حضور کی اللہ پاک سے محبت از بنتِ اظہر حسین،بہار مدینہ تلواڑہ مغلاں
سیالکوٹ
حضور
کی اللہ پاک سے محبت کے پہلو
ہر حال میں اللہ پاک کا ذکر:
حضور کا معمول یہ تھا کہ کھانا کھاتے،سفر کرتے،بستر
پر جاتے،جاگتے،بارش برستے، ہوا چلتے ہر موقع پر اللہ پاک کا ذکر فرماتے۔قرآنِ مجید میں اللہ پاک نے فرمایا:الَّذِیْنَ
یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ(پ4،ال
عمرٰن:191)ترجمہ:جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ
پر لیٹے۔
مفسرین لکھتے
ہیں کہ اس آیت کا اولین مصداق حضور اقدس ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے یعنی وہ بندۂ خدا جس
کا کوئی سانس اللہ پاک کے ذکر سے خالی نہ
ہو۔
شکر گزاری میں سب سے آگے:
اگر دنیا میں
کسی نے شکر کی حقیقت کو سمجھا ہے تو وہ حضور ﷺہیں۔کھجور اور پانی پر بھی الحمد للہ کہتے اور اگر روٹی اور گوشت مل جائے
تو مزید عاجزی اختیار کرتے۔
آپ کی سادہ زندگی اللہ پاک کی محبت اور شکر کے اعلیٰ
ترین معیار کی علامت تھی۔
اللہ پاک کی محبت میں رحمۃ
للعالمین بن جانا:
اللہ پاک نے
فرمایا:وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ
اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷)(پ17،الانبياء: 107)ترجمہ:اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی
بھیجا۔
اللہ پاک سے جتنی محبت حضور ﷺ کو تھی،اتنا ہی اللہ پاک کی
مخلوق سے بھی پیار کرتے،کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ مخلوق سے محبت کرنا خالق کو راضی
کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ میدانِ طائف کے ظالموں کے لیے بھی بددعا نہیں فرمائی بلکہ
دعا کی:اَللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَاے
اللہ! میری قوم کو ہدایت دے،کیونکہ یہ نہیں جانتے۔ (الشفا،1/ 105)
اللہ پاک کے لیے محبت اور دشمنی:
آپ نے پوری امت کو یہ اصول دیا:مَنْ أَحَبَّ
لِلَّهِ،وَأَبْغَضَ لِلَّهِ،وَأَعْطَى لِلَّهِ،وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ
اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَجو اللہ پاک کے لیے محبت کرے،اللہ پاک کے لیے دشمنی
رکھے، اللہ پاک کے لیے دے اور اللہ پاک کے لیے روکے،اُس نے ایمان کو مکمل کر لیا۔
(ابو
داود،4/290،حدیث:4681)
یہ اصول
حضور ﷺکی اپنی زندگی کا خلاصہ بھی ہے۔
محبت کا انعام:مقامِ محمود
اللہ پاک نے
حضور کی اس بے مثال محبت اور اطاعت کا
بدلہ یہ دیا کہ انہیں مقامِ محمود عطا فرمایا:عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ
مَقَامًا مَّحْمُوْدًا(۷۹)(پ15،بنی
اسرائیل:79) ترجمہ: قریب ہے کہ تمہیں تمہارا
رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں۔
یہ وہ مقام ہے
جہاں قیامت کے دن ہر نبی،ہر ولی،ہر فرشتہ بھی حضور کے قدموں میں ہوگا اور اللہ پاک خود فرمائے گا:مانگئے آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے
گی۔(معجم صغیر،1/40،حدیث:103)
محبتِ رسول سے محبتِ الٰہی کا
راستہ:
حضور نے فرمایا:لَا يُؤْمِنُ
أَحَدُكُمْ حَتّٰى أَكُوْنَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِهٖ وَ وَلَدِهٖ وَ النَّاسِ
أَجْمَعِينَتم
میں سے کوئی شخص کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کی جان، اس کی اولاد اور
تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔(بخاری،1/17،حدیث: 15)یعنی اللہ پاک تک پہنچنے کا راستہ محبتِ رسول سے ہو کر گزرتا ہے۔
Dawateislami