حضور کی
اللہ پاک سے محبت از بنتِ فیصل مجید،بہار مدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
اللہ پاک نے
اپنے محبوب،حضرت محمد ﷺ کو تمام مخلوقات میں سب سے کامل، با کمال اور محبوب بنایا۔آپ کی ذاتِ مبارکہ اخلاق و کردار،عبادت و بندگی اور
محبتِ الٰہی کا روشن مینار ہے۔آپ کی پوری
زندگی اللہ پاک کی محبت،رضا اور قرب کے حصول کے لیے وقف تھی۔
محبتِ الٰہی
وہ نعمت ہے جو صرف خاص بندوں کو نصیب ہوتی ہے،مگر حضور کی محبت سب سے اعلیٰ و کامل تھی۔آپ کا دل،روح اور وجود سراپا عشقِ الٰہی کا مظہر
تھا۔آپ نے نہ صرف خود اللہ پاک سے بے پناہ محبت کی بلکہ امت کو بھی یہی سبق دیا
کہ حقیقی زندگی اللہ پاک کی رضا میں ہے۔
قرآنِ پاک سے محبتِ رسول کی
گواہی:
قرآنِ کریم میں
اللہ پاک فرماتا ہے:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ
اللّٰهُ (پ3،الِ
عمرٰن:31)ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ
لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست
رکھے گا۔
یہ آیت ظاہر
کرتی ہے کہ اللہ کی محبت حضور کی اتباع سے
حاصل ہوتی ہے۔اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ خود حضور اللہ کے سب سے محبوب بندے ہیں جن کی اطاعت
محبتِ الٰہی کا ذریعہ ہے۔
عبادت میں محبت کا اظہار:
رسولِ اکرمﷺ کی عبادتیں آپ کے عشقِ الٰہی کی روشن دلیل ہیں۔آپ راتوں کو طویل قیام فرماتے،یہاں تک کہ قدم
مبارک سوج جاتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر
اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا
میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!
(بخاری،3/329 ،حدیث:4837)
یہ جملہ محبت،شکر
اور بندگی کا حسین امتزاج ہے۔آپ کی عبادتیں
محض فرض کی ادائیگی نہیں بلکہ عشقِ الٰہی کی زبان تھیں جو شکر اور قربِ الٰہی کی
تڑپ سے لبریز تھیں۔
ذکر و دعا میں محبتِ الٰہی:
حضور کے ذکر میں
بھی محبت جھلکتی تھی۔آپ ہر حالت میں اپنے
رب کو یاد کرتے۔ کھانا،سونا،جاگنا،سفر یا جنگ ہر لمحہ زبان پرالحمد للہ،سبحان اللہ اور اللہ اكبر کے
کلمات جاری رہتے۔آپ کی دعائیں بھی محبتِ
الٰہی کا مظہر تھیں۔اکثر دعاؤں میں آپ اللہ پاک کی رضا اور قرب طلب فرماتے۔چنانچہ مشکاۃ شریف میں ہے کہ نبیِ کریم
ﷺ جب تلبیہ سے فارغ ہوتے تو اللہ پاک سے اس کی رضا اور جنت کا سوال کرتے اور اس کی
رحمت کے ذریعے آگ(جہنم)سے معافی(پناہ)مانگتے تھے۔(مشکاۃ المصابیح،1/474،حدیث: 2552)
مشکلات میں صبر و محبت:
حضور کی محبت
صرف خوشی تک محدود نہ تھی بلکہ آزمائش کے وقت بھی نمایاں رہی۔ مکے میں ظلم برداشت
کیا،طائف میں پتھروں سے زخمی کیے گئے،مگر زبانِ مبارک پر شکوہ نہ آیا۔آپ نے فرمایا: اللّٰهُمَّ
اهْدِ قَوْمِیْ فَإِنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَاے اللہ!میری
قوم کو ہدایت دے،وہ نہیں جانتے۔(الشفا،1/ 105)
یہ کلمات اس
کامل محبت کا ثبوت ہیں جو نفرت کے جواب میں بھی خیر خواہی بن جاتی ہے۔
توکل و رضا کی شان
رسول اللہﷺ ہمیشہ اللہ پاک پر بھروسا کرتے۔جب ہجرت کے وقت
غارِ ثور میں دشمن قریب پہنچے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گھبرا گئے۔آپ نے فرمایا:لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ
مَعَنَاۚ-(پ10، التوبۃ:40)ترجمہ: غم نہ کھا
بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
یہ یقین اور
توکل بھی محبتِ الٰہی کی ہی ایک صورت ہے۔
نتیجہ:
نبیِ کریمﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ اللہ پاک کی محبت اور رضا
کا آئینہ ہے۔آپ نے امت کو سکھایا کہ سچی
محبت صرف زبانی نہیں،بلکہ اطاعت،عبادت،صبر اور شکر میں ظاہر ہوتی ہے۔
حضور کی محبتِ الٰہی نے انسانیت کو یہ سبق دیا کہ
زندگی کی اصل کامیابی اللہ پاک کی رضا میں ہے اور محبوبِ الٰہی وہی بندہ ہے جو
اپنے رب کی اطاعت میں خوش رہتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم بھی حضور کی سیرت کو اپنائیں اور اللہ پاک کی سچی محبت
حاصل کریں، کیونکہ حضور ہی وہ در ہیں جہاں
سے محبتِ الٰہی کا نور نصیب ہوتا ہے۔اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنَا مَحَبَّتَكَ وَ مَحَبَّةَ
حَبِیبِكَ مُحَمَّدٍ،وَ اجْعَلْنَا مِنَ الْمُتَّبِعِینَ لَهُ۔آمین
Dawateislami