حضور کی اللہ پاک سے محبت از بنتِ شمس الزماں،بہار مدینہ تلواڑہ مغلاں
سیالکوٹ
محبت ایک ایسا
جذبہ ہے جو الفاظ کا محتاج نہیں ہوتا،بلکہ یہ دل کی ایک ایسی کیفیت ہے جو عمل سے
ظاہر ہوتی ہے۔جب ہم رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرتی ہیں تو ہمیں
آپ کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ پاک کی محبت
سے لبریز نظر آتا ہے۔اللہ پاک نے خود قرآنِ مجید میں فرمایا:وَ مَا
مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌۚ-(پ4،ال عمرٰن:144)ترجمہ:اور محمد
تو ایک رسول ہیں۔
یہی نسبت
آپ کی سب سے بڑی پہچان تھی کہ آپ محبوبِ خدا ہیں۔
اللہ پاک سے محبت کا آغاز بچپن سے:
حضور کی زندگی کے ابتدائی ایام ہی سے توحید اور اللہ
پاک کی محبت کا نور آپ کے قلبِ مبارک میں
جگمگا رہا تھا۔مکے کی بت پرستی اور جاہلیت کے ماحول میں بھی آپ کا دل اللہ پاک کی طرف متوجہ رہا۔بچپن میں ہی آپ غارِ حرا کا رخ کرتے،تنہائی میں ربّ کی یاد
کرتے،غور و فکر کرتے اور اپنے رب کے قرب کے طلبگار رہتے۔
وحی کا آغاز اور عشقِ الٰہی کا اظہار:
جب پہلی وحی
نازل ہوئی اور حضرت جبرائیل علیہ السلام غارِ حرا میں اللہ پاک کا پیغام لائے تو
آپ پر ربّ کی محبت کا دروازہ ایک نئے
انداز سے کھلا۔اب آپ صرف اللہ پاک کے عاشق
نہ تھے،بلکہ اللہ پاک کے منتخب پیغمبر بھی
تھے۔اللہ پاک کی طرف سے جو حکم آتا،آپ بلا
چوں و چرا اسے قبول کرتے اور ہر ممکن کوشش کرتے کہ اللہ پاک کا ہر فرمان زمین پر نافذ ہو جائے۔آپ نے فرمایا:میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی
گئی ہے۔ (نسائی،ص 644،حدیث:3946)نماز جو
کہ بندے اور رب کے درمیان راز و نیاز کا ذریعہ ہے،وہی آپ کے لیے سکون و راحت کا سبب تھی۔یہ الفاظ
آپ کے رب سے تعلق کی گہرائی کو بیان کرتے
ہیں۔
اللہ پاک کی راہ میں قربانیاں:
حضور
اکرم ﷺکی زندگی محبتِ الٰہی کی مثالوں سے
بھری ہوئی ہے۔آپ نے اللہ پاک کی رضا کے لیے وطن چھوڑا(ہجرت کی)،طائف میں پتھر
مارے گئے،بھوک و پیاس برداشت کی،اہلِ مکہ کے طعن و تشنیع کو سہا،مگر کبھی رب کی
رضا پر حرف نہ آنے دیا۔ غزوۂ احد میں جب آپ زخمی ہوئے تو خون بہتا رہا مگر آپ کی زبان پر تھا:اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَاے
اللہ!میری قوم کو بخش دے،کیونکہ وہ نہیں جانتے۔(بخاری،2/ 468، حدیث:3477)یہ الفاظ
رب کی محبت کے ساتھ بندوں کے لیے رحمت کا حسین امتزاج ہیں۔
اللہ پاک کا جواب:
جب محبوب ﷺنے اللہ پاک کی محبت میں سب کچھ قربان کیا تو رب نے بھی فرمایا:
وَ رَفَعْنَا لَكَ
ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔
اللہ پاک نے
اپنے ذکر کے ساتھ رسول ﷺ کے ذکر کو جوڑ دیا۔اذان ہو یا نماز، قرآن ہو یا درود ،اللہ
پاک اور اُس کے محبوب ﷺکا نام ساتھ ساتھ لیا جاتا ہے۔
معراج:محبت کی انتہا:
محبت کی انتہا
کا ایک عظیم مظہر معراج النبی ہے۔جب اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺ کو آسمانوں سے بھی
اوپر بلا کر وہ قرب عطا فرمایا جو کسی بشر کو نصیب نہ ہوا۔اللہ پاک نے فرمایا:فَكَانَ قَابَ
قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ(۹)(پ27،النجم:9)ترجمہ: پھر وہ جلوہ قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا۔ تو دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔
یہ وہ لمحہ
تھا جب محبوبﷺ اور محبوبِ حقیقی کے درمیان فاصلہ مٹ گیا اور عشق کی معراج مکمل ہوئی۔
آخری وقت تک رب کا ذکر:
حضور ﷺ کی زبانِ مبارک پر زندگی کے آخری لمحے تک ربّ
کا ذکر جاری رہا۔آپ کی آخری سانسوں میں بھی
جو کلمات جاری تھے،وہ یہی تھے:اَللّٰهُمَّ الرَّفِيقَ
الأَعْلٰىاے
اللہ!اعلیٰ ترین رفیق(کی رفاقت پسند ہے)۔ (بخاری،3/ 160،حدیث:4463)
یہ وہی ربّ
تھا جس سے آپ بچپن سے محبت کرتے آئے اور
آخر کار اسی کے حضور پہنچنے کی آرزو دل میں لیے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔
نتیجہ/ہمارے لیے سبق:
حضور کی اللہ پاک سے محبت صرف ایک ذاتی تعلق نہ تھا،بلکہ
وہ ایک ایسی روشنی تھی جس میں پوری امت کے لیے راستہ تھا۔ہمیں چاہیے کہ ہم بھی
اپنے رب سے محبت کریں، اس کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں اور اس کے محبوب ﷺ
کی سیرت کو اپنی زندگی کا آئینہ بنائیں۔اللہ پاک ہمیں سچی محبت عطا فرمائے،ویسی
محبت جیسی اُس کے محبوبﷺ نے کی۔آمین
Dawateislami