غلام مرسلین
قادری (درجۂ رابعہ جامعۃ المدینہ شاہ
عالم مارکیٹ لاہور، پاکستان)
اللہ عزوجل
قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے {وَ
مَنْ یَّشْكُرْ: اور جو شکر
اداکرے۔} یعنی جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتا ہے تووہ اپنی ذات کے بھلے کیلئے ہی شکر کرتا ہے کیونکہ شکر کرنے سے نعمت زیادہ ہوتی ہے
اوربندے کو ثواب ملتا ہے اور جو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں کی ناشکری کرے تو اس کاوبال اسی پر ہے کیونکہ
اللہ تعالیٰ اس سے اور اس کے شکر سے بے پرواہ ہے اور وہ اپنی ذات و صفات اور اَفعال میں حمد کے
لائق ہے اگرچہ کوئی ا س کی تعریف نہ کرے۔( روح البیان، لقمان، تحت الآیۃ: 12، 7 /
75، مدارک، لقمان، تحت الآیۃ: 12، ص917، جلالین، لقمان، تحت الآیۃ: 12، ص31،
ملتقطاً)
پیارے پیارے
اسلامی بھائیوں بیان کردہ آیت کریمہ کے جز کی تفسیر سے پتا چلتا کہ اگر کوئی اللہ
عزوجل کا شکر ادا نہیں کرتا تو اس کا وبال اسی کے اوپر ہو گا تو پیارے اسلامی بھائیوں
ناشکری کی مذمت احادیث میں بھی بیان ہوئی ہے تو اب آپ کی بارگاہ میں احادیث بیان کی
جاتی ہیں اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں نا شکری جیسے گناہ سے بچنے کی توفیق
عطا فرمائے
(1). حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی
عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جو تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کابھی شکر ادا نہیں کرتا
اوراللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور انہیں بیان نہ کرنا ناشکری ہے۔ (شعب الایمان، الثانی
والستون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی المکافأۃ بالصنائع، 6/516، الحدیث9119)
(2)…حضرت
حسن رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے
ہیں ، مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ
جب کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر ادا کرنے کا مطالبہ فرماتا ہے، جب
وہ شکر کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی نعمت کو زیادہ کرنے پر قادر ہے
اور جب وہ نا شکری کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے پر قادر ہے اور وہ ان کی
نعمت کو ان پر عذاب بنا دیتا ہے۔ (رسائل ابن ابی دنیا، کتاب الشکر للّٰہ عزّوجلّ،
1 / 484، الحدیث: 60)
(3)حضرت علی
رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں نعمتوں کے زوال سے بچو کیونکہ جو زائل ہو جائے وہ
پھر سے نہیں ملتا اور مزید فرماتے ہیں کہ جو تمہیں یہاں سے وہاں سے نعمتیں ملنے لگی
تو نہ شکرے بن کر ان کے تسلسل کو دور نہ کرو۔( دین و دنیا کی انوکھی باتیں ص 515)
(4)…سنن ابو
داؤد میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی
عَنْہُ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگنے کی وصیت فرمائی ’’اَللّٰہُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی
ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ‘‘ یعنی اے اللہ ! عَزَّوَجَلَّ،
تو اپنے ذکر، اپنے شکر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ (ابو داؤد، کتاب الوتر، باب فی الاستغفار، 2
/ 123، الحدیث: 1522) اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں کثرت کے ساتھ اپنا ذکر اورشکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی نعمتوں کی ناشکری کرنے سے محفوظ فرمائے ، اٰمین۔
محمد اسد
عطاری (درجۂ ثانیہ جامعۃ المدینہ شاہ
عالم مارکیٹ لاہور، پاکستان)
اللہ پاک نے انسان کو پیدا فرمایا کر انسان کے رہنے
سہنے کے لیے لا تعداد نعمتیں پیدا فرمائی اور اتنی نعمتیں پیدا فرمائی کہ انسان ان
کا شکر ادا کرنا تو دور ان کو شمار بھی نہیں کر سکتا اگر ہم اپنے دائیں ،بائیں ،اوپر، نیچے الغرض جہاں بھی دیکھیں ہمیں اللہ پاک ہی کی نعمتیں
نظر آتی ہیں لیکن کیا ہم ان نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں کہیں ناشکری تو نہیں کرتے
کیونکہ ناشکری کی مذمت قرانی ایات اور آحادیث میں مذکور ہیں۔
آئیے ہم ناشکری کی مذمت احادیث کی روشنی میں
پڑھتے ہیں۔
1: حضرت نعمان
بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد
فرمایا جو تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں
کرتا اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالی کا بھی شکر ادا نہیں کرتا
اور اللہ تعالی کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور انہیں بیان نہ کرنا ناشکری
ہے.(شعب الایمان،الثانی والستون من شعب الایمان ۔۔۔۔الخ فصل فی المکافاۃ بالمنعٔ
،514الحدیث9119)
3:
کس کو نعمت زیادہ ملے گی: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جسے شکر کرنے کی توفیق ملی
وہ نعمت کی زیادتی سے محروم نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا لَأِنْ شَكَرْتُمْ لَازِيْدَنَّكُمْ. یعنی اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں
اور زیادہ عطا کروں گا ۔جسے سے توبہ کرنے کی توفیق عطا ہوئی وہ توبہ کی قبولیت سے
محروم نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے ،وَهُوَاَلَّذِيْ يَقْبَلُ
التَّوْبَةُ عَنْ عِبَادِهِ .یعنی ۔اور وہی ہے جو اپنے بندے کی توبہ قبول فرماتا ہے.
