حضور ﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ اللہ پاک کی محبت اور رضا کے گرد گھومتی ہے۔آپ عبادات،دعائیں،جہاد،معاملات،اخلاق اور شب و روز سب اسی محبتِ الٰہی کا عملی مظہر ہیں۔حضور ﷺ کی اللہ پاک سے محبت کا تعلق گہرا اور لازوال تھا جس کی عکاسی آپ کی تمام زندگی میں ملتی ہے ،خاص طور پر اللہ پاک کی ذات کے لیے اپنی محبت کی خاطر آپ نے خود کو قربان کیا ۔آپ کے ہر فعل وقول سے اللہ پاک کی محبت اور اطاعت کا اظہار ہوتا تھا اور آپ کا وجود اللہ پاک کی رحمت اور محبت کا ذریعہ بن گیا ۔آپ کی زندگی مومنین کے لیے اللہ پاک کی محبت کا سب سے بہترین نمونہ ہے ۔

رسول اللہ ﷺ کی زندگی اللہ پاک کے لیے وقف :

اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)(پ8، الانعام: 162)ترجمہ:بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مَرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رَبّ سارے جہان کا۔

یہ آیتِ کریمہ محبتِ الٰہی کا اظہار ہے کہ زندگی کا ہر پہلو صرف اللہ پاک ہی کے لیے تھا۔

اللہ پاک کی رضا میں سکون:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:نبیِ کریم ﷺ رات کو اس قدر نماز پڑھتے کہ پاؤں مبارک متورم ہو جاتے۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟حالانکہ اللہ پاک نے آپ کے اگلوں پچھلوں کے گناہ بخش دیئے ہیں؟آپ نے فرمایا: أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)یہ اللہ پاک کی محبت اور شکر گزاری کا اعلیٰ مقام ہے۔

قرآنِ کریم سے دلیل/ محبتِ الٰہی کا اعلیٰ مقام:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

احادیثِ مبارکہ سے دلیل :

أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللهِ أَرْبَعٌ:سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَر ترجمہ: سب سے زیادہ محبوب کلمات اللہ پاک کے نزدیک 4 ہیں:سُبْحَانَ اللهِ،اَلْحَمْدُ لِلَّهِ،لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ اور اَللهُ أَكْبَر۔(مسلم،ص910، حدیث:5601)

بس نبیِ کریم ﷺ دعا فرمایا کرتے: اَللّٰہمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔(ترمذی،5/296،حدیث:3501)

بس کلام یہ ہوا کہ نبیِ کریم ﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ اللہ پاک کی محبت سے لبریز تھی اور آپ نے زندگی کے ہر پہلو کو اللہ پاک کی رضا کے لیے وقف کیا۔عبادات میں سب سے آگے،دعائیں مانگنے میں آپ سب سے آگے اور آپ کی حیاتِ طیبہ کامل محبتِ الٰہی کا اعلیٰ نمونہ تھی۔