اللہ پاک نے
اپنے محبوب نبی،حضرت محمد ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔آپ کی ذاتِ
اقدس میں ہر خلقِ عظیم اور ہر صفتِ کمال اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے مگر ان تمام
اوصاف میں سب سے بلند اور کامل صفت اللہ پاک سے محبت ہے۔حضور کی زندگی کا ہر لمحہ
اس عشقِ الٰہی کا آئینہ ہے۔رسول اللہ ﷺکی محبت اللہ پاک کے ساتھ خالص،پاکیزہ اور
بے مثال ہے۔آپ کا دل ہر وقت اپنے رب کی یاد میں مشغول رہتا ہے۔آپ نے فرمایا :میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی
گئی ہے۔(نسائی،ص 644، حدیث:3946)
یہ فرمان ظاہر
کرتا ہے کہ آپ کو عبادت میں وہ لذت حاصل
ہوتی تھی جو کسی اور چیز سے ممکن نہ تھی۔آپ راتوں کو طویل قیام فرماتے یہاں تک کہ قدم مبارک سوج جاتے۔ جب حضرت عائشہ
رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ !آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟آپ نے فرمایا:کیا میں اس بات کو پسند
نہ کروں کہ میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں۔(بخاری،3/329 ،حدیث:4837)
محبت اور شکر کی انتہا :
حضور کے دل میں اللہ پاک کی محبت اس درجہ ہے کہ آپ نے اپنی زندگی اپنی
خواہشات اور اپنے تمام فیصلے اللہ پاک کی رضا کے تابع کر دیئے۔قرآنِ مجید میں اللہ
پاک نے آپ کے ذریعے فرمایا:اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ
لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)(پ8،الانعام:162)ترجمہ:بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور
میرا مَرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رَبّ
سارے جہان کا۔
یہ آیت اس حقیقت
کو ظاہر کرتی ہے کہ آپ کی زندگی کا مقصد
صرف اللہ پاک کی خوشنودی تھا۔
ذکر و دعا میں
بھی حضور کی محبت نمایاں ہے۔آپ ہر حالت میں اللہ پاک کو یاد کرتے۔ آپ کی دعاؤں میں ہمیشہ قرب و محبت کا رنگ جھلکتا۔ایک
دعا فرمائی: اَللّٰہمَّ
إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ
یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ
وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں
تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو
تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے
پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)
یہ دعا آپ کے
قلبی تعلق کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے ۔
آپ کی اللہ پاک سے محبت کا ایک پہلو صبر و توکل بھی
ہے۔طائف کے سفر میں جب لوگوں نے آپ کو سنگ
بازی سے زخمی کیا تو آپ نے عرض کی:اے اللہ
پاک!میں تیری بارگاہ میں اپنی کمزوری،اپنی بے بسی اور لوگوں کی نظروں میں اپنی بے
وقعتی کی شکایت کرتا ہوں۔(معجم کبیر،13/52،حدیث:181)یہ الفاظ عشق و رضا کے سب سے اعلیٰ درجےکی نشانی ہیں ۔
اللہ پاک نے
بھی اپنے محبوب ﷺ کو اس محبت کا جواب دیا۔چنانچہ معراج کی رات جب آپ کو اپنے حضور بلایا تو فرمایا:سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ
اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا(پ15،بنی اسرائیل:1)یہاں عبد کہنا سب
سے بڑا اعزاز ہے کیونکہ بندگی ہی محبت کی معراج ہے ۔
حضور کی محبتِ الٰہی ایک ایسی روشنی ہے جو قیامت تک
اہلِ ایمان کے دلوں کو منور کرتی رہے گی۔آپ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سچی
محبت وہی ہے جو بندگی،شکر اور اطاعت میں ڈھل جائے۔
Dawateislami