نبیِ کریم ﷺ کی اللہ پاک سے محبت ایک ایسی عظیم حقیقت ہے جو قرآن و سنت سے بخوبی واضح ہوتی ہے۔آپ  کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ پاک کی محبت،رضا اور قرب کے لیے وقف تھا۔اس محبت کا اظہار آپ کے اقوال،افعال اور دعاؤں سے کثرت سے ہوتا ہے۔

نبیِ اکرم ﷺ کی پوری زندگی اللہ پاک کی محبت،خشیت،اطاعت اور رضا کے حصول میں گزری۔آپ کا ہر قول،فعل،عبادت اور اخلاق اسی بندگی اور محبتِ الٰہی کا مظہر تھا۔ اللہ پاک نے آپ کو قرآنِ مجید میں اپنا محبوب قرار دیا اور آپ نے عملاً دکھایا کہ حقیقی محبت صرف اللہ پاک سے ہوتی ہے۔

نبیِ کریم ﷺ کی اللہ پاک سے محبت حدیث کی روشنی میں

حدیثِ مبارک:عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ،أَنَّ رَسُولَ صَلَّى عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ،وَ قَالَ: يَا مُعَاذُ،وَ اللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ،وَ اللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ،فَقَالَ: أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ لَا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ تَقُولُ:اَللّٰهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ،وَ شُكْرِكَ،وَ حُسْنِ عِبَادَتِك(ابو داود،2/123،حدیث: 1522)

یہ حدیث نہ صرف نبی کے صحابہ سے محبت ظاہر کرتی ہے بلکہ دعاؤں کے ذریعے اللہ پاک سے محبت اور تعلق کا گہرا انداز بھی واضح ہوتا ہے۔آپ خود اللہ پاک کی یاد،شکر اور بہترین عبادت کی دعا مانگتے تھے،جو اللہ پاک سے محبت کی علامت ہے۔

حدیثِ مبارک:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ تَصْنَعُ هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ وَقَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ:أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًارسول اللہ ﷺ رات کو اتنا لمبا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے تھے۔سیدہ عائشہ نے عرض کی:اللہ پاک نے آپ کے اگلوں اورپچھلوں کےگناہ معاف فرما دیئے ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ تو آپ نے فرمایا: کیا میں یہ پسند نہ کروں کہ میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بنوں!(بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

آپ کی عبادت صرف فرض کی ادائیگی نہیں بلکہ اللہ پاک کی محبت اور شکر گزاری کا عملی مظہر تھی۔آپ کا رات بھر قیام کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو اللہ پاک سے بے حد محبت تھی۔

حدیثِ مبارک:نبیِ کریم کی ایک دعا:

اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔

(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

یہ دعا واضح کرتی ہے کہ نبیِ کریم ﷺخود اللہ پاک کی محبت کو مانگتے،طلب کرتے اور اس کی فکر رکھتے تھے۔

قرآنِ مجید میں اللہ پاک کا فرمان ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اس بات کا اعلان ہے کہ نبیِ کریم ﷺکی ذاتِ مبارک خود اللہ پاک کی محبت کا کامل نمونہ ہے۔ان کی پیروی،اللہ پاک کی محبت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

حدیثِ قدسی:

وَلَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰى أُحِبَّهُ(بخاری ،4/248،حدیث:6502)

نبیِ کریم ﷺاس حدیثِ قدسی کو بیان کر رہے ہیں،جو اللہ پاک اور بندے کے درمیان محبت کے گہرے تعلق کو ظاہر کرتی ہےاور خود نبی ﷺ اس محبت کی سب سے بڑی مثال ہیں۔

حضور ﷺ کی اللہ پاک سے محبت ایک کامل اور مثالی محبت ہے ۔ یہ محبت صرف زبانی دعوؤں تک محدود نہ تھی بلکہ ہر عمل،ہر عبادت اور ہر فیصلے میں جھلکتی تھی۔آپ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی کامیابی اللہ پاک سے محبت اور اس کی رضا میں ہے اور اس محبت تک رسائی صرف اور صرف اتباعِ رسول کے ذریعے ممکن ہے۔اللہ پاک ہمیں زیادہ سے زیادہ سیرتِ مصطفےٰ کا مطالعہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ کریم سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں بھی اپنے پیارے حبیب ﷺ کے وسیلے سے اپنی محبت نصیب فرمائے۔ آمین