دعوتِ اسلامی کے پراپرٹی اینڈ کنسٹرکشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت پچھلے دنوں ایک میٹنگ ہوئی جس میں بہاولپور کے ڈویژن و ڈسٹرکٹ ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

نگرانِ بہاولپور ڈویژن ڈاکٹر حافظ عبد الرؤف عطاری نے بہاولپور میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ انتظام ہونے والے تعمیراتی پروجیکٹ کے حوالے اہم نکات پر گفتگو کی اور اس میں مزید بہتری کانے کا ذہن دیا۔علاوہ ازیں نگرانِ بہاولپور نے اسلامی بھائیوں کو دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں عملی طور پر حصہ لینے کی ترغیب دلائی۔(رپورٹ: احمدرضا عطاری ڈویژن ذمہ دار، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دینی، شرعی و روحانی مسائل میں لوگوں کی تربیت و رہنمائی کرنے والی عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت 4، 5، 6 جون 2023ء کو تحصیل خان پور  ترک والی موری میں روحانی علاج کورس منعقد کیا گیا جس میں بہاولپور کے عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

اس کورس میں شعبے کے معلم محمد طیب عطاری نے تعویذات لکھنے کے حوالے سے مختلف امور پر شرکا کی رہنمائی کی اور انہیں دم کرنے، کاٹ کرنے کا طریقہ نیز اس کی چند ضروری احتیاطیں بتائیں۔

آخر میں معلم محمد طیب عطاری نے کورس میں شریک عاشقانِ رسول کو شعبے کے متعلق نئی اپڈیٹس سے آگاہ کیا اور انہیں امت کی غم خواری کا جذبہ دلاتے ہوئے 12 دینی کاموں میں عملی طور پر حصہ لینے کا ذہن دیا۔(رپورٹ: سمیر علی آفس ذمہ دار ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

4 جون 2023ء  کو ڈسٹرکٹ پاکپتن کے نگران محمد طارق عطاری نے شعبہ تحفظ اوراق مقدسہ کے ذمہ داران کا مدنی مشورہ لیا جس میں 12دینی کاموں کو مضبوط کرنے کے حوالے سے مدنی پھول دیئے اور جو ذمہ داران مقدس اوراق کا کام کر رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کی نیز شعبے کو مزید بہتر کرنے کے متعلق نکات فراہم کئے ۔

مزید قرآن محل بنوانے اور نئے مقدس اوراق کے بکسز لگانے کے حوالے سے ذمہ داران کی تربیت کی نیز مدنی قافلوں میں سفر کرنے اور دیگر اسلامی بھائیوں کو سفر کروانے،مدنی مذاکرہ اجتماعی طور پر دیکھنے ، ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کرنے کا ذہن دیا۔ اس کے علاوہ رسالہ مطالعہ بڑھانے کے حوالے سے بھی اہداف طے کئے گئے ۔ آخر میں ڈسٹرکٹ نگران محمد طارق عطاری نے شعبہ تحفظ اوراق مقدسہ کے ذمہ داران کو تحائف بھی دیئے۔( کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری) 


بزرگانِ دین  کی تعلیمات کو عام کرنے والی دینی تحریک دعوت اسلامی کے شعبہ تحفظ اوراق مقدسہ کی طرف سے لاہور میں مدنی مشورے کا انعقاد کیا گیا جس میں نگرانِ مجلس ،صوبائی ذمہ داران اور محافظ اوراق مقدسہ نے شرکت کی۔

رکنِ شوری ٰابو ماجد حاجی محمد شاہد عطاری مدنی نے سابقہ شعبے کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے مزید ترقی کرنے کے حوالے سے مدنی پھول دیئے ۔

اس کے علاوہ پاکستان میں رمضان ڈونیشن اور ماہانہ آمدن و دیگر کارکردگی میں نمایاں کارکردگی کے حامل گوجرانوالہ اورگجرات ڈویژن ذمہ داران کو رکن شوریٰ نے تحائف دیئے اور دعاؤں سے نوزا ۔(رپورٹ:عثمان عطاری تحفظ اوراق مقدسہ گوجرانوالہ گجرات ڈویژن،کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


