نعمت
اللہ (درجہ عالیہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی، کراچی، پاکستان)
حدیث کے لغوی معنی، بات چیت ، خبر، گفتگو، کلام اور نئی
بات ہے ۔اصطلاحی معنی : حضور نبی
اکرم ﷺ کے اقوال افعال اور تقریر کو حدیث کہتے ہیں۔
حدیث کی اقسام :حدیث کی مندرجہ ذیل تین اقسام ہیں۔ (1)
حدیث قولی(2) حدیث فعلی(3) حدیث تقریری ۔
حدیث
قولی : وہ تمام تر روایات جس میں نبی کریم ﷺ نے کسی کام کے کرنے کا حکم دیا ہو قولی
حدیث کہلاتی ہے۔
حدیث
فعلی : ایسی روایات جن میں نبی کریم ﷺ کے فعل کا تذکرہ ہو حدیث فعلی کہلاتی ہے۔
حدیث
تقریری : ایسی روایت جس میں حضور اکرم ﷺ کے صحابہ کا وہ عمل درج ہو جو آپ ﷺ کے
سامنے کیا گیا ہو اور آپ ﷺ نے اس سے منع نہ فرمایا ہو، حدیث تقریری کہلاتی ہے۔
حدیث
اور سنت میں فرق:
(1) حدیث میں حضور اکرم ﷺ کے اقوال شامل ہوتے ہیں۔
(2)حدیث عام ہے یعنی حدیث کا اطلاق سنت سمیت قول اور فعل
پر کیا جاتا ہے، جب کہ سنت خاص ہے اور اس سے مراد آپ ﷺ کا طریقہ زندگی ہے ۔
حدیث کی
ضرورت اور اہمیت:یہ امر محتاج بیان نہیں
کہ احکام شریعت کا پہلا سرچشمہ قرآن عظیم ہے کہ وہ خدا کی کتاب اور قرآن ہی کی
صراحت کے بموجب رسول خدا کی اطاعت و اتباع بھی ہر مسلمان کے لئے لازم ہے کہ بغیر اس
کے احکام الہی کی تفصیلات کا جاننا اور آیاتِ قرآن کا منشا و مراد سمجھنا ممکن نہیں
ہے اس لئے لا محالہ حدیث بھی اس لحاظ سے احکام شرع کا ماخذ قرار پاگئی۔حدیث، رسول
خدا کے احکام و فرامین ان کے اعمال افعال اور آیات قرآن کی تشریحات و مرادات سے
باخبر ہونے کا ایک واحد ذریعہ ہے یہ بات ہر دین دار مسلمان کو معلوم ہے کہ دین کے
اصول و فروع ، عقائد و اعمال سب کی بنیاد قرآن واحادیث ہیں۔ اجماع امت اور قیاس کی
بنیاد بھی قرآن وحدیث ہی پر رکھی جاتی ہے اور اجماع و قیاس بھی قرآن وحدیث کے
فراہم کردہ اصول کے مطابق ہوں تبھی مقبول ہو سکتے ہیں ۔ جس طرح قرآن کے احکام پر ایمان
لانا اور ان پر عمل پیرا ہونالازم و ضروری ہے اسی طرح حدیث کے احکام پر ایمان لانا
اور ان پر عمل پیرا ہونا لازم و ضروری ہوتا ہے۔ احادیث کے انکار کے بعد قرآن پر ایمان
کا دعویٰ محض دعوی بلا دلیل ہوگا۔ اس لیے کہ قرآن مجید نے متعدد مقامات پر رسول کریم
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع کا حکم دیا ہے۔ کہیں رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت قرار دیا۔
ارشاد
باری تعالی ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ
فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہترجمہ
کنز الایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا ۔ (سورۃالنساء،
آیت: 80)رسولوں کی بعثت کا مقصد ہی یہی قرار دیا کہ ان کی اطاعت کی جائے ۔
بہت سے
وہ احکام ہیں جو قرآن مجید میں واضح طور پر مذکور نہیں ، صرف حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمائے اور وہ بھی قرآن کی طرح واجب العمل قرار پائے مثلاً:
(1) اذان ، قرآن پاک میں کہیں مذکور نہیں کہ نماز
پنجگانہ کے لیے اذان دی جائے مگر اذان عہد رسالت سے لے کر آج تک اسلام کا شعار رہی
ہے اور رہے گی۔(2) نماز جنازہ کے بارے میں قرآن میں کوئی حکم نہیں مگر یہ بھی فرض
ہے۔ اس کی بنیاد ارشاد رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہی پر ہے۔(3) بیت المقدس کو
قبلہ بنانے کا قرآن میں کہیں حکم نہیں مگر تحویل قبلہ سے پہلے یہی نماز کا قبلہ
تھا یہ بھی صرف ارشاد رسول ہی سے تھا۔(4) جمعہ وعیدین کے خطبے کا کہیں قرآن میں
