حضور کی اللہ پاک سے محبت از بنتِ فیصل
مجید،بہار مدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
حضور
اکرم ﷺ کی اللہ پاک سے محبت بہت گہری اور لازوال تھی۔آپ کی محبت کا اظہار آپ کے قول و فعل،آپ کے بلند
اخلاق اور آپ کی اپنی زندگی میں اللہ پاک کی اطاعت اور اس کی رضا کو ترجیح دینے سے
ہوتا تھا۔آپ اللہ پاک سے اس قدر محبت کرتے
تھے کہ اللہ پاک نے بھی قرآنِ کریم میں آپ سے محبت کا اظہار فرمایا،جیسا کہ اللہ پاک
نے فرمایا کہ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا
یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ(۳۲)(پ3،ال
عمرٰن:32)ترجمہ:تو اللہ کافروں کو پسند
نہیں کرتا۔
محبت کی چند مثالیں:
عبادت
اور اطاعت:حضور
اللہ پاک کی عبادت اور اطاعت میں سب سے آگے تھے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:مَنْ یُّطِعِ
الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-(پ5،النسآء:80)
نرمی
اور شفقت:آپ کی شخصیت میں اللہ پاک کی محبت اور شفقت کا عکس
نظر آتا تھا۔ آپ نے نرمی کو پسند کیا اور
اس کے ذریعے بہت کچھ حاصل فرمایا۔
اللہ
پاک کی رضا کو ترجیح:آپ ہر کام
میں اللہ پاک کی رضا کو سب سے پہلے رکھتے تھے۔
محبت
کا اظہار:آپ نے اپنے اہلِ بیت سے محبت کا اظہار کیا،جیسا کہ
حضرت واثلہ بن اسقَع سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اللہ پاک
کے رسول صلی اللہُ علیہ و اٰلہٖ و سلم تشریف
لائے،آپ کے ساتھ حضرت علی بھی تھے اور آپ حضرت حسن اور حضرت حسین کے ہاتھ تھامے
ہوئے تھے۔یہاں تک کہ آپ نے امیرالمومنین حضرت علی اور حضرت فاطمہ کو اپنے سامنے
بالکل قریب کر لیا اور حسنین کریمین میں سے ہر ایک کو اپنی ران مبارک پر بٹھا لیا
اور پھر ان سب پر اپنی چادر مبارک تان لی پھر یہ آیت ِ مبارکہ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ
الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ(۳۳) (پ22، الاحزاب:33)تلاوت فرما کریہ دُعا فرمائی:اے اللہ
پاک!یہ میرے اہلِ بیت ہیں اور میرے اہلِ بیت ہی(اس فضیلت کے)زیادہ حق دار ہیں۔(مسند
امام احمد،6/45، حدیث: 16985)
آپ نے امام حسن سے متعلق فرمایا:الٰہی!میں اس سے
محبت کرتا ہوں،تو بھی اس سے محبت فرما۔( مسلم،ص 1206، حدیث:2421)
اللہ پاک کی
محبت میں اس کی صفات(جمال،کمال اور نوال)اور اطاعتِ رسول کو بنیادی سمجھا جاتا ہے اور رسول ﷺکی اطاعت
اللہ پاک کی اطاعت ہے۔یہ محبت ایک گہرا جذبہ ہے جو انسان کو اللہ پاک کی رضا اور
خوشنودی کی طرف لے جاتا ہے نیز اسے عبادت اور نیک اعمال کی طرف راغب کرتا ہے۔
اللہ پاک کی محبت کے اہم پہلو
اللہ
پاک کی ذات سے محبت:اللہ پاک کی
محبت اس کی ذات کے لیے ہے،اس کی صفاتِ جمیلہ اور کمالات کے لیے ہے۔اس محبت کی بنیاد
اللہ پاک کے جمال،کمال اور احسان پر ہے،جو اسے دنیا کی ہر شے سے بالاتر سمجھتی ہے۔
اطاعتِ
رسول:اللہ
پاک کی محبت کی ایک اہم نشانی اللہ پاک کے رسول کی اطاعت ہے،کیونکہ اللہ پاک نے خود فرمایا ہے کہ مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ
اَطَاعَ اللّٰهَۚ- (پ5،النسآء:80)ترجمہ: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا۔
یہ اطاعت اللہ
پاک کی اطاعت کا ایک حصہ ہے اور اللہ پاک کی محبت کا اظہار ہے۔
اللہ
پاک کی رضا کی طلب:اللہ پاک کی محبت کا مقصد اس کی رضا اور خوشنودی
حاصل کرنا ہے اور اس کے لیے نیک اعمال اور عبادات بجالانا ضروری ہے۔
دعا
اور مناجات:اللہ
پاک سے محبت کرنے والے بندے اس کی بارگاہ میں دعا اور مناجات کے ذریعے اپنی محبت
کا اظہار کرتے ہیں۔اللہ پاک کی ذات سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ تمام چیزوں سے بڑھ کر
اللہ پاک کی رضا کو عزیز رکھنا اور اس کی
رضا کو ترجیح دینا۔یہ محبت مکمل ایمان کی شرط ہے اور اس کا اظہار عمل سے ہوتا ہے،مثلاً:
رسول اللہ ﷺکی سنت پر عمل کرنا اور اللہ پاک کی رضا کی
خاطر دیگر تمام خواہشات اور لوگوں کو ترجیح دینا یہ صرف زبانی دعوے سے حاصل نہیں
ہوتی،بلکہ اس کے لیے اللہ پاک کے احکامات کی اطاعت اور اس کی ذات پر بھروسا ضروری
ہے۔
اللہ پاک کی ذات سے محبت کے تقاضے:
اللہ
پاک کو سب سے زیادہ عزیز رکھنا:ایمان کو مکمل کرنے کے لیے اپنی جان،مال
اور دیگر ہر چیز سے بڑھ کر اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرنا ضروری ہے۔
رسول
اللہﷺ کی اتباع:اللہ پاک سے
محبت کا سب سے اہم مظہر رسول اللہ ﷺ کی
سنتوں پر عمل کرنا ہے۔یہ محبت کا عملی ثبوت ہے اور زبانی دعوے کا کوئی فائدہ نہیں
جب تک کہ عمل میں نہ لایا جائے۔
اللہ
پاک کی رضا کو ترجیح دینا:اپنی تمام خواہشات اور لوگوں کی خوشنودی
سے بڑھ کر اللہ پاک کی رضا اور خوشنودی کو مقدم رکھنا چاہیے۔
اللہ
پاک سے تعلق قائم کرنا:اللہ پاک سے محبت کرنے والوں سے محبت کرنا اور ان
سے نفرت کرنا جو اللہ پاک کو ناپسند ہیں،محبت کا ایک لازمی حصہ ہے۔
Dawateislami