مدنی مرکز دعوتِ اسلامی فیضان مدینہ عباسیہ ٹاؤن بہاولپور میں بہاولپور ڈویژن کے تمام قاری صاحبان و ناظمین کا ٹریننگ  سیشن ہوا جس میں نگران مجلس قاری لیاقت عطاری و نگران بہاولپور ڈویژن ڈاکٹر حافظ عبدالرؤف عطاری سمیت دیگر ذمہ داران نے دینی کاموں میں مزید بہتری لانے کے حوالے سے مدنی پھول دیئے اور 12دینی کاموں میں حصہ لینے کا ذہن دیا۔( کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


دعوتِ اسلامی  کے شعبہ رابطہ برائے شخصیات کے ذمہ داران نے یوسی 7 گلشن اقبال ٹاؤن میں سکندر بلوچ سے ملاقات کی۔ دوران ملاقات ذمہ دار اسلامی بھائی نے انکو دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کے حوالے سے بریفنگ دی اور مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کا وزٹ کرنے کے ساتھ ہفتہ کی رات کو ہونے والے مدنی مذاکرے میں شرکت کرنے کی دعوت دی جس پر انھوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے وزٹ کرنے کی اچھی نیت کا اظہار کیا۔

اس ملاقات میں یوسی 7 گلشن اقبال کے نگران و امام ستارہ مسجد رضا عطاری اور شعبہ رابطہ برائے شخصیات گلشن اقبال ٹاؤن ذمہ دار نور بابا عطاری ہمراہ تھے۔(رپورٹ :محمد ذکی عطاری ،شعبہ رابطہ برائے شخصیات ڈسٹرکٹ ایسٹ کراچی،کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


20 مئی 2023ء کو اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ دعوت اسلامی  کے تحت ملتان کے علاقے شجاع آباد کی جامع مسجد غوثیہ میں گونگے بہرے اسلامی بھائیوں میں سیکھنے سکھانے کاحلقہ منعقد ہوا جس میں ڈویژن ذمہ دار عابد حسین عطاری (بہاولپور)نے اشاروں کی زبان میں’’ نیک اعمال‘‘کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا ۔

دوران بیان ڈویژن ذمہ دار نے گونگے بہرے اسلامی بھائیوں کو امیر اہل سنت مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کے عطا کردہ 27نیک اعمال پر عمل کرنے کے کی ترغیب دلائی جس پر انھوں نے نیک خیالات کا اظہار کیا۔ شہر ذمہ دار محمد عامر عطاری(ملتان) اور مقامی گونگے بہرے اسلامی بھائیوں نے بھی شرکت کی۔(رپورٹ:محمد رضوان عطاری مدنی اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ پاکستان آفس،کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


مسلمانوں کے  عقائد و ایمان کی حفاظت کرنے والی عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کی جانب سے انڈونیشیا میں وہاں کے ملکی سطح کے ذمہ داران کا آن لائن مدنی مشورہ ہوا جس میں ملکی نگران شریک ہوئے۔

مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی قاری ایاز عطاری نے مدنی مشورے میں دعوت اسلامی کے دینی کاموں کو بڑھانے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شرکا کو آئندہ دنوں میں شعبے کی جانب سے منعقد ہونے والے تربیتی اجتماع میں شرکت کرنے اور دیگر کو اس کی دعوت دیگر ساتھ لانے کے اہداف دیئے۔( کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


دنیا بھر میں  دینی کام کرنے والی عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت انٹرنیشنل مبلغ کورس کے شرکا میں ٹریننگ سیشن ہوا جس میں رکن شوریٰ حاجی محمد امین عطاری نے کولمبو سری لنکا سےبذریعہ ویڈیو لنک بیان کیا جس میں شرکا کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت کرتے ہوئے انھیں 12 دینی کاموں کو کرنے کا انداز سمجھایا۔(کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری)


دعوتِ اسلامی کے شعبہ محبتیں بڑھاؤ کے تحت  4 جون 2023ء بروز اتوار عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں مدنی مشورے کا انعقاد ہوا جس میں پاکستان بھر سے صوبائی ذمہ داران نے شرکت کی ۔

