اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کی بنیاد قرآنِ مجید اور حدیثِ رسول ﷺ پر قائم ہے۔ قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور ‏حدیث نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریر کا مجموعہ ہے۔ قرآن اصول بیان کرتا ہے جبکہ حدیث ان اصولوں کی عملی ‏تشریح کرتی ہے۔ دورِ حاضر میں فکری انتشار، سوشل میڈیا کے فتنوں اور دینی کم فہمی کے سبب مطالعۂ حدیث کی اہمیت ‏پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

قرآنِ مجید سے حدیث کی اہمیت:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ(۷)ترجمہ کنزالایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔(الحشر:7)

یہ آیت واضح دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ کے اوامر و نواہی کی پیروی لازم ہے، اور یہی تعلیمات ہمیں حدیث کے ذریعے حاصل ‏ہوتی ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بہما: کتاب اللہ و سنتی

ترجمہ: میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گے اللہ کی کتاب ‏اور میری سنت۔(موطا امام مالک، کتاب القدر، حدیث: 1594 ، مراٰۃ المناجیح، مکتبۃ المدینہ)

ایک اور حدیث میں فرمایا:من رغب عن سنتی فلیس منیترجمہ: "جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔"( صحیح بخاری، کتاب النکاح، حدیث: 5063 ، اشعۃ اللمعات، شیخ عبد الحق محدث دہلوی)

دورِ حاضر میں مطالعۂ حدیث کی اہمیت:آج کے دور میں بدعات، غیر مستند بیانات اور فکری گمراہی عام ہو چکی ہے۔ مطالعۂ حدیث صحیح عقیدہ کی حفاظت، قرآن کو ‏درست طور پر سمجھنے، اخلاقی اصلاح اور امت میں اعتدال پیدا کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ نوجوان نسل کے لیے سیرتِ رسول ‏ﷺ بہترین نمونہ ہے جو حدیث کے بغیر ممکن نہیں۔مطالعۂ حدیث کے بغیر دین کی مکمل سمجھ ممکن نہیں۔ قرآن و حدیث لازم و ملزوم ہیں۔ دورِ حاضر کے فتنوں سے بچنے اور ‏سنتِ رسول ﷺ کو زندہ رکھنے کے لیے مطالعۂ حدیث نہایت ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حدیثِ رسول ﷺ کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