(درمنثور، البراہیم،تحت الایۃ:8،۔5/.9)
3:
عذاب کا حقدار:حسن رضی اللہ عنہ
فرماتے ہیں مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللہ تعالی جب کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے
تو ان سے شکر ادا کرنے کا مطالبہ فرماتا ہے جب وہ شکر کریں تو اللہ تعالی ان کی نعمت کو زیادہ کرنے پر قادر ہے اور
جب اپنا شکری کریں تو اللہ تعالی ان کو عذاب دینے پر قادر ہے اور جب ان کی نعمت کو
ان پر عذاب بنا دیتا ہے۔(رسائل ابن ابی دنیا،کتاب الشکر اللہ عزوجل 1/.282،الحدیث:60)
4:
صحابی رسول کی دعا:امن ابی داؤد میں
ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ہر نماز
کے بعد یہ دعا مانگنے کی وصیت فرمائی اَلَّلهُمَّ اَعِنِّيْ عَلٰى ذِكْرِكَ وَشُكْرَكَ وَحُسْنِ
عِبَادَتِكْ.یعنی اے الله عزوجل
تو اپنے ذکر اپنے شکر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔(ابو داؤد ،کتاب الوتر ،باب فی الاستغفار
،2/.123،الحدیث1522)
5:
لوگوں کا شکر ادا کرنا:حضرت ابو ہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَايَشْكُرُ الّٰلهَ مَنْ
لَا يَشْكُرُ النَّاسَ. ترجمہ جو
لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالی کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔(سنن ابی
داؤد4/.335،حدیث4811)
پیارے اسلامی
بھائیوں اس حدیث پاک میں فرمایا گیا جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر
ادا نہیں کرتا اس لیے اگر کوئی اپنے محسن کی ناشکری کرے تو اسے مضموم سمجھا جاتا ہے
اسی لئے دنیا میں جب کوئی کسی پر احسان کرتا ہے تو ہر مذہب و ملت اور علاقہ قوم
والا اپنی تہذیب اور روایات کے مطابق مختلف الفاظ و اعمال
کی صورت میں دوسرے کا شکریہ ادا کرتا ہے اور لوگوں کے احسانات پر ان کا شکریہ ادا
کرنا شریعت کو پسند ہے جیسے کہ مذکور احادیث پاک۔
خلاصہ کلام۔ یہ
ہے کہ ہمارے حقیقی خالق و مالک رب ذوالجلال کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا ہم مسلمانوں
پر لازم ہے اگر ہم شکر ادا کرتے ہیں تو رب کریم کی خوشنودی اور جنت مل جائے گی لیکن
اگر ہم ناشکری کریں گے تو ہمیں ناشکری کے سبب عذاب نار کا حقدار ہوگے اور ذلیل و
رسوا زمانہ ہوں گے۔
اللہ پاک سے
دعا کرتے ہیں اللہ پاک ہمیں اپنا شکر گزار بندہ بنائے اور ناشکری جیسے بڑے گناہ
سے محفوظ فرمائے ۔امین
ایس پی انویسٹیگیشن گجرات مہر ریاض ناز اور ایس
ڈی پی او لالہ موسی چوہدری محمد اکرم آرائیں
سے ملاقات
پچھلے دنوں دعوت اسلامی کی مرکزی مجلس شوری کے
نگران حاجی محمد عمران عطاری دینی کاموں کے سلسلے میں پنجاب پاکستان کا دورہ کیا
جہاں آپ نے ایس پی انویسٹیگیشن گجرات مہر ریاض ناز اور ایس ڈی پی او لالہ موسی چوہدری محمد اکرم آرائیں سے ملاقات کی
۔
ملاقات میں دعوت اسلامی کی مرکزی مجلس شوری کے
نگران حاجی محمد عمران عطاری نے دعوت اسلامی کے مختلف شعبہ جات کے ذریعےدنیا بھر میں
ہونے والے دینی اور فلاحی کاموں سے آگاہ کیا ۔(پورٹ:محمد مدثر عطاری شعبہ رابطہ برائے شخصیات اراکین صوبہ
پنجاب)
شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں دعوت اسلامی کے
تحت 11مئی 2024ء بروز ہفتہ پاکستان کے شہر
لیہ میں مدنی مشورہ منعقد ہوا جس میں ڈسٹرکٹ نگران، ڈویژن اور ڈسٹرکٹ معاونت ذمہ دار اور ڈویژن فنانس ذمہ دار،سمیت مقامی مجلس کے ذمہ
دار نے شرکت کی۔
مدنی مشورے میں نگران شعبہ غلام الیاس عطاری نے ہر ہر یوسی میں مدنی قاعدہ کورس کروانے کا
ہدف اور فیضان صحابیات کی تعمیر کے حوالے سے حاضرین کی رہنمائی کی ۔
فیضان مدینہ فیصل آباد میں فیضان ابو عطار سوشل میڈیاا سٹوڈیو کا افتتاح
الحمد للہ دعوت اسلامی مختلف شعبہ جات میں دین
متین کی خدمت سر انجام دے رہی ہے جہاں دیگر
شعبہ جات ہیں ان میں سے ایک سوشل میڈیا بھی ہے عوام کا سوشل میڈیا کی طرف بڑھتے ہوئے رجہان کو مد نظر رکھتے ہوئے اس شعبے میں مزید کام میں بہتری لانے کے لیے فیضان مدینہ فیصل آباد میں نگران پاکستان مشاورت نے فیضان ابو عطار سوشل میڈیاا
سٹوڈیو کا افتتاح کیا ۔
اس سلسلے میں 11مئی2024ءبروز ہفتہ فیضان ابو عطار سوشل میڈیاا سٹوڈیو کی افتتاحی
تقریب منعقد ہوئی جس میں سوشل میڈیا میں کام کرنے والے اسلامی بھائی اور دیگر
شعبہ جات کے نگران اسلامی بھائیوں نے بھی شرکت کی۔ نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے حاضرین کو قیمتی مدنی پھولوں سے بھی نوازا اور مختلف امور پر تربیت کرتے ہوئے اسلامی بھائیوں کو ایپریسیشن سرٹیفکیٹ بھی دیے گے۔