ابتداءً نگرانِ مجلس شاہد عطاری نے شعبے کے دینی کاموں کے متعلق اسلامی بھائیوں کی تربیت کی۔ بعدازاں رکن شوریٰ حاجی اظہر عطاری نےسابقہ دینی کاموں کی کارکردگی کاجائزہ لیا نیز شرکا کی شعبے کے بنیادی کاموں کے حوالے سے رہنمائی کی جس میں تعزیت و عیادت کے اہداف دیئے نیز آنے والے دنوں میں بزرگانِ دین کے اعراس پر پاکستان بھر میں ایصالِ ثواب اجتماعات منعقد کرنے اور ان میں ذمہ داران و اراکین شوریٰ کے بیانات کروانے کے بارے میں گفتگو ہوئی ۔ (کانٹینٹ:رمضان رضا عطاری) 


مسجد کے امام کو امامتِ صغریٰ  کا درجہ حاصل ہے اور اس امامت (یعنی مسجد کے امام ) کا مطلب یہ ہے کہ ”دوسرے کی نماز کا اس کے ساتھ وابستہ ہونا“ (بہارِ شریعت ج۱ ص 560 ) بے شک امامت ایک بڑی سعادت ہے کہ خود مدنی سرکار ہم بے کسوں کے مددگار، حضورِ اکرم سرورِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس امامت کو سر انجام دیا ۔ اس کی چھ شرائط ہیں :اسلام ،بلوغ ،عاقل ہونا ،مرد ہونا ، قرائت،معذورِ (شرعی) نہ ہونا (بہارِ شریعت ج۱،ص561 ) اگر کسی مسجد میں امام معین (مقرر)ہے تو امامِ معین امامت کا حق دا رہے اگرچہ حاضرین میں کوئی اس سے زیادہ علم والا اور زیادہ تجوید والا ہو(بہارِشریعت ج۱،ص567) جہاں امامِ معین (مسجد کے امام )کے اتنے مسائل اور اہمیت ہے وہیں اس کے کچھ حقوق بھی ہیں جو کہ مقتدیوں پر لازم ہیں ۔آئیے ! اِن میں سے دس (10)حقوق کو ہم سنتے ہیں :

پہلا حق : امام کا پہلا حق یہ ہے کہ اس کو امام تسلیم کیا جائے اگر کسی میں امامت کی جامع شرائط پائی جا رہی ہیں اور مسجد انتظامیہ متفقہ فیصلے سے اس کو امام منتخب کرچکی ہے تو اس کو امام تسلیم کر لینا چاہیے خواہ مخواہ اس کی ذات پر کیچڑ نہ اُچھالا جائے جب تک شریعت اس کی اجازت نہ دے۔

دوسرا حق : امام کا دوسر احق یہ ہے کہ امام کی غیبت،چغلی وغیرہ سے بچا جائے کیونکہ غیبت کرنا ویسے ہی بُرا کام ہے کہ غیبت کرنے والا گویا اپنے مردار بھائی گوشت کھاتا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر اپنے پیش امام کی غیبت کرنا کس قدر بُرا ہوگا لہذا اپنے مسجد کے امام کی غیبت وغیرہ کرنے سے بچنا چاہیے۔

تیسرا حق :امام کا حق ہے کہ اس کی عزّت کی جائے اور ہونی بھی چاہئے کیونکہ ہماری نمازیں اس امام کے ساتھ وابستہ ہیں جب تک امام نماز شروع نہ کرے ہم نماز شروع نہیں کر سکتے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے پیش امام کی عزّت کریں اور طعنہ زنی کا نشانہ نہ بنیں ۔

چوتھا حق: جہاں امام کا یہ حق ہے کہ اس کی عزت کی جائے وہیں امام کا یہ بھی حق ہے کہ اس کی عزت افزائی اور حوصلہ افزائی بھی کی جائے امام کو پریشان دیکھ کر اسکی پریشانی دور کرنے کی کوشش کی جائے اور ہمت بڑھائی جائے حوصلہ دیا جائے۔

پانچواں حق: مسجد کمیٹی پر یہ لازم ہے کہ امام کی معقول تنحواہ مقرر کی جائے اور اس کی ضروریات کا پورا پورا لحاظ رکھا جائے ۔جس طرح ہمارے دیگر طبقے کے ملازمین کی تنخوائیں( Salary) ہوتی ہیں اسی طرح مسجد کے امام کی بھی معقول تنخواہ ہونی چاہئے کیونکہ یہ امام مسجد کا حق ہے ۔

