اسلام ایک مکمل اور جامع دین ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو ہدایت کا سرچشمہ بنایا اور اس قرآن کی عملی تشریح و توضیح کے لیے نبی کریم حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ قرآن کے احکام کو سمجھنے اور ان پر صحیح طور پر عمل کرنے کے لیے حدیث و سنت کی رہنمائی ضروری ہے۔ اسی لیے مطالعۂ حدیث ہر مسلمان کے لیے بے حد ضروری اور اہم ہے۔

حدیث کی تعریف:حدیث سے مراد نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریر ہیں۔ آپ ﷺ کی زندگی قرآن کی عملی تفسیر ہے۔ قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ کی اطاعت کو لازم قرار دیا ہے، جس سے حدیث کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

(1)قرآن و حدیث کا باہمی تعلق:قرآنِ مجید میں بہت سے احکام اجمالی طور پر بیان ہوئے ہیں، جن کی وضاحت حدیث کے ذریعے ہوتی ہے۔ مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کے طریقے قرآن میں مختصر ہیں، مگر ان کی مکمل تفصیل ہمیں حدیث سے ملتی ہے۔ اگر حدیث کو نظر انداز کر دیا جائے تو قرآن پر صحیح عمل ممکن نہیں رہتا۔

(2)مطالعۂ حدیث کی دینی ضرورت:مطالعۂ حدیث انسان کو نبی کریم ﷺ کی سنت سے آگاہ کرتا ہے، جو ایمان کی تکمیل کے لیے ضروری ہے۔ حدیث کے بغیر نہ عقائد کی درست تفہیم ممکن ہے اور نہ ہی عبادات کا صحیح طریقہ معلوم ہو سکتا ہے۔

(3)حدیث کی حیثیت قرآن کی روشنی میں:قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت قرار دیا گیا ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ ترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔ (سورۃ النساء: 80)

اسی طرح فرمایا:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔(سورۃ الحشر: 7)

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ حدیث و سنت کو نظر انداز کرنا قرآن کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔

قرآن کی تشریح میں حدیث کی ضرورت:قرآنِ مجید میں بہت سے احکام اجمالی طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر نماز کے بارے میں صرف یہ حکم ہے: وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ ترجمہ کنزالأیمان: اور نماز قائم رکھو۔

(سورۃ البقرہ: 43)

لیکن نماز کے اوقات، رکعات، طریقۂ ادائیگی اور شرائط کی تفصیل ہمیں احادیث سے ملتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّيترجمہ:نماز اس طرح پڑھو جیسے تم مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔

(صحیح بخاری: کتاب الأذان،حدیث نمبر: 631)

یہی حال روزہ، زکوٰۃ اور حج کا ہے، جن کی مکمل عملی وضاحت حدیث کے بغیر ممکن نہیں۔

(4)مطالعۂ حدیث کی دینی اہمیت:مطالعۂ حدیث ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ترجمہ:جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ (صحیح بخاری: کتاب الاحکام،حدیث نمبر: 7137 ،صحیح مسلم: کتاب الامارہ، حدیث نمبر: 1835)

حدیث کا مطالعہ انسان کو صحیح عقیدہ، درست عبادت اور سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کہ منکر کے سوا میری ساری امت جنت میں جائے گی ، عرض کیا گیا منکر کون ہے؟ فرمایا جس نے میری فرمانبرداری کی جنت میں گیا، جس نے میری نافرمانی کی منکر ہوا۔" (رواہ البخاری، مشکوة المصابیح ،مراة المناجیح، صفحہ نمبر ۱۴۷، مطبوعہ قادری پبلشر )

تو ظاہر ہوا کہ احادیث کا علم حاصل کرکے اس پر عمل پیرا ہونا اللہ کا محبوب بننے بخشش کا ذریعہ حاصل کرنے اور جنت میں داخلے کا بھی سبب ہے۔

(5)اخلاقی تربیت میں حدیث کا کردار: نبی کریم ﷺ کی بعثت کا مقصد ہی اخلاق کی تکمیل تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِترجمہ:مجھے اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔

(مسند احمد، حدیث نمبر: 8952 )

احادیث ہمیں سچائی، دیانت، صبر، برداشت، عدل اور رحم دلی جیسے اوصاف سکھاتی ہیں۔ مطالعۂ حدیث انسان کے کردار کو سنوارتا ہے اور اسے ایک بہتر انسان بناتا ہے۔

(6)معاشرتی اصلاح میں مطالعۂ حدیث: احادیثِ نبویہ معاشرتی زندگی کے اصول واضح کرتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِترجمہ:تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو۔(سنن ترمذی: کتاب المناقب،حدیث نمبر: 3895 ، سنن ابن ماجہ: کتاب النکاح،حدیث نمبر: 1977 )

(7)سیرتِ نبوی ﷺ کا فہم: حدیث کے ذریعے ہمیں نبی کریم ﷺ کی عملی زندگی کا ہر پہلو معلوم ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید میں فرمایا گیا: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ (سورۃ الاحزاب: 21)

یہ نمونہ ہمیں احادیث کے ذریعے ہی مکمل طور پر سمجھ میں آتا ہے۔

(8) حدیث قرآن کی عملی تفسیر ہے:رسول اللہ ﷺ خود قرآن کا عملی نمونہ تھے:وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ ترجمہ کنزالأیمان: اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کر دو۔(النحل: 44)یہ آیت واضح دلیل ہے کہ قرآن کی وضاحت حدیث کے ذریعے ہوگی۔

حدیث بعض قرآنی احکام کو محدود یا مخصوص کرتی ہےمثلاً:قرآن میں چوری کی سزا بیان ہوئی۔حدیث نے بتایا کہ:کس مقدار پر سزا ہوگی مجبوری اور بھوک میں سزا لاگو نہیں ہوتی۔

مطالعۂ حدیث قرآن کو سمجھنے، ایمان کو مضبوط کرنے، اخلاق سنوارنے اور زندگی کو سنت کے مطابق ڈھالنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ قرآن اور حدیث ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں۔ جو شخص حدیث سے دوری اختیار کرتا ہے، وہ درحقیقت قرآن کی روح سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔

لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ مطالعۂ حدیث کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنائے اور نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کر کے دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرے۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