حضور کی اللہ پاک سے محبت از بنتِ محمد اسلام،بہار مدینہ تلواڑہ مغلاں
سیالکوٹ
اللہ پاک سے
محبت اسلام کی روح ہے۔یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو ایمان کو زندہ رکھتی ہے،بندے کو
گناہوں سے دور رکھتی ہے اور اسے اللہ پاک کی رضا کے لیے قربانیاں دینے پر آمادہ
کرتی ہے۔قرآن و حدیث میں بار بار اس محبت کا ذکر آیا ہے اور اللہ پاک نے خود اپنے
محبوب بندوں کی صفات بھی بیان فرمائی ہیں۔اس تحریر میں ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں
اللہ پاک سے محبت کے مفہوم،علامات اور اس کے نتائج پر روشنی ڈالیں گی۔
محبتِ الٰہی کا مفہوم
اللہ پاک سے
محبت کا مطلب یہ ہے کہ بندہ دل سے اللہ پاک کو سب سے زیادہ چاہے،اس کی رضا کو دنیا
کی ہر چیز پر مقدم سمجھے اور اس کی عبادت کو اپنی زندگی کا مقصد بنالے۔
قرآنِ مجید سے محبتِ الٰہی کے دلائل
1: اللہ پاک
کا محبت رکھنے والوں سے محبت فرمانا:اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ(۱۵۹) (پ4،الِ
عمرٰن: 159)ترجمہ:بے شک توکل والے اللہ کو
پیارے ہیں۔
اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ
التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ(۲۲۲) (پ2،
البقرۃ: 222)
ترجمہ: بےشک اللہ پسندر کھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور
پسند رکھتا ہے ستھروں کو۔
محبت کا معیار:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ
فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،ال عمرٰن:31)ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے
ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔
اس آیت سے واضح ہے کہ نبیِ کریم ﷺ کی اتباع ہی اصل میں محبتِ الٰہی کا معیار ہے۔
احادیثِ مبارکہ سے محبتِ الٰہی کا بیان
1:اللہ پاک کے محبوب بندے:
رسول اللہﷺ نے فرمایا:جب اللہ پاک کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام سے
فرماتا ہے:میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں،تم بھی اس سے محبت کرو۔ جبریل بھی اس سے
محبت کرتے ہیں اور آسمان والے بھی،پھر زمین میں بھی اس کے لیے قبولیت رکھ دی جاتی
ہے۔(مسلم، ص1086 ، حدیث:6705)
2 محبت کے بغیر ایمان مکمل نہیں:
نبیﷺ نے
فرمایا:تم میں سے کوئی شخص کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کی جان،اس کی
اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
(بخاری،1/17،حدیث:
15)
محبتِ الٰہی کی علامات
1: فرائض اور نوافل میں اہتمام:
بندہ فرض
عبادات کے ساتھ ساتھ نفل عبادات سے بھی قرب حاصل کرتا ہے۔
2: گناہوں سے نفرت:
جب دل میں
محبتِ الٰہی ہو تو وہ دل گناہوں سے کراہت محسوس کرتا ہے۔
3: تنہائی میں ذکرِ الٰہی:
اللہ پاک کا
محبوب بندہ خلوت میں اللہ پاک کو یاد کرتا ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں۔
4:قرآن سے تعلق:
اللہ پاک سے
محبت کرنے والا قرآنِ کریم کو اللہ پاک کا پیغام سمجھ کر دل سے پڑھتا ہے اور عمل
کرتا ہے۔
5 رسول اللہﷺ سے محبت اور
اتباع:
قرآنِ کریم نے
اسی کو محبتِ الٰہی کی شرط قرار دیا ہے۔
نتیجہ:
محبتِ الٰہی ایک
ایسی نعمت ہے جو دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔جو بندہ اللہ پاک سے سچی محبت
کرتا ہے،اللہ پاک اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے،اس کے لیے آسانیاں پیدا کر دیتا ہے اور
اسے دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرماتا ہے۔
دعا:
اللہ پاک ہمیں
اپنی سچی محبت عطا فرمائےاور اپنی رضا کے لیے زندگی گزارنے کی توفیق دے۔آمین
Dawateislami