یاد رہے :اس سٹوڈیو میں نگران پاکستان پاکستان مشاورت کے بیانات سمیت دیگر کانٹینٹس کی ریکارڈنگ ہو
گی اور اس کے علاوہ پروگرامز کی ریکاڑڈنگ بھی ہو گی ۔(رپورٹ: عبدالخالق عطاری ،کانٹینٹ:شعیب احمد عطاری)
پچھلے دنوں مرکزی جامعۃ المدینہ جہلم کے
دورةالحدیث شریف کے طلبہ کرام کے ساتھ تربیتی سیشن ہواجس میں رکن شوریٰ حاجی اسد
عطاری مدنی نےطلبہ کرام کے درمیان بزرگان دین کا احادیث طیبہ پڑھنے کے حوالے سے
ادب و احترام کے متعلق کلام فرماتے
ہوئے مجلس جامعۃ المدینہ کے تحت ہونے والے
دینی و فلاحی کاموں کے حوالے سے رہنمائی کی جبکہ دینی کتب پڑھنے اور امیر
اہلسنت کی تحریرات پڑھنے کے حوالے سے ذہن دیا۔(پورٹ: انس
عطاری معاون رکن شوری حاجی اسد عطاری،کانٹینٹ:شعیب احمد عطاری)
11مئی کو مدنی مذاکرے کا سلسلہ ، امیر اہلسنت
نے مدنی پھول ارشاد فرمائے
11مئی2024ء
کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں مدنی مذاکرے کا انعقاد
کیا گیا جس میں بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس
عطار قادری رضوی ضیائی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ
رسول کی جانب سے ہونے والے سوالات کے علم و حکمت بھرے جوابات ارشاد فرمائے۔
مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ
کیجئے:
سوال: اجتماع وغیرہ میں باادب بیٹھنے سے کیامرادہے ؟
جواب:
ایسے اندازمیں نہ بیٹھیں کہ اپنے یا کسی کے سننے میں خلل آئے ۔باتیں کرنے ،اشارے
کرنے وغیرہ سے اجتناب کریں ،یہاں ہاتھ باندھ کر بیٹھنا مرادنہیں ہے ۔موقعہ کے
مطابق ایسی پوزیشن میں بیٹھیں کہ جس میں
دین سیکھنے میں زیادہ آسانی ہو۔غیرمہذب اندازمیں نہ بیٹھیں ۔
سوال:میاں بیوی میں محبت
کیسے پیداہو ؟
جواب:میاں بیوں میں محبت
تو ایک دوسرے کی عزت کرنے سے ہی پیداہوگی ،شوہر اگرکہے کہ بیوی ہی میری عزت کرے تو ایسانہیں ہے حدیث پاک میں تو یہاں تک ہے
: أكرِمُوا
أولادَكُم و أحْسِنوا آدابَهُم یعنی اپنی اولادکی عزت کرو اورانہیں اچھےآداب سیکھاؤ ۔(سنن ابن ماجہ، 2/ 1211، رقم: 3671
) ماں باپ ،بہن بھائیوں کے
جس طرح حقوق ہیں ،اس طرح بیوی کے حقوق بھی ہیں ،بیوی بندے کی زندگی کا ساتھی ہوتی
ہے ،اس کے حقوق کا خیال رکھنا اوراس کی دل جوئی بھی ضروری ہے ،اس کی دل آزاری گناہ
اورجہنم میں لے جانے والاکام ہے۔ میاں
بیوی دونوں کودیکھیں توسسرال میں بیوی
زیادہ شفقتوں کی مستحق نظرآتی ہے ۔ہمارے ہاں بیوی اپناخاندان ،ماں باپ اوربھائی بہنیں چھوڑکر سسرال کے ہاں آتی ہے ۔اس کے لیے یہاں کا ماحول اجنبی ہوتاہے ،ماں
کی جگہ ساس اورباپ کی جگہ سسروغیرہ۔فطری طوپر جب بندہ اجنبیوں میں آتاہے تو وحشت
ہوتی ہے ،اَب اسے شفقت واپنائیت کی زیادہ ضرورت ہے ۔ اگراس پر رعب ڈال کر دبا دینے
کی سوچ ہوتوخرابی ہوتی ہے اور گھرٹوٹ جاتے ہیں ۔وہ شوہرخوش نصیب ہے جسے اپنی بیوی سے
واقعی محبت ہو ،بیوی کے لیے شوہرکی خدمت کی بہت تاکیدہے ۔
سوال: والدین بچے کی عزت کس طرح کریں ؟
جواب: حدیث پاک میں اپنی اولادکی عزت کرنے اوراچھے
آداب سکھانے کا حکم ہے ۔ظاہرہے جب ہم بچے کی عزت کریں گے تو بچہ بھی ہماری عزت کرے گا ،آپ اس کی عزت کریں تو اسے
عزت کرنا آئے گا ،عزت کس طرح کی جاتی ہے وہ سیکھے گا ۔ آپ بچوں کو تُو کہیں گے تو
وہ بھی آپ کو تُو بولے گا۔آپ میں ادب زیادہ ہے ،آپس میں اسے رائج کرنا چاہئے ۔
سوال: نوحہ کیا ہے،اس کا شرعی حکم
کیاہے ؟
جواب: کسی کی وفات پر جھوٹی تعریفیں کرکے رونا نوحہ
کہلاتاہے جو کہ گناہ ہے ۔ صدرُالشّریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ
القَوی فرماتے
ہیں: نوحہ یعنی میّت کے اوصاف مبالغہ کے ساتھ بیان کرکے آواز سے رونا جس
کو بَین کہتے ہیں بِالاجماع حرام ہے ۔(بہارِ شریعت،1/854)
سوال:کیا ذیقعدہ شریف میں نفلی روزے
رکھنے کی فضیلت ہے ؟
جواب: جی ہاں! حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے اللہ پاک کے پیارے آخری نبی محمد عربی
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے : جس نے ماہ حرام میں 3دن جمعرات ،جمعہ اور
ہفتہ کے دن روزے رکھے اسکے لئے دو سال کی عبادت کا ثواب لکھا جائے گا۔ ( معجم الاوسط طبرانی ،1/
485،حدیث1786) یہاں ماہ حرام سے یہی 4 مہینے
ذیقعدہ ،ذوالحجہ،محرم شریف اور رجب شریف مراد ہیں ۔ (رسالہ کفن کی واپسی صفحہ 12،13)
سوال:جبل احد اور دنیا کا
پہلا پہاڑ کہاں واقع ہیں ؟
جواب:جبل احدشریف مدینہ شہر میں واقع ہےاوردنیا کا پہلاپہاڑ جبل