حکم نہیں مگر یہ بھی عبادت ہے اس کی بنیاد صرف ارشاد رسول ہی ہے اور وہ بھی اس شان
سے کہ اگر اس میں کوئی کوتاہی ہوئی تو کوتا ہی کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی۔
یہ صرف
اسی بنا پر ہے کہ قرآن کی طرح ارشاد رسول پر بھی اعتقاد و عمل واجب ہے، اس میں بھی
کوتاہی کی وہی سزا ہے جو قرآن کے فرمودات میں کوتاہی کی ہے۔ خود غور کریں، ہمیں کیسے
پتہ چلا کہ قرآن خدا کی کتاب ہے، اس کا ماننا واجب ہے؟ یقیناً جواب یہی ہوگا کہ ہمیں
رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بتانے سے پتہ چلا ۔
اگر
رسول کا قول ہی نا قابل قبول ہو جائے تو کتاب اللہ کا کوئی وزن نہیں رہ جائے گا۔
قرآن کریم میں تمام چیزوں کا بیان ہے مگر ان میں کتنی چیز یں ایسی ہیں جو ہمارے لیے
مجمل اور مبہم ہیں مثلاً عبادات اربعہ یعنی نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج کو لے لیجیے۔قرآن
مجید میں ان سب کا حکم ہے۔ مگر کیا قرآن مجید سے ان عبادات کی پوری تفصیل کوئی بتا
سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ۔ قرآن نے عبادت کا حکم دیا اور حدیث سےعبادت کی کیفیت اور ہیئت کا پتہ چلا ہے۔
اصلاحِ
معاشرہ کے لیے اشتغال بالحدیث کی ضرورت:یہ
بات بالکل واضح سی ہے کہ نفوس کی اصلاح سے ہی پورے معاشرے کی اصلاح ہے۔ اس لیے
ہمارے ذاتی، شخصی، خانگی، خاندانی، علاقائی، ملی اور عالمی غرض ہمہ جہت مسائل کی
اصلاح کے لیے ہمیں اپنے پورے معاشرتی نظام میں کسی نہ کسی حد تک اشتغال بالحدیث کی
از حد ضرورتہے۔
حدیث
وسنت سے ناواقفیت اسلامی معاشرہ کے زوال کا سبب:اس
حقیقت پر اسلام او رمسلمانوں کی تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی حدیث وسنَّت کی کتابوں سے
مسلمانوں کے تعلق اور واقفیت میں کمی آئی اور طویل مدت تک یہ کمی باقی رہی تو داعیوں
اور اخلاق کی تربیت، نفوس کا تزکیہ کرنے والے روحانی مربیوں کی کثرت، دنیا میں زہد
اختیار کرنے اور کسی حد تک سنت پر عمل کرنے کے باوجود اس مسلم معاشرہ میں، جو علوم
اسلامیہ کے ماہرین اور فلسفہ وحکمت کے اساتذہ فن اور ادباء وشعراء سے مالا مال تھا
اوراسلام کے قوت وغلبہ اور مسلمانوں کی حکمرانی میں زندگی گزار رہا تھا، نت نئی
بدعتوں، عجمی رسم ورواج اور اجنبی ماحول کے اثرات نے اپنا تسلط قائم کر دیا، یہاں
تک کہ اندیشہ ہونے لگا کہ وہ جاہل، معاشرہ کا دوسرا ایڈیشن اور اس کا مکمل عکس بن
جائے گا اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی پیشن گوئی اور حدیث حرف بہ حرف ثابت
ہوئی”لتتبعنَّ سنن من قبلکم، شبراً
بشبر، وذراعاً بذراع“ ( صحیح البخاری، باب ماذکر عن بني إسرائیل، رقم الحدیث3456
)
یعنی
تم پچھلی امتوں کے راستوں پر قدم بہ قدم چلو گے۔ اس وقت اصلاح کی آواز خاموش اور
علم کا چراغ ٹمٹمانے لگے گا۔دسویں صدی ہجری میں ہندوستان کے دینی حالات اور
مسلمانوں کی زندگی کا جائزہ لیجیے، جب کہ برصغیر ہند کے علمی دینی حلقوں کا حدیث
شریف اور سنت کے صحیح مآخذ ومراجع سے تعلق تقریباً منقطع ہو گیا تھا، علمِ دین کے
مراکز اور حجاز ویمن، مصروشام کے ان مدارس سے جہاں حدیث شریف کا درس ہوتا تھا، کوئی
رابطہ نہ تھا اور کتب فقہ، اصول اور ان کی شروح اورفقہی باریکیوں اور موشگافیوں
اور حکمت وفلسفہ کی کتابوں کا عام چلن تھا، بہ آسانی دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح
بدعتوں کا دور دورہ تھا، منکرات عام ہو گئے تھے اور عبادتوں اور تقرب الی الله کی
کتنی نئی شکلیں اور نئے طریقے ایجاد کر لیے گئے تھے ۔(حدیث کا بنیادی کردار
ص31،32)
Dawateislami