چھٹا حق : مقتدیوں کو چاہئے کہ جہاں امام مسجد کی تنخواہ مقرر ہوتی ہے اسی کے ساتھ اس کی ذاتی طور پر بھی مالی خدمت (خیر خواہی ) کرتے رہنا چاہئے۔ امیرِ اہلِسنت دامت برکاتہم العالیہ (اپنے تصنیف کردہ) نیک اعمال نامی رسالے میں فرماتے ہیں :کیا آپ نے اس ماہ مسجد کے امام کو 112 روپے یا کم از کم 12 روپے بطورِ نزرانہ پیش کیے؟

ساتواں حق: امام مسجد کا حق ہے کہ اہلِ محلّہ اس کو اپنی خو شی غمی کے معاملات میں یاد رکھیں ہمارے ہاں غمی کے مواقع پر تو امام صاحب کو فاتحہ وغیرہ کے لئے بلایا جاتا ہے لیکن خوشی( مثلاً شادی بیاہ ) کے مواقع میں امام کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

آٹھواں حق : جس طرح کئی یا تقریباً تمام ہی نوکری کرنے والے افراد کے لئے ہفتے میں ایک دن چھٹی مقرر ہوتی ہے اسی طرح مسجد کا امام جب چھٹی پر جائے تو ا س کا یہ حق ہے کہ اسکی غیر موجودگی میں مسجد کمیٹی خوش الحان قاری صاحب کو بطورِ نائب مقرر کرے ۔

نواں حق : امام صاحب اگر کسی نماز میں لیٹ ہوجائیں تو اس کا یہ حق ہے کہ اس کو سُست ،کاہل ،کام چور وغیرہ کہہ کر اس کی دل آزاری نہ کی جائے کہیں یہ دل آزاری کرنے والے کو آخرت میں رسواء نہ کر دے ۔

دسواں حق: جن مساجد میں امام صاحب اپنی فیملی کو ساتھ رہائش پزیر ہیں اُس علاقے کے اہلِ محلہ کو چاہئے کہ وہ امام صاحب کے اہلِ خانہ کا بطورِ خاص خیال رکھیں ، ان کو احساسِ محرومی کا شکار نہ ہونے دیا جائے ۔

ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ پاک ہمیں امام مسجد کے جملہ حقوق جاننے اور ان کو اچھے طریقے سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمین بجاہِ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


امام مسجد کا مقام مرتبہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ امام مسجد اپنے علاقے کا وہ معزز شخص ہوتا ہے جس کی اقتدا میں ہر بڑے سے بڑا ‏عہدے والا بھی  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوتا ہے اور امام کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنا ضامن تسلیم کرتا ہے ۔ امامت کا منصب کوئی عام منصب نہیں یہ وہ خاص و اعلیٰ منصب ہے جس پر انبیا علیہم ‏السلام اور اصحابِ رسول و اہلِ بیتِ اطہار علیہم الرضوان فائز رہے۔ اور شبِ معراج محبوبِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تمام انبیا علیہم السّلام ‏کے درمیان امامت کروائی ۔ اس منصب کا حق ادا کرنا بہت ضروری ہے اور امام مسجد کو سنتوں کا ایسا عامل ہونا چاہیے کہ عوام امام کو ‏دیکھ کر سنتوں کے عامل بن جائیں ۔

امامِ مسجد کا کردار ، رہن سہن ، بول چال اور عادات ایسی ہونی چاہیے کہ لوگ اس سے متاثر ہو کر دینِ اسلام کی طرف آئیں ۔ ‏ہمارے معاشرے میں امام مسجد کو بہت عزت و احترام دیا جاتا ہے۔ اور امام مسجد کو علم فقہ پر اور خصوصاً نماز روزہ زکوٰۃ وغیرہ کے مسائل بھرپور مہارت ہونی چاہیے کہ یہ روز مرہ کے معاملات میں پیش ‏آنے والے مسائل ہیں۔امام مسجد کے بہت حقوق ہیں اگر سب کو زینت قرطاس بنایا جائے تو وقت کے قلیل ہونے کے سبب سب کو یکجا جمع کرنا مشکل ہو ‏جائے گا۔ اس لیے چند حقوق کو تحریر کئے جا رہے ہیں:

‏(1) امام مسجد کو متقی و پرہیز گار ہونا چاہیے۔ تاکہ امام صاحب کو دیکھ کر لوگوں کو خوف خدا یاد آئے ‏۔

