سرورِ کائنات،حضرت محمد مصطفےٰﷺ کی پوری زندگی اللہ پاک کی کامل بندگی، اطاعت اور بے مثال محبت کا روشن مینار ہے۔آپ  کا ہر قول،ہر فعل اور ہر سانس اللہ پاک کے ذکر اور رضا کے لیے وقف تھا۔

اللہ پاک نے خود قرآنِ کریم میں آپ کی محبتِ الٰہی کی گواہی دی:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ پاک کی محبت تک پہنچنے کا واحد راستہ حضور ﷺ کی اطاعت ہے۔

عبادت میں محبت کا کمال:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ تَصْنَعُ هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ وَقَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ:أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًارسول اللہ ﷺ رات کو اتنا لمبا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے تھے۔سیدہ عائشہ نے عرض کی:اللہ پاک نے آپ کے اگلوں اورپچھلوں کےگناہ معاف فرما دیئے ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ تو آپ نے فرمایا: کیا میں یہ پسند نہ کروں کہ میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بنوں!(بخاری،3/329 ،حدیث:4837)

یہ الفاظ محض زاہد کے نہیں بلکہ عاشقِ الٰہی کے ہیں۔

ذکرِ الٰہی میں محبت:

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللهَ عَلىٰ كُلِّ أَحْيَانِهٖ رسول اللہ ﷺ ہر حال میں اللہ پاک کو یاد کرتے تھے۔ (مسلم،ص159، حدیث: 826)

سفر ہو یا گھر،خوشی ہو یا غم آپ کی زبان ذکرِ الٰہی سے تر رہتی تھی۔

دعا میں محبت کا رنگ:

نبیِ کریم کی دعاؤں میں اللہ پاک سے ایسی محبت جھلکتی ہے جو صرف ایک بندہ نہیں بلکہ عاشق کی کیفیت ظاہر کرتی ہے۔ایک دعا میں ارشاد فرمایا:اَللّٰهُمَّ اَنْتَ رَبِّي لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِي وَ اَنَا عَبْدُك(ابوداود،4/412، حدیث: 5070)یہ دعاصرف مانگنا نہیں بلکہ ایک عاشق کی اپنے محبوب سے مناجات ہے۔

محبتِ الٰہی کا عملی ثبوت جہاد اور قربانی:

اللہ پاک نے فرمایا:اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)(پ8،الانعام:162)ترجمہ:بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مَرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رَبّ سارے جہان کا۔

اگرچہ یہ حکم تمام امت کے لیے ہے مگر سب سے پہلے اس پر عمل کرنے والے خود حضور تھے۔آپ نے دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردی۔جب طائف کے لوگوں نے آپ کو پتھروں سے زخمی کیا تو آپ نے بددعا نہ دی بلکہ فرمایا: اَللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَاے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے،کیونکہ یہ نہیں جانتے۔ (الشفا،1/ 105)

ایسا طرزِ عمل صرف وہی اختیار کرتا ہے جو اللہ پاک کی رضا کے لیے اپنے غصے اور جذبات پر قابو رکھے۔

اللہ پاک کی محبت میں آنسو:

حضرت عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَ فِي صَدْرِهٖ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الرَّحَى مِنَ الْبُكَاءِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّممیں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز میں دیکھا تو آپ کے سینے سے شدتِ گریہ کے سبب ہنڈیا کے کھولنے جیسی آواز آ رہی تھی۔(ابوداود،1/342،حدیث:904)یہ آنسو بندگی کے نہیں بلکہ عشق کے گواہ تھے۔

محبتِ الٰہی کا درس اُمت کے لیے:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:حضور ﷺ نے فرمایا: جس شخص میں تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کی حَلَاوَت پا لے گا:

( 1) تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ پاک اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہو ۔

(2)اللہ پاک ہی کے لئے کسی سے محبت کرے۔

(3) کفر کی طرف لوٹنے کو ایسابرا جانے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔

( مسلم ، ص47 ، حدیث:165)

یہ اس لیے فرمایا کہ جو معیار آپ کی اپنی زندگی کا تھا،وہی معیار آپ نے امت کے لیے مقرر کیا۔

خلاصہ:

حضور نبیِ کریم ﷺ کی اللہ پاک سے محبت کوئی دعویٰ یا محض جذباتی احساس نہ تھا، بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں عملی طور پر نمایاں تھا۔چاہے وہ راتوں کی طویل عبادتیں ہوں، ہر حال میں ذکرِ الٰہی ہو،دعاؤں میں محبت بھری مناجات ہو،تکلیفوں میں صبر اور بدلے میں دعا ہو یا امت کے لیے رحمت و شفقت ہو ۔ہر مقام پر آپ نے یہ ثابت کیا کہ سچا عاشق وہ ہے جو محبوب کی رضا کے سوا کچھ نہ چاہے۔اللہ پاک نے آپ کی اس سچی محبت کا انعام خود قرآن میں بیان فرمایا:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4)ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔

جب بندہ اللہ پاک کی محبت میں جیتا ہے تو اللہ پاک خود اس کی عزت کا ذمہ دار بن جاتا ہے۔