یاسر
علی (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ، کراچی،پاکستان)
03008912303
انسانی معاشرہ اخلاقی اقدار پر قائم ہوتا ہے اور ان
اقدار میں وعدہ وفائی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ وعدہ پورا کرنا انسان کے کردار،
سچائی اور ایمان کی پہچان ہے۔ اسلام نے وعدہ وفا ئی کو محض ایک اخلاقی خوبی نہیں
بلکہ ایک دینی فریضہ قرار دیا ہے۔ قرآنِ مجید میں بار بار وعدہ پورا کرنے کی تاکید
کی گئی ہے اور وعدہ خلافی کو سختی سے ناپسند فرمایا گیا ہے۔وعدہ سے مراد کسی شخص
کو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا یقین دلانا ہے، جبکہ وفا کا مطلب اس وعدے کو
پورا کرنا ہے۔ اسلام میں خواہ وعدہ انسان سے کیا جائے یا اللہ تعالیٰ سے، دونوں
صورتوں میں اس کی پاسداری لازم ہے۔
قرآنِ مجید میں وعدہ پورا کرنے کا واضح حکم دیا گیا ہے:اللہ
تعالیٰ کا فرمان:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ
الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے
میں سوال کیا جائے گا۔ (سورۃ بنی اسرائیل، آیت 34)
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ہر وعدے کے بارے میں
قیامت کے دن باز پرس ہوگی۔
اہلِ
ایمان کی صفت:قرآنِ مجید میں نیک اور متقی لوگوں کی صفات بیان کرتے
ہوئے فرمایا :
الَّذِیْنَ
یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ(۲۰)
ترجمہ کنز الایمان: وہ جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور
قول باندھ کر(وعدہ کر کے) پھرتے نہیں۔ (سورۃ الرعد، آیت 20)
یہ آیت بتاتی ہے کہ وعدہ وفا کرنا اہلِ ایمان کی پہچان
ہے۔
وعدہ پورا کرنے
کا صریح حکم:اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ
ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو!تمام عہد پورے کیا کرو۔
(سورۃ المائدۃ، آیت 1)
یہ آیت وعدہ پورا کرنے کو ایمان کا تقاضا قرار دیتی ہے۔
وعدہ توڑنے والوں
کا انجام:قرآنِ مجید میں فرمایا گیا:فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ
بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ وقَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ
قُلُوْبُنَا غُلْفٌؕ-
ترجمہ کنزُ العِرفان : تو (ہم نے ان پر لعنت کی) ان کے
عہد کوتوڑنے اور اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق شہید کرنے اور
ان کے یہ کہنے کی وجہ سے (کہ) ہمارے دلوں پر غلاف ہیں۔(سورۃ النساء، آیت 155)
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ وعدہ توڑنا اللہ کی ناراضی
اور لعنت کا سبب بنتا ہے۔
سچے لوگ وعدہ نبھاتے ہیں:قرآنِ
مجید میں اہلِ صدق کے بارے میں فرمایا گیا:مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ
عَلَیْهِۚترجمہ کنزُ العِرفان : مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں
جنہوں نے اس عہد کو سچا کردکھایا۔(سورۃ الاحزاب، آیت 23)
یہ آیت بتاتی ہے کہ وعدہ پورا کرنا سچوں اور اللہ کے
مقرب بندوں کی صفت ہے۔
وعدہ وفا اور
معاشرتی استحکام:اگر معاشرے میں لوگ اپنے وعدے پورے کریں تو باہمی اعتماد
پیدا ہوتا ہے، تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور امن و سکون قائم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس
وعدہ خلافی بداعتمادی، نفرت اور انتشار کو جنم دیتی ہے۔
وعدہ وفا اور آخرت کی کامیابی:قرآنِ
مجید میں کامیاب لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا:
وَ
الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)
ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے
وعدے کی رعایت کرنے والے ہیں ۔ (سورۃ المؤمنون، آیت 8)
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ وعدہ وفا کرنے والے لوگ
آخرت میں کامیاب ہوں گے۔
Dawateislami