‏(2) شریعت کا پابند ہونا چاہیے ۔ تاکہ لوگ امام مسجد کو دیکھ کر شریعت پر عمل کرنا شروع کردیں۔

‏(3) امام مسجد کو اپنے منصب کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ یعنی ایسی دکان پر جانا جہاں لوگ امام کو اس کے منصب کی وجہ سے سامان ‏فری مل جائے تو یہ غلط فعل ہے۔

‏ (4) عوام کو چاہیے کے امام صاحبان کی انفرادی طور پر لازمی مدد کریں۔ کیوں کہ عموماً امام صاحبان کی تنخواہیں بہت کم ہوتی جس سے ‏انکا گزر بسر بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے اہلِ علاقہ پر لازم ہے کہ وہ امام صاحبان کی انفرادی طور پر لازمی مدد کریں۔ ‏

‏(5) امام صاحب پر طعن و تشنیع نہیں کرنی چاہیے ، اگر کبھی نماز میں تاخیر ہو جائے تو امام صاحب کی ذلت کرنے کے بجائے اس کے ‏عذر کو سنا جائے۔ اور بلاوجہ امام صاحب کے خلاف باتیں کرنے سے بچا جائے کہ یہ اخلاقی طور اور شرعی طور دونوں طرح سے ‏درست نہیں ۔

‏(6) امام صاحب اصلاح معاشرہ اور اصلاح امت کے لیے مسجد میں شارٹ کورسز کا سلسلہ جاری رکھے۔

‏(7) امام مسجد کی قراءت کا خوبصورت ہونا چاہیے ۔ اگر امام مسجد عالم دین اور حافظ قراٰن ہو تو زیادہ حسن پیدا ہو جائے گا۔

‏(8) نمازیوں کو بلاوجہ امام مسجد کی تنقید نہیں کرنی چاہیے۔

‏(9) امام مسجد معاشرے کا عظیم شخص ہوتا ہے اسلیے اس کو ایسے کاموں سے بچنا چاہیے جو اس کی تذلیل کا باعث بنیں ، اور ایسی جگہ ‏جانے سے بھی بچیں جو محل تہمت ہو۔

‏(10) امام مسجد اپنے اہل علاقہ کے عقائد کو درست کرے اور علاقے کی ابھرتی نسل کے عقائد درست کرے تاکہ وہ دین اسلام کی ‏خدمت کر سکیں۔

امام صاحب کے ساتھ تعاون کرنے کی وجہ یہی ہے کہ ہم امام صاحب سے یہ نہ پوچھیں کہ "حالات کیسے ہیں ، کسی چیز کی حاجت" ، امام ‏صاحب کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ مجھے فلاں فلاں شے کی حاجت ہے بالکل وہ سکوت اختیار کرکے نفی کا اشارہ کریں گے۔ ہمیں چاہیے ‏کہ ہم بغیر پوچھے امام صاحب کی خدمت میں رقم راشن پیش کردیں ، ایسا کرنے کے بعد اس کو جتایا نہ جائے بلکہ ہونا تو یوں چاہیے ‏کہ دائیں ہاتھ سے دیں اور بائیں کو معلوم نہ ہو۔ تبھی آپ کو دیے ہوئے مال راشن کا فائدہ ہوگا۔ ‏

امام صاحبان کی تنخواہوں میں بغیر امام صاحب کے کہے ہی اضافہ کرنا چاہیے۔ اتنی تنخواہ ضرور ہونی چاہیے کہ وہ اپنا پورا ماہ سکون سے ‏گزار سکیں۔

کاش ہم منصبِ امامت کی اہمیت کو جان لیں اور فضیلت امام کو پہنچان لیں تو یقیناً ہمارا معاشرہ بہترین معاشرہ بن جائے گا۔‏

یہ منبر و محراب کے وارث سنتِ رسول کو عام کرنے میں کوشاں ہوتے ہیں ہمیں ان مبارک لوگوں کا ساتھ دے کر دینِ اسلام کی ‏خدمت میں حصہ ملانا چاہیے۔ یہی ہمارے لیے ذریعۂ نجات بن سکتا ہے۔

رب العالمین ہمیں امام الانبیا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے برکتیں عطا فرمائے۔ اٰمین ثم اٰمین ۔