قیس ہے اوریہ مکہ مکرمہ میں واقع ہے ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”جہنَّم کیا
ہے؟“ پڑھنے یاسُننے والوں کوامیراہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب: یاربَّ المصطفٰے! جو کوئی 21 صفحات کا
رسالہ ”جہنَّم کیا
ہے؟“ پڑھ یا سُن لے اُسے
جھنَّم کے عذاب سے بچا اور اُس کو ماں باپ سمیت جنَّت الفردوس میں بےحساب داخلہ
عطا فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔
محمد معین
عطاری (درجۂ رابعہ جامعۃ المدینہ شاہ
عالم مارکیٹ لاہور، پاکستان)
میرے میٹھے
اور پیارے پیارے اسلامی بھائیوں شکر ادا کرنے کے بے ہد فضائل و برکات ہیں ہمیں ہر
وقت اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اللہ کے بندوں کا بھی شکر ادا کرنا چاہیے۔میرے
میٹھے اور پیارے پیارے اسلامی بھائیوں اس دور میں ناشکری عام ہو گئ ہے اب دیکھا گیا
ہے کہ لوگ دوسرے لوگوں کا تو دور اللہ کا
شکر ادا نہیں کرتے بلکہ اس کے برعکس نا
شکری اور گناہ پہ گناہ کیے جا رہیں ہیں۔
پیارے اسلامی
بھائیوں ناشکری کی مذمت احادیث میں بے شمار جگہ پر بیان کی گئ ہے چنانچہ ہم آپ کے
سامنے چند احادیث بیان کرنے کی سعادت
حاصل کرتے ہیں۔
(1)-حضرت
نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے; حضورِ اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا; ’’جو
تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کابھی شکر ادا نہیں کرتا
اوراللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور انہیں بیان نہ کرنا ناشکری ہے”۔ (شعب الایمان، الثانی
والستون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی المکافأۃ بالصنائع، 6 / 516، الحدیث:9119)
(2)-حضرت
کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی بندے پر
انعام کرے پھر وہ اس نعمت کا اللہ تعالیٰ کے لئے شکر ادا کرے اور ا س نعمت کی وجہ
سے اللہ تعالیٰ کے لئے تواضع کرے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں اس نعمت سے نفع دیتا
ہے اور اس کی وجہ سے اس کے آخرت میں درجات بلند فرماتا ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ
نے دنیا میں انعام فرمایا اور اس نے شکر ادا نہ کیا اور نہ اللہ تعالیٰ کے لئے اس
نے تواضع کی تو اللہ تعالیٰ دنیا میں اس نعمت کا نفع اس سے روک لیتا ہے اور اس کے
لئے جہنم کا ایک طبق کھول دیتا ہے ،پھر اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اسے (آخرت میں
) عذاب دے گا یا اس سے در گزر فرمائے گا۔(رسائل ابن ابی الدنیا، التواضع والخمول،
3 / 555، رقم: 93)
(3)-حضرت
حسن رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے
ہیں ، مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ “اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر ادا کرنے کا مطالبہ
فرماتا ہے، جب وہ شکر کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی نعمت کو زیادہ کرنے پر قادر ہے
اور جب وہ نا شکری کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے پر قادر ہے اور وہ ان کی
نعمت کو ان پر عذاب بنا دیتا ہے”۔ (رسائل ابن ابی دنیا، کتاب الشکر للّٰہ عزّوجلّ،
1 / 484، الحدیث: 60)
(4)-سرکارِمدینہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بار عید کے روز عید گاہ تشریف لے جاتے ہوئے خواتین کی
طرف سے گزرے تو فرمایا: ''اے عورَتو! صَدَقہ کیا کروکیونکہ میں نے اکثر تم کو
جہنَّمی دیکھا ھے ''خواتین نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
اس کی وجہ؟فرمایا:''اس لئےکہ تم لعنت بہت کرتی ھو اور اپنے شوہر کی ناشکری کرتی ھو”۔(صحیح البخاری ج۱ /ص123 /حدیث304)بحوالہ سُنّتِ نکاح تذکرہ امیرِاھلسُنّت
قسط نمبر3صفحہ نمبر83ناشر مکتبۃ المدینہ کراچی۔
(5)-حضرت سیِّدُنامُغِیرہ
بن شعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:جو تجھے نعمت عطا کرے تُو اس
کا شکر ادا کر اور جو تیرا شکریہ ادا کرے
تُو اُسے نعمت سے نواز کیونکہ ناشکری سے نعمت باقی نہیں رہتی اور شکر سے نعمت کبھی
زائل نہیں ہوتی۔ (دین و دنیا کی انوکھی باتیں،ص514)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی اپنے فضل سے ہمیں کثرت کے ساتھ اپنا ذکر اورشکر کرنے کی توفیق عطا
فرمائے اور اپنے لوگوں کا بھی شکر کرنے
والا بناۓاور اپنی نعمتوں کی ناشکری کرنے سے محفوظ رکھے اور ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ تعالی کی نعمتوں
