حضور کی اللہ پاک سے محبت از بنتِ طارق محمود،بہار مدینہ تلواڑہ مغلاں
سیالکوٹ
حضور اکرم ﷺ کی
عبادات آپ ﷺ کی اللہ پاک سے محبت کی زندہ دلیل ہے۔ آپ ﷺ راتوں کو قیام فرماتے،طویل
نوافل پڑھتے،یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک میں ورم آ جاتا۔جب صحابہ کرام علیہم
الرضوان نے عرض کی:یا رسول اللہ! اللہ پاک
نے تو آپ کے سبب آپ کے اگلوں پچھلوں کے گناہ معاف فرما دیئے ہیں،پھر اتنی محنت کیوں؟
تو آپ نے فرمایا: أَفَلَا اُحِبُّ
اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا
میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)
پیغامِ الٰہی کی رسائی:
آپ نے اللہ پاک
کا پیغام دنیا تک پہنچایا اور اللہ
پاک کے احکام و فرامین کو امانت داری سے بیان
کیا۔یہ عمل اللہ پاک کی محبت کا واضح ثبوت
ہے۔
رحمۃ للعلمین:
اللہ پاک نے
حضور ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور آپ کی شخصیت میں یہ رحمت
اللہ پاک کی محبت کی ہی عکاسی کرتی ہے۔
اطاعت کا عمل:
آپ نے اپنی
زندگی کے احکام کو ترجیح دی اور ہر لمحہ اللہ پاک سے جڑے رہے۔
خالق کی طرف کشش:
خدا جس کی مختلف مذاہب،مطلب،تعبیریں اور
تصورات ہیں اس کی طرف انسانی روح کی شدید کشش یہ عشقِ حقیقی کہلاتی ہے۔مختصر یہ کہ
آقا ﷺ کی محبتِ الٰہی خدا سے سچی گہری اور مکمل محبت ہے۔جو انسان کو اس کی طرف
مکمل طور پر متوجہ کرتی ہے اور وہ اپنی ذات کو خدا کے لیے وقف کر دیتا ہے ۔
آپ ﷺ سے محبت کمالِ ایمان:
حضرت ابو ہریرہ
رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے رسول ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص
کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کی جان، اس کی اولاد اور تمام انسانوں سے
زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔(بخاری،1/17،حدیث: 15)
حضرت انس بن
مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:حضور ﷺ نے فرمایا: جس شخص میں تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کی حَلَاوَت
پا لے گا:
( 1) تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ پاک اور اس کے
رسول سے محبت کرتا ہو ۔
(2)اللہ پاک
ہی کے لئے کسی سے محبت کرے۔
(3) کفر کی
طرف لوٹنے کو ایسابرا جانے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔
( مسلم
، ص47 ، حدیث:165)
آخر میں اللہ
پاک سے دعا ہے کہ ہمیں آقا ﷺ کی محبت عطا فرمائے،ان کی یاد میں تڑپنا نصیب فرمائے،ہم
سب کو عشق ِرسول نصیب فرمائے اور ہمارے دلوں میں خوفِ خدا اور عشقِ مصطفےٰ کے
علاوہ دنیا کی تمام تر محبتوں کو نکال دے ۔آمین
Dawateislami