قرآنِ کریم جس طرح ہمارے لیے حجت ہے، اسی طرح حدیثِ نبوی ﷺ بھی دینِ اسلام کا بنیادی ماخذ ہے۔ قرآنِ کریم نے خود حضور اکرم ﷺ کے فرامین اور آپ کی اتباع کو لازم قرار دیا ہے۔ لہٰذا جو شخص حدیث کو نظر انداز کرتا ہے، وہ درحقیقت قرآنِ کریم کی تعلیمات سے بھی انحراف کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنز الایمان:بے شک تمہارے لیے رسول اللہ کی پیروی بہترین نمونہ ہے۔(سورۃ الاحزاب: 21)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ امت کے لیے کامل نمونہ ہے۔ قرآنِ کریم کی عملی تفسیر ہمیں سیرتِ مصطفی ﷺ میں ملتی ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں، خواہ وہ عبادات ہوں یا معاملات، ہمیں رہنمائی اسوۂ رسول ﷺ سے حاصل ہوتی ہے۔رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی دراصل اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔ (سورۃ الحشر: 7)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے جب سوال کیا گیا کہ کن علوم میں مہارت حاصل کرنی چاہیے تو آپ نے فرمایا:جو شخص اصولِ فقہ اور اصولِ حدیث میں مہارت حاصل کر لے، وہ گمراہی سے محفوظ رہتا ہے۔( ملفوظات اعلیٰ حضرت ،صفحہ: 37)

یہ سوال بھی کیا جاتا ہے کہ جب قرآنِ کریم مکمل کتاب ہے تو حدیث کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ قرآنِ کریم کامل ہے، مگر اس کی تشریح و توضیح کے لیے ایک معلم کی ضرورت ہے، اور وہ معلم خود رسول اللہ ﷺ ہیں۔ حضور ﷺ کے سمجھانے کو ہی حدیث کہا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْترجمہ کنزالعرفان:اور اے محبوب! ہم نے تمہاری طرف یہ قرآن نازل فرمایا تاکہ تم لوگوں کے لیے بیان کر دو جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے۔(سورۃ النحل: 44)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ سنت اور حدیث کو اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ منکرینِ حدیث بھی عملاً سنت کو مانتے ہیں کیونکہ نماز کی رکعات، زکوٰۃ کا نصاب، حج کے طریقے اور دیگر کئی احکام قرآن میں تفصیل سے موجود نہیں بلکہ حدیث سے ثابت ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوشحال کرے جس نے میری بات سنی، اسے یاد رکھا، سمجھا اور آگے پہنچایا۔( مشکوٰۃ شریف، کتاب العلم، حدیث نمبر: 214)

احادیثِ نبویہ کی حفاظت کا کام عہدِ رسالت سے شروع ہو چکا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے احادیث کو یاد بھی کیا اور تحریر بھی کیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت انس رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ ہزاروں احادیث کے حافظ تھے۔

حدیث ہی سے ہمیں معرفتِ الٰہی حاصل ہوتی ہے، عبادات کا صحیح طریقہ معلوم ہوتا ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی ملتی ہے۔ اگر قرآن دماغ کی حیثیت رکھتا ہے تو حدیث دل کی حیثیت رکھتی ہے، اور ان دونوں کے بغیر مسلمان کی زندگی نامکمل ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَترجمہ کنز الایمان:اور وہ انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے۔(آلِ عمران: 164)

یہاں حکمت سے مراد حدیثِ نبوی ﷺ ہے، جو دینِ اسلام کی روح ہےحدیث مسلمانوں کی زندگی کا معیار اور مصلحین اُمّت کی تربیت گاہ حدیث نبوی ایک ایسا صحیح میزان ہے جس میں ہر دور کے مصلحین ومجددین اس امت کے اعمال وعقائد، رحجانات وخیالات کو تول سکتے ہیں اور امت کے طویل تاریخی وعالمی سفر میں پیش آنے والے تغیرات وانحرافات سے واقف ہو سکتے ہیں، اخلاق واعمال میں کامل اعتدال وتوازن اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتا جب تک قرآن وحدیث بیک وقت سامنے نہ رکھے جائیں، اگر حدیث نبوی کا وہ ذخیرہ نہ ہوتا جو معتدل، کامل ومتوازن زندگی کی صحیح نمائندگی کرتا ہے اور وہ حکیمانہ نبوی تعلیمات نہ ہوتیں اور یہ احکام نہ ہوتے جن کی پابندی رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اسلامی معاشرہ سے کرائی تو یہ امت افراط وتفریط کا شکار ہو کر رہ جاتی اور اس کا توازن برقرار نہ رہتا اور وہ عملی مثال نہ موجود رہتی، جس کی اقتدا کرنے کی خدا تعالیٰ نے اپنے فرمان میں ترغیب دی ہے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم نے جو کچھ لکھا اور بیان کیا، اللہ پاک اسے اپنی بارگاہِ اقدس میں قبول فرمائے۔ آمین، بجاہِ خاتمُ النبیین ﷺ۔