کا زیادہ سے زیادہ شکر ادا کریں ۔(آمین ثم
آمین)
حافظ مبین
ضمیر عطّاری ( جامعۃ المدینہ شاہ عالم مارکیٹ لاہور، پاکستان)
میرے پیارے
اور محترم اسلامی بھائیوں نا شکری کی مذمّت کے بارے میں قرآن پاک اور احادیث میں
بہت سخت وعیدیں آئی ہیں تو میں آپ کو احادیث کی روشنی میں اس کی وعیدیں سناتا ہوں
میرے پیارے اور محترم اسلامی بھائیوں بسا اوقات ہم نا شکری کر رہے ہوتے ہیں اور ہمیں
پتہ نہیں ہوتا تو میں آپ کو اس کی مختلف صورتیں بتاتا ہوں جیسا کہ تمام اعضاء کو
اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کے کاموں میں استعمال کریں اگر ان اعضاء سے نا
فرمانی والے کام کریں تو یہ نا شکری کہلائے گی ، اسی طرح مال اسباب میں نا شکری کی
صورت : جیسے
کسی کے مال و دولت دیکھ کر یہ سوچنا کہ اس کے پاس اتنا مال و دولت ہے اور میں دو
وقت کی بمشکل روٹی کماتا ہو یا یہ کہنا کہ فلاں کے پاس عالیشان عمارت ہے اور میرے
پاس دو کمرے اور وہ بھی ٹوٹے پھوٹے ہیں اسطرح دل میں گناہ کی نیت کرنا یہ بھی نا
شکری کہلائے گی اسطرح لوگوں کے پاس اتنی جائیداد ہوتی ہے اگر حالات کے متعلق پوچھا
جائے تو کہتے ہیں کہ ہمیں اللہ نے کچھ نہیں دیا تو یہ بھی نا شکری کہلائے گی تو میرے
پیارے اور محترم اسلامی بھائیوں اب نا شکری کی مذمّت احادیث کی روشنی بیان کرتے ہیں
حدیث
نمبر 1حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی
نعمتوں کا شکر بیان کرنا شکر ہے اور نعمتوں کو بیان نہ کرنا نا شکری ہیں اور جو کم
نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔حوالہ (
شعب الایمان رقم الحدیث 4419 مسند احمد جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 278)
وضاحت: میرے پیارے اور محترم اسلامی بھائیوں دیکھا آپ نے کہ جو شخص کم نعمتوں کا
شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا شکر ادا بھی نہیں کر سکتا اس حدیث پاک سے
معلوم ہوا کہ اگر ہمیں کوئی چھوٹی سی بھی نعمت ملے تواس کا بھی شکر ادا کرنا چاہیے
کیونکہ جب ہم چھوٹی نعمتوں کا شکر ادا کریں گے تو ہمیں اللہ پاک بڑی نعمتوں سے
نوازے گا
حدیث
نمبر 2 :حضرت انس بن مالک رضی اللہ
عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ جس شخص نے دین
میں اپنے سے بلند مرتبہ شخص کو دیکھا اور دنیا میں اپنے سے کم مرتبے والے شخص کو دیکھا
تو اللہ تعالیٰ اس کو صابر و شاکر لکھ دیتا ہے اور جس نے دنیا میں اپنے سے بلند مرتبے والے شخص کو دیکھا اور دین میں اپنے سے کم مرتبے والے کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ اس کو صابر و شاکر نہیں لکھتاحوالہ(شعب
الایمان رقم الحدیث 4575 )اور یہ حدیث تبیان القرآن کی جلد نمبر 6 اور صفحہ نمبر 150 پر موجود ہے۔ وضاحت:
حدیث
نمبر 3:حضرت سیدنا ابنِ عباس رضی
اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
جب کسی شخص کے ساتھ بھلائی کرو تو
دوسرا اس کا شکریہ ادا کرے اور اگر شکریہ
ادا نہ کرے تو بھلائی کرنے والا دوسرے شخص کے خلاف دعا کر دے تو وہ بد دعا قبول ہو
جاتی ہے حوالہ حدیث نمبر 3 : (کتاب کا نام۔ دین دنیا کی انوکھی باتیں جلد نمبر 1
صحفہ نمبر 517 اور فضلہ الشکر ما ذکرہ من کفر صنیعتہ 1 /70/ حدیث نمبر 103)
وضاحت : میرے
پیارے اور محترم اسلامی بھائیوں اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی شخص نے ہمارے
ساتھ اچھا سلوک کیا ہیں تو ہمیں اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور اپنے رب تعالیٰ کا ہر حال میں شکر ادا کرنا چاہیے۔ حدیث نمبر 4: حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی کہ اللہ تعالیٰ جب
کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو اس سے شکر کا سوال کیا جاتا ہے اگر وہ شکر کریں
تو وہ ان کی نعمت کو زیادہ کر دیں گا اور اگر نا شکری کرے تو وہ ان کو عذاب دینے
پر قادر ہے اور ان کی نعمت کو ان پر عذاب بنا دیتا ہے حوالہ ( رسائل ابن ابی دنیا
جلد نمبر 3 جز 2 رقم الحدیث 60 )۔ وضاحت:میرے پیارے اور محترم اسلامی بھائیوں دیکھا آپ نے کہ ہم اگر ایک نعمت
کا شکر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں اور زیادہ دیں گا دیکھو شکر ادا کرنے میں
بھی ہمارا ہے فائدہ ہے کیونکہ اگر ہم ایک کا شکر ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں
اور زیادہ دیں گا تو ہمیں چاہیے کہ ہم ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں آمین
