائل استعمال کرنے کے لیے وقت دیں تو انہیں کچھ سیکھنے سکھانے کے بھی ذرائع بتائیں۔بچوں کی اخلاقی و عملی تربیت کے لیے دعوتِ اسلامی کے مختلف پروگرامز،غلام رسول کے کارٹونز اور ذہنی آزمائش کی کوئز گیم دکھائیں۔

4-متبادل ایکٹیوٹیز فراہم کیجیے:

بچوں کے موبائل کے استعمال کو کم کرنے کے لیے مختلف قسم کی سرگرمیاں پیش کیجیے۔والدین بچوں کے ساتھ خود کسی کھیل وغیرہ میں مشغول ہوں۔ان کے لیے آرٹ ورک،کھیل کود،مختلف جائز گیمز وغیرہ مرتب کریں تاکہ بچے ان سرگرمیوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔

5-نقصانات کے بارے میں بتائیے:

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو موبائل کے نقصانات کے بارے میں آگاہی دیں مثلاً:نظر کمزور ہونے،ذہن پر برا اثر ڈالنے اور وقت کے ضیاع جیسے مختلف نقصانات کے بارے میں بتائیے تاکہ بچے موبائل کو کم سے کم استعمال کرنے پر آمادہ ہو سکیں۔

6-نگرانی کیجیے اور جائزہ لیجیے:

اپنے بچوں کے موبائل کے استعمال پر نظر رکھیے اور اگر ضروری ہو تو ان کے ساتھ خود بھی دیکھیے کہ بچے کس طرح کا مواد دیکھ رہے ہیں۔بچوں کی ان معاملے میں ذہن سازی بھی کرتے رہیے اور وقتاًفوقتاً جائزہ بھی لیتی رہیے۔والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں پر موبائل استعمال کرتے وقت نگرانی بھی ضرور کریں اور غیر ضروری چیزیں دیکھنے پر ان کی اصلاح بھی کریں۔

امید ہے کہ والدین ان بتائے ہوئے نکات پر اگر عمل کریں گے تو اپنے بچوں کی موبائل سے جان چھڑا سکنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔اللہ پاک ہمیں اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری اولاد کو نیک بنائے۔آمین