ثم آمین
محمد اسامہ عطاری (درجۂ خامسہ
جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
ناشکری اللہ
عزوجل کو نآپسند یدہ ہے اور اللہ عزوجل کی ناراضگی کا سبب ہے۔ناشکری بہت بری عادت
ہے اور ایک بڑا گناہ ہے۔جس طرح شکر گزاری پر نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح
ناشکری پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت عذاب اور سزا بھی دی جاتی ہے۔اس کے بارے میں
قرآن و حدیث میں کئی وعیدیں آئی ہیں اور ساتھ ہی اس کے کئی نقصان بھی ہیں احادیث
مبارکہ کی روشنی میں ناشکری کی مذمت بیان کرنے کی کوشش کروں گا پڑھیے اور علم و
عمل میں اضافہ کیجئے۔
1) لوگوں کی ناشکری:روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو لوگوں کا شکریہ ادا نہ کرے وہ اللّٰه کا شکریہ
بھی ادا نہ کرے گا ۱؎ (احمد،ترمذی)۔ حدیث کی
شرح: سبحان اللّٰه! کتنا عالی مقام ہے،بندوں کا ناشکرا رب کا بھی
ناشکرا یقینًا ہوتا ہے،بندہ کا شکریہ ہر طرح کا چاہیے دلی زبانی،عملی یوں ہی رب کا
شکریہ بھی ہر قسم کا کرے،بندوں میں ماں بآپ کا شکریہ اور ہے،استاد کا شکریہ کچھ
اور شیخ بادشاہ کا شکریہ کچھ
اور۔(کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 , حدیث نمبر:3025)
2)تھوڑی
نعمتوں کا ناشکر:حضرت نعمان بن بشیر
رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جو تھوڑی
نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کابھی شکر ادا نہیں کرتا
اوراللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور انہیں بیان نہ کرنا ناشکری ہے۔ (شعب الایمان، الثانی
والستون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی المکافأۃ بالصنائع،6/516 الحدیث: 9119)
3)
ناشکری کا انجام:حضرت حسن رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ،
مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب
کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر ادا کرنے کا مطالبہ فرماتا ہے، جب وہ
شکر کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی نعمت کو زیادہ کرنے پر قادر ہے
اور جب وہ نا شکری کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے پر قادر ہے اور وہ ان کی
نعمت کو ان پر عذاب بنا دیتا ہے۔ (رسائل ابن ابی دنیا، کتاب الشکر للّٰہ عزّوجلّ،
1 / 484، الحدیث: 60)
4)
ناشکر کے لیے جہنم کا طبق: حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :اللہ
تعالیٰ دنیا میں کسی بندے پر انعام کرے پھر وہ اس نعمت کا اللہ تعالیٰ کے لئے شکر
ادا کرے اور ا س نعمت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے لئے تواضع کرے تو اللہ تعالیٰ اسے
دنیا میں اس نعمت سے نفع دیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے آخرت میں درجات بلند
فرماتا ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انعام فرمایا اور اس نے شکر ادا نہ کیا
اور نہ اللہ تعالیٰ کے لئے اس نے تواضع کی تو اللہ تعالیٰ دنیا میں اس نعمت کا نفع
اس سے روک لیتا ہے اور اس کے لئے جہنم کا ایک طبق کھول دیتا ہے ،پھر اگر اللہ تعالیٰ
چاہے گا تو اسے (آخرت میں ) عذاب دے گا یا اس سے در گزر فرمائے گا۔(رسائل ابن ابی
الدنیا، التواضع والخمول، 3 / 555، رقم: 93)
5)
نا شکری سے رزق کا چلے جانا:ابن
ماجہ نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی
اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم مکان میں تشریف لائے، روٹی کا ٹکڑ آپڑا ہوا دیکھا، اس
کو لے کر پونچھا پھر کھالیا اور فرمایا: ’’عائشہ! اچھی چیز کا احترام کرو کہ یہ چیز
(یعنی روٹی) جب کسی قوم سے بھاگی ہے تو لوٹ کر نہیں آئی۔‘‘ (2) یعنی اگر ناشکری کی وجہ سے کسی
قوم سے رزق چلا جاتا ہے تو پھر وآپس نہیں آتا۔( ’’ سنن ابن ماجہ ‘‘ ،کتاب الأطعمۃ،باب النہی عن إلقاء الطعام، الحدیث: 3353 ،ج4 ،ص49)
6)ناشکری
نے ہلاک کر ڈالا:حضرت سید نا ابو
حازم عَلَيْهِ رَحْمَةُ اللهِ الاكرم فرماتے ہیں: الله عَزَّ وَ جَلَّ کا مجھ سے
دنیا کو روک لینا مجھے دنیا عطا کرنے سے زیادہ بڑی نعمت ہے کیونکہ میں نے ایک ایسی
قوم دیکھی جسے اللہ عزوجل نے نعمتیں عطا فرمائیں تو وہ (ناشکری کی وجہ سے ) ہلاک
ہو گئی(حلية الأولياء ، الرقم 240سلمة بن دينار الحديث : 3925، ج 3، ص270)
اللہ تعالیٰ ہمیں شکر ادا کرنے اور ناشکری سے بچنے کی
توفیق عطاء فرمائے۔اٰمین بجاہ خاتم النبین.
عبد الرحیم
عطّاری (درجۂ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
ہر دور میں
اللہ تعالیٰ اجتماعی اور انفرادی طور پر مسلمانوں کو طرح طرح کی نعمتوں سے نوازتا
ہے، مصائب و آلام سے نجات دے کر راحت و آرام عطا کرتا ہے۔ جب مسلمان اللہ تعالیٰ کی
ناشکری کرتے، یادِ خدا سے غفلت کو
اپنا شعار بنا لیتے اور اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل میں مصروف ہو جاتے ہیں اور اپنے برے اعمال کی کثرت کی وجہ سے خود کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا نا اہل ثابت
کر دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے اپنی دی ہوئی نعمتیں وآپس لے لیتا
ہے۔ عالمی سطح پر عظیم سلطنت رکھنے کے بعد مسلمانوں کا زوال، عزت کے بعد ذلت،
فتوحات کے بعد موجودہ شکست وغیرہ اس چیز کی واضح مثالیں موجود ہیں۔چنانچہ قرآن میں
بھی ناشکری کی مذمت کی گئی ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :لَبِنْ
شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيد(پ،13۔س،ابراھیم۔آیت:7) ترجمه کنز العرفان: اگر
تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا اور اگر تم ناشکری کرو
گے تو میرا عذاب سخت ہے۔ اور احادیث مبارکہ میں بھی ناشکری کی مذمّت بیان کی گئی
ہے
(1)
نعمت کو بیان نہ کرنا حضرت نعمان
بن بشیر رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ سے روایت ہے۔حضورِ اقدس صَلَّى اللهُ
تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ”جو تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا
نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں
کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان
کرنا شکر ہے اور انہیں بیان نہ کرنا ناشکری ہے۔ (شعب الایمان،الثاني والستون من
شعب الايمان --- الخ، فصل في المكافأة بالصنائع، 6/ 516، الحدیث: 9119)
(2)نعمت
کا عذاب بن جانا حضرت حسن رَضِيَ
اللهُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ، مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی
قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر ادا کرنے کا مطالبہ فرماتا ہے ، جب وہ شکر
کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی نعمت کو زیادہ کرنے پر قادر ہے اور جب وہ نا شکری کریں
تو اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے پر قادر ہے اور وہ ان کی نعمت کو ان پر عذاب بنا دیتا
ہے۔( رسائل ابن ابی دنیا،کتاب الشكر الله عز وجل، 1/ 484، الحدیث: 69)
(3)
نعمتوں کا احترام کیا کروابن ماجہ
نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے روایت کی، کہ نبی کریم صلی اللہ
تعالیٰ علیہ وسلم مکان میں تشریف لائے ، روٹی کا ٹکڑا پڑا ہوا دیکھا، اس کو لے کر
پونچھا پھر کھا لیا اور فرمایا: ”عائشہ ! اچھی چیز کا احترام کرو کہ یہ چیز (یعنی
روٹی) جب کسی قوم سے بھاگی ہے تو لوٹ کر نہیں آئی ۔ یعنی اگر ناشکری کی وجہ سے کسی
قوم سے رزق چلا جاتا ہے تو پھر وآپس نہیں آتا۔(سنن ابن ماجه ، كتاب الأطعمة، باب
النهي عن إلقاء الطعام، الحديث:3353۔ج4۔ص49)
(4)ایک
نعمت ساری نیکیاں لے جائے گی حضرت
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ سرکار والا تبار ، ہم بے
کسوں کے مددگار ، باذن پروردگار دو عالم کے مالک و مختار عَزَّوَجَلَّ وصلى الله
تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:
قیامت کے دن
نعمتیں نیکیوں اور برائیوں کے ساتھ لائی جائیں گی تو اللہ تعالیٰ اپنی ایک
نعمت سے ارشاد فرمائے گا :” اس کی نیکیوں میں سے اپنا حق لے لے تو وہ اس کے لئے کوئی
نیکی باقی نہیں چھوڑے گی۔(الفردوس بماثور الخطاب، الحديث : 8763، ج 5، ص 462)
(5)خدا
عَزَّ وَجَلَّ کا پیارا بندہ اور نا پسندیدہ بندہ:حضرت سید نا بکر بن عبد الله رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنه
مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ جس کو خیر سے نوازا جائے اور اس پر اس کا اثر دکھائی دے
تو اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا پیارا اور اس کی نعمت کا چرچا کرنے والا کہا جاتا ہے
اور جس کو خیر عطا کی جائے لیکن اس پر اس کا اثر دکھائی نہ دے تو اسے الله عَزَّ
وَ جَل کا ناپسندیدہ اور اس کی نعمتوں کا دشمن کہا جاتا ہے۔(حلية الأولياء ، الرقم
٢٤٠ سلمة بن دينار الحديث : 3925، ج 3،ص27 )
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ناشکری سے بچاتے ہووے اپنا مطیع و فرمانبردار اور شکر گزار بندہ بنائے آمین بجاہ النبی الامین صلی
اللہ علیہ وسلم
میٹھے میٹھے
اسلامی بھائیوں جہاں احادیث کریمہ میں شکر کے فضائل آے ہیں وہاں ناشکری کی مذمت پر
احادیث کریمہ آئی ہیں آئیے اب ہم ناشکری کی مذمت پر احادیث کریمہ پڑھتے ہیں
1- حضرت سیدنا
امام حسن بصری رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ " جب اللہ
پاک کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر کا مطالبہ فرماتا ہے _اگر وہ اس
کا شکر کریں تو اللہ پاک انہیں زیادہ دینے پر قادر ہے اور اگر ناشکری کریں تو انہیں
عذاب دینے پر بھی قادر ہے _وہ اپنی نعمت کو ان پر عذاب سے بدل دیتا ہے(شعب الإيمان
للبيھقی، باب فی تعدید نعم اللہ، الحدیث :4536ج4،ص 127.)
2- حضرت سیدنا
عبد اللہ بن عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت
سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ علیہ جب اللہ پاک کی کسی نعمت کو دیکھتے تو یہ
دعا پڑھنے سے پہلے اس سے نگاہ کو نہ پھیرتے :اے اللہ پاک میں تیری نعمت کو ناشکری
سے بدلنے یا اس کی معرفت کے بعد اس کا انکار کرنے یا اس کو بھلا کر اس کی تعریف نہ
کرنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں _،،(شعب الإيمان للبيھقی، باب فی تعدید نعم اللہ،
الحدیث :4545،ج4، ص129.
3- حضرت سیدنا
کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ پاک دنیا میں جس بندے کو اپنی کوئی نعمت عطا فرمائے، پھر وہ اس پر اللہ پاک کا شکر ادا کرےاور اس کے سبب
اللہ پاک کیلئے تواضع کرے تو اللہ پاک دنیا میں اس کو اس نعمت کا نفع عطا فرمائے
گا اور اس کی وجہ سے آخرت میں اس کا درجہ بلند فرمائے گا اور اللہ پاک دنیا میں کسی
بندے کو نعمت عطا کرے لیکن وہ نہ تو اس پر اللہ کا شکر ادا کرے اور نہ ہی اس کے
سبب اللہ پاک کیلئے تواضع کرے تو اللہ پاک دنیا میں اسے نہ صرف اس کے نفع سے محروم
کردے گا بلکہ اس کیلیے آک کا ایک طبقہ (درجہ) کھول دے گا اگر چاہے گا تو اسے عذاب
میں مبتلا فرمائے گا اور چاہے گا تو معاف فرمادے گا ۔ (شکر کے فضائل ص 103)
4 -امیرالمؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا رضی اللہ عنہ نے فرمایا نعمتوں
کے زوال سے بچو کہ جو زائل ہوجاے وہ پھر سے نہیں ملتی۔مزید فرماتے ہیں:جب تمہیں یہاں
وہاں سے نعمتیں ملنے لگیں تو ناشکرے بن کر ان کے تسلسل کو خود سے دور نہ کرو۔(دین
ودنیا کی انوکھی باتیں، ص515)
5- ام
المؤمنين حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، تاجدار مدینہ صلی
اللہ علیہ والہ وسلم اپنے مکان عالیشان میں تشریف لائے، روٹی کا ٹکڑا پڑا
ہوا دیکھا، اس کو لے کر پونچھا پھر کھا لیا فرمایا، عائشہ (رضی اللہ عنہا) اچھی چیز
کا احترام کرو کہ یہ چیز (یعنی روٹی) جب کسی قوم سے بھاگی ہےلوٹ کر نہیں آئی ۔(سنن
ابن ماجہ کتاب الاطعمۃ، باب النھی عن القاء الطعام، الحديث 3353،ج2،ص29) یعنی اگر
ناشکری کی وجہ سے کسی قوم سے رزق چلا جاتا ہے تو پھر وآپس نہیں آتا ۔
6- حضرت سیدنا
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جو تجھے نعمت عطا کرے تو اس کا شکر ادا کر
اور جو تیرا شکریہ ادا کرے تو اسے نعمت سے نواز کیونکہ ناشکری سے نعمت باقی نہیں
رہتی اور شکر سے نعمت کبھی زائل نہیں ہوتی ۔(دین و دنیا کی انوکھی باتیں ص512)
7_رسول اللہ
صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جہنم میں عورتوں کو بکثرت دیکھا۔یہ
سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم!
اس کی کیا وجہ ہے کہ عورتیں بکثرت جہنم میں نظر آئیں۔تو نبی پاک علیہ السلام نے
فرمایا عورتوں میں دو بری خصلتوں کی وجہ سے ۔ایک تو یہ کہ عورتیں دوسروں پر بہت زیادہ
لعن طعن کرتی رہتی ہیں دوسری یہ کہ عورتیں اپنے شوہروں کی ناشکری کرتی رہتی ہیں
چنانچہ تم عمر بھر ان عورتوں کے ساتھ اچھے سے اچھا سلوک کرتے رہو ۔لیکن اگر کبھی ایک
ذرا سی کمی تمھاری طرف سے دیکھ لیں گی تو یہی کہیں گی کہ میں نے کبھی تم سے بھلائی
دیکھی ہی نہیں ۔(صحیح البخاری، کتاب الایمان ۔21-باب کفران العشیرو کفر دون کفر،
رقم 29،ج١،ص 23وایضا فی کتاب النکاح 89،باب کفران العشیرو وھو الزوج الخ، رقم
5191،ج3)
8- سرور کونین
صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک بار عید کے روز عید گاہ تشریف لے جاتے ہوئے خواتین
کی طرف سے گزرے تو فرمایا :"اے عورتوں !صدقہ کیا کرو کیونکہ میں نے اکثر تم
کو جہنمی دیکھا ہے"خواتین نے عرض کی.: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
اس کی وجہ؟ فرمایا.:"اس لیے کہ تم لعنت بہت کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔(صحیح البخاری ج1 ص123حدیث303 ) بحوالہ سنت نکاح
تذکرہ امیر اھلسنت قسط نمبر3 صفحہ نمبر83ناشر مکتبہ المدینہ کراچی۔
پیارے اسلامی
بھائیوں ناشکری باعث ہلاکت ہے........ ناشکری
بے برکتی کا سبب ہے...... ناشکری نعمتوں میں رکاوٹ ہے...... ناشکری کرنے والا اللہ
والا نہیں ہوسکتا.......... ناشکری رب کی نافرمانی ہے........ ناشکری نعمت کو ختم
کرنے کا سبب ہے........... ناشکری کرنے سے رب ناراض ہوتا ہے ۔
اللہ پاک کی
بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو ناشکری سے بچائے اور اللہ پاک ہمیں اپنا شکر گزار بندہ بنائے
